آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بچّے: ثانیہ فاطمہ، صالحہ فاطمہ، خدیجہ، آمنہ، حسین ابوالفضل، بارق رضا،

سرمد رضا، مسلم رضا، ایلیا رضا، بریا رضا ،ابراہیم لے آؤٹ: نوید رشید

فاروق انجینئر کی بچّوں سے متعلق ایک بہت خُوب صُورت سی نظم ہے ؎ ’’گل و گلزار، گہر، چاند ستارے بچّے.....رنگ و بُو، نور کے پیکر ہیں یہ سارے بچّے.....آئینے ہیں کہ دمکتے ہوئے چہرے اِن کے.....ایسے شفّاف کہ دریائوں کے دھارے بچّے.....کتنے معصوم کہ یہ سانپ پکڑنا چاہیں.....کتنے بھولے ہیں کہ چُھوتے ہیں شرارے بچّے.....آنے والوں کو بتادیتے ہیں گھر کی باتیں.....کب سمجھتے ہیں یہ آنکھوں کے اشارے بچّے.....خود سے دس بیس برس اور بڑے لگتے ہیں.....گھر بناتے ہوئے دریا کے کنارے بچّے.....گائوں جاتا ہوں تو چوپال کا اِک بوڑھا درخت.....بانہیں پھیلا کے یہ کہتا کہ آرے بچّے.....اب نہ وہ کھیل کھلونے، نہ شرارت فاروق.....کتنے خاموش، اکیلے ہیں ہمارے بچّے۔‘‘ واقعی، بچّے کسی دَور، کسی عہد کے ہوں، بچّے، بچّے ہی ہوتے ہیں۔ تب ہی تو ّعموماً دادا دادی، نانا نانی اور والدین اپنا بچپن، اپنے بچّوں میں ڈھونڈتے، دیکھتے ہیں۔ گو کہ دورِ حاضر کے بچّوں سے متعلق ایک عام رائے ہے کہ یہ اپنی عُمر کے مقابلے میں زیادہ بڑی باتیں کرتےہیں۔ وقت سے پہلے سنجیدہ، بڑے ہوجاتے ہیں۔ سادگی، معصومیت، بھولپن تو جیسے اب ان کا خاصّہ ہی نہیں رہے۔ 

حالاں کہ اگر بچّوں اور بچپن سے متعلق معروف مفکّرین کے اقوال پڑھیں تو وہ زیادہ تر سادگی، نادانی، معصومیت اور بھولپن ہی کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ مثلاً ’’بچپن کا مطلب ہے، معصومیت، تب ہی تو دنیا ایک بچّے کی آنکھ سے جس قدر خُوب صُورت نظر آتی ہے، کسی اور آنکھ سے ہرگز نظر نہیں آسکتی۔‘‘، ’’بچپن ایک ایسی سلطنت ہے، جہاں کوئی نہیں مرتا، جسے کبھی زوال نہیں آتا۔‘‘ ،’’جب بڑے ہوکر دل ٹوٹنے لگتے ہیں، تب اندازہ ہوتا ہے کہ بچپن کی ٹوٹی پینسلیں، نامکمل ہوم ورک اور چھلے ہوئے گھٹنے بھی کتنی بڑی نعمت تھے۔‘‘ ،’’بچپن تو گویا اِک مئے نوشی کی کیفیت ہے کہ اس میں جو کچھ بِیتتا ہے، صرف اُسے یاد نہیں رہتا، جس پر گزرتا ہے۔

 باقی سب کو یاد رہتا ہے۔‘‘ اور …’’آپ کے بچّے، آپ کے لیے ایک نئی دنیاکی تخلیق کےموجب بن جاتے ہیں۔‘‘ ،’’ایک بچّے سے پوچھیں، تو وہ کہے گا دنیا میں صرف سات نہیں، سات کروڑ عجوبے ہیں۔‘‘، ’’دنیا کا ہر بچّہ اپنی جگہ ایک رنگا رنگ، معطّر پھول ہے اور یہ سب پھول مل کر ہی ایک باغ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔‘‘ ، ’’بچّے صرف معصوم اور متجسّس ہی نہیں بلکہ بہت مثبت سوچ کے حامل، خوش باش اور بے فکر بھی ہوتے ہیں، مطلب ہم ساری عُمر جن چیزوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، وہ تو بچپن کے بے ریا دَور کے اجزائے ترکیبی ہیں۔‘‘

سیدھے سادے، بھولے بھالے، معصوم، چُلبلے، نٹ کھٹ، شوخ و چنچل بچّے ہوں یا جگنوئوں کو دن کی روشنی میں پرکھنے کی ضد کرتے چالاک، زیرک بچّے، ایک بات طے ہے کہ سب مَن کے بہت سچّے ہوتے ہیں۔ ؎ جس نے بھی کیں پیار سے باتیں.....ساتھ اُس کے ہولیتے ہیں.....دیو، پری کے قصّے سن کر.....بھوکے بچّے سولیتے ہیں۔ گرچہ اس برق رفتار، مشینی دَور، بدلتے وقت و حالات نے بچّوں سے اُن کا بچپن ہی نہیں، بڑوں سے ان کا بڑا پن بھی چھین لیا ہے، لیکن کچھ فطری بنیادی باتیں، خاصیّتیں کبھی نہیں بدل سکتیں، نہ انہیں کوئی چھین سکتا ہے۔ روزِ ابد تک زندگی کے ادوار بچپن، جوانی، بڑھاپا ہی رہیں گے، تو بچپن سے بھولپن، جوانی سے جوش و جنوں اور بڑھاپے سے ضعیفی و نحیفی کا تصوّر بھی جدا نہ ہوگا۔ 

اس تصویرِ کائنات میں رنگ، اگر وجودِ زن کے مرہون مِنت ہیں، تو اس میں زندگی، حرارت بچّوں ہی کے دَم قدم سے رہے گی(وہ عباس تابش کا شعر ہے ناں ؎ فقط مال و زر، دیوار و در اچھا نہیں لگتا.....جہاں بچّے نہیں ہوتے، وہ گھر اچھا نہیں لگتا)، جب کہ مرد کے بغیر تو تصویر ہی ادھوری، نامکمل ہے۔ سو، ازل سے زمانے کا جو چلن ہے، وہ چال بے ڈھنگی، بے ڈھب تو ہوسکتی ہے، مگر چلتی بہرحال رہے گی۔

؎ ’’اپنے دل میں گیند چُھپا کر اُن میں شامل ہوجاتا ہوں.....ڈھونڈتے ڈھونڈتے سارے بچّے میرے اندر آجاتے ہیں۔‘‘ تو آج کافی عرصے بعد ہم نے بھی ؎ ’’مَیں ہی بن جائوں گا کچھ دیر کو ان کے جیسا.....میرے بچّے مِرا بچپن تو نہیں بن سکتے۔‘‘ کے مثل ان پُھولوں، تتلیوں، جگنوئوں، تاروں کے اپنے ہی کچھ مخصوص خالص، اچھوتے اور مَن موہنے سے رنگ و انداز سے مرصّع، ایک بہت سندر و کومل سی بزم سجائی ہے۔

دیکھیے، ان کے پہناوے، ایکسیسریز ہی ان کی طرح رنگا رنگ، خوش نما اور دل آراء نہیں، ان کے مَن موجی انداز، حرکات، ادائیں اور شوخیاں شرارتیں بھی سیدھی دل میں اُترے جارہی ہیں۔ ظفر گورکھپوری نے کہا تھا ؎ ’’کسی معصوم بچّے کے تبسّم میں اُتر جائو.....تو شاید یہ سمجھ پائو، خدا ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ اور ندا فاضلی نے کہا ؎ ’’گھر سےمسجد ہےبہت دُور، چلو یوں کرلیں.....کسی روتے ہوئے بچّے کو ہنسایا جائے‘‘ تو آج آپ بھی اس بزم میں شامل ہوکر ان ننھے منّے، کِھلے کِھلے، مہکے مہکے، شگوفوں سے کچھ ر نگ و نور، روشنی و رنگینی، تازگی و شگفتگی اور ایک ’’بھرپور زندگی‘‘ حاصل کرنا چاہیں، تو کرسکتے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید