آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوڈیل بریگزٹ پلان پر عمل سے انتشار اور افراتفری کی ڈرامائی پیش گوئیاں

لندن (نیوز ڈیسک) نمبر 10سے جاری کردہ یلوہیمر نوڈیل پلان میں انتشار اور افراتفری کی ڈرامائی پیش گوئیاں موجود ہیں لیکن بورس جانسن نے پارلیمنٹ کی معطلی سے متعلق ای میلز اور ٹیکسٹ میسجز حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ڈیلی میل نے تازہ اشاعت میں اس بات کا انکشاف کیا ہے۔ اخبار کے مطابق وزیراعظم نےدارالعوام کی جانب سے پارلیمنٹ کی 5 ہفتوں کیلئے معطلی کے حوالے سے اپنے معاونین کی جانب بھیجے جانے والے ذاتی پیغامات اور ای میلز کو شائع کرنے کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے لیکن حکومت نے اس مقصد کیلئے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے ووٹنگ کے جواب میں نوڈیل کے بارے میں آپریشن یلو ہیمر کے حوالے سے نظرثانی شدہ ورژن جاری کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سےجاری کردہ ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ نوڈیل کی صورت میں دوائوں کی فراہمی میں تاخیر ہوگی، غیر قانونی ماہی گیر کشتیوں کا مسئلہ پیدا ہوگا، امن عامہ میں خلل پڑے گا، سرحدوں پر آمدورفت تاخیر کا شکار ہوگی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے کم آمدنی والے لوگ

خاص طورپر متاثر ہوں گے۔ اخبار کے مطابق سال رواں کے اوائل میں جب زیادہ تر ڈاکومنٹس لیک ہوئے تھے تو سرکاری افسران پر سنسنی پھیلانے کے الزامات عائد کئے گئے تھے، ابتدائی خبروں کے برعکس یہ تاثر دیا گیا تھا کہ نوڈیل کے تحت برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی صورت میں خوراک کی کوئی کمی نہیں ہوگی لیکن اشیا کی دستیابی اور اشیا کے انتخاب کے لئے موجود آپشنز میں کمی ہوجائے گی، اس کے باوجود ڈاکومنٹس میں، جس میں 20 کلیدی متوقعات سے، جن میں ایک پر جزوی طورپر نظر ثانی کی گئی ہے، نوڈیل کے حوالے سے بعض ایسے معاملات سامنے آئے ہیں، جو حقیقی معنوں میں انتہائی تشویشن کا باعث ہیں، جن میں بجلی کے نرخ میں اضافے، دوائوں کی برآمدات میں تاخیر، پورے برطانیہ میں احتجاجات کا سلسلہ اور مالیاتی سروسز سیکٹر میں گڑبڑ کا امکان شامل ہے۔ ڈومنک گریو کے نام خط میں مائیکل گوو نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی معطلی کے حوالے سے کلیدی معاونین، جن میں ڈومنک کمنگز شامل ہیں، کی جانب سے مواصلاتی رابطوں کو جاری کرنے کی درخواست نامناسب ہے اور اس کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے، بریگزٹ کے شیڈو وزیر سر کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ ان ڈاکومنٹس سے نوڈیل بریگز ٹ کی صورت میں سنگین خطرات کی تصدیق ہوگئی ہے۔ لیبر نے جس کو روکنے کیلئے سخت محنت کی ہے۔ حکومت کی جانب سے واضح انتباہات کو نظرانداز کرنا اور عوام کو شواہد دیکھنے سے روکنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ بورس جانسن کو اب یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ وہ نو ڈیل بریگزٹ کے نتائج کے حوالے سے برطانوی عوام سے مخلص نہیں ہیں۔ اس لئے اب یہ اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے اور ارکان پارلیمنٹ کو ڈاکومنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا موقع مل سکے اور وہ نوڈیل کوروکنے کیلئے ہر ممکن اقدام کرسکیں۔ ٹوری کے باغی ارکان میں سے ایک سابق وزیر تعلیم سام گئی ماہ نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ افشا ہونے والے ڈاکومنٹس پرانے نہیں ہیں۔ یہ خوف پھیلانے والے نہیں ہیں بلکہ اس میں سنجیدگی سے اس بات کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ نوڈیل کی صورت میں کیا ہوسکتا ہے۔ نوڈیل ایسی چیز نہیں ہے جو کسی نقصان کے بغیر ختم ہوجائے گا یا یہ سڑک پر کوئی بمپ نہیں ہے، یہ انتشار کا ایک حصہ ہے اور اس سے ملک کو طویل المیعاد بنیادوں پر نقصان پہنچے گا، ہمیں اس کو روکنا ہوگا۔ لیبر پارٹی کے قائد جیرمی کوربن نے ٹوئیٹ کی ہے کہ سرکاری ڈاکومنٹس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ بورس جانسن ان لوگوں کو سزا دینے کے درپے ہیں جو اس کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، وہ نوڈیل بریگزٹ کے ذریعے اپنے دولت مند دوستوں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ انھیں اس سے روکا جانا چاہئے لیکن بریگزٹ کے حامی نائجل فراج نے گزشتہ روز آئی ٹی وی پر بات کرتے ہوئے خوراک کی قلت کے خدشات کو لغو کہہ کر رد کردیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی بات نہیں دیکھی، وہائٹ ہال میں بیٹھے ہوئے اعلیٰ حکام کے برعکس میں نے زندگی کے 20 سال بین الاقوامی تجارت، چیزیں خریدنے اور فروخت کرتے اور ان کوپوری دنیا میں بھیجتے گزارے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں 100سے زیادہ فعال بندرگاہیں موجود ہیں، اس لئے ڈوور پر کوئی مسئلہ ہونے کی صورت میں ملک میں خوراک کی قلت پیدا ہونے کا تاثر قطعی غلط اور لغو ہے، یہ خوف پھیلانے کا پراجیکٹ اور قطعی بے بنیاد ہے۔

یورپ سے سے مزید