آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جب میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تب میں اپنے کمرے میں جمع کاٹھ کباڑ کی صفائی کرنے بیٹھ جاتا ہوں۔ کل رات میرے پاس دیکھنے کو خواب نہیں تھے۔ پکانے کے لئے میرے پاس خیالی پلائو نہیں تھے۔ ایسے میں اگر اپنے کاٹھ کباڑ کی جھاڑ پونچھ نہ کرتا تو اور کیا کرتا؟ الٹ پلٹ کرتے ہوئے مجھے ایک ایسی فائل دکھائی دی جسے میں برسوں سے تلاش کر رہا تھا۔ فائل میں ایک قدیم کتاب کے چند آخری صفحے تھے۔ وہ چند اوراق مجھے اسلام آباد کی آب پارہ مارکیٹ کے قریب جھگیوں میں لگنے والے کباڑ بازار سے ملے تھے۔ تب قدیم دور کی نایاب چیزیں وہاں ملتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہاں سے میں نے پانچ بتیوں سے جلنے والا لوہے کا بھاری بھرکم دیا خریدا تھا۔ آثار قدیمہ کے ایک پروفیسر نے حیرت سے دیے کا جائزہ لیتے ہوئے مجھے بتایا تھا کہ وہ دیا بدھ مت دور کا تھا۔ بدھ مت کا دیا میں نے بڑے پیار سے سنبھال کر رکھا تھا۔ دو وجوہ کی بنا پر میرا وجود پڑوسیوں کو کھٹکتا تھا۔ ایک یہ کہ میں چھڑا تھا، میں نہیں جانتا کہ اردو لغت میں لفظ چھڑا مروج ہے بھی یا نہیں۔ یہ ہم کراچی کے پرانے باسیوں کی زبان ہے بلکہ بولی ہے۔ چھڑا سے مراد ہے اکیلا، جس کے بال بچے نہ ہوں۔ لہٰذا ایک چھڑے کا، فیملی اور بال بچوں والی بلڈنگ میں رہنا کچھ پڑوسیوں کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ دوسرے یہ کہ میرے فلیٹ میں وہ لوگ مہاتما گوتم بدھ کی شبیہ، دیا، کراس یعنی صلیب اور کراس پر حضرت عیسیٰؑ اور سانولے سلونے کرشن کی مورتیاں ادھر آدھر آویزاں دیکھتے تھے۔ بک شیلف میں سلیقہ سے رکھی ہوئی کتابوں میں بائبل، توریت، دھم پد، گیتا اور گرو گرنتھ دیکھتے تھے۔ ایک روز پڑوسیوں کا ڈیلی گیشن یعنی وفد میرے پاس آیا۔ کہنے لگے دیکھو بھائی تمہارے اس بلڈنگ میں رہنے سے نئی نسل پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تمہاری شکایت کریں تم اس بلڈنگ سے نکل جائو۔

میں نے بدھ مت کے دور کا دیا، گوتم بدھ کی شبیہ، صلیب اور صلیب پر حضرت عیسیٰؑ، کرشن کنہیا، بائبل، توریت، گیتا اور گرو گرنتھ ایسی جگہ منتقل کر دیئے ہیں جہاں میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہوتا۔ اب نئی نسل پر ان کے منفی اثرات پڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب میں کرائے کے جس مکان میں رہتا ہوں اس میں خالی دیواروں پر میں نے ماضی بعید کے اداکاروں اور اداکارائوں کی تصویریں چپکا دی ہیں۔ گھر میں ایک جگہ کاٹھ کباڑ کا انبار جمع کر لیا ہے۔ اس کاٹھ کباڑ میں میرے کام کی چیزیں پڑی ہوئی ہیں۔ یہاں قدیم کتاب کے کچھ آخری اوراق دیکھ کر میں ماضی کی طرف لوٹ گیا۔ آب پارہ کے قریب کباڑ بازار کی ایک جھگی کے باہر میں تذبذب کے عالم میں کھڑا ہوا تھا۔ میرے ایک ہاتھ میں بدھ مت دور کا پانچ بتیوں والا لوہے کا دیا تھا اور دوسرے ہاتھ میں کسی قدیم کتاب کے آخری اوراق۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اوراق کس نوعیت کی کتاب کے ہو سکتے تھے۔ تب کسی نے پوچھا ’’یہ دیا آپ نے کتنے کا خریدا ہے؟‘‘۔

میں نے پلٹ کر دیکھا۔ میرے قریب ماہ پارہ کھڑی تھی۔ برسوں بعد میں نے اسے دیکھا تھا۔ اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ میں نے اسے پہچان لیا تھا۔ ریڈیو پاکستان کراچی میں ہم ایک دوسرے کے کولیگ تھے۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان کے صدر سردار دائود خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے مابین سرد جنگ عروج پر تھی۔ کابل ریڈیو سے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف افغان پرشین میں لگاتار گستاخیاں نشر ہوتی تھیں۔ براڈ کاسٹنگ منسٹری کی طرف سے ملنے والی ہدایات کے مطابق ماہ پارہ جواب لکھتی تھی اور وقت مقررہ پر اپنی آواز میں نشر کرتی تھی۔ ماہ پارہ ایرانی نژاد تھیں اور افغان پرشین پر عبور رکھتی تھیں۔ ملک کے کئی شاہجہاں، ماہ پارہ کو ممتاز محل بنانا چاہتے تھے اور اس کے لئے ایک تاج محل تعمیر کرنے کے خواہش مند تھے۔ ماہ پارہ کو موضوع بنا کر میں نے سندھی، اردو اور انگریزی میں بے شمار افسانے اور کالم لکھے جو کسی کے پلے نہیں پڑتے تھے، سوائے سرکار نامدار اور سی آئی ڈی والوں کے۔ اور پھر بھونچال آیا۔ پیروں، وڈیروں اور سرداروں کی سندھ حکومت کو میرا یہاں ہونا پسند نہ آیا۔ انہوں نے مرکزی سرکار کو لکھا کہ اس مجذوب کو واپس اسلام آباد بلا لو۔ سندھ میں اس شخص کے لئے ہمارے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مرکزی سرکار نے مجھے اسلام آباد بلا لیا۔ ان دنوں اسلام آباد کی آبادی ایک لاکھ سے کم نفوس پر مشتمل تھی۔ ہرسو عمارتیں اور روڈ راستے بن رہے تھے۔ شام کے بعد ہو کا عالم چھا جاتا تھا۔ وقت کاٹنے کی کوشش کرتا تو وقت کاٹنے کو دوڑ پڑتا۔ ایسے میں میرا زیادہ تر وقت آب پارہ کے قریب افغانیوں کے کباڑ بازار میں ماضی کی نایاب نشانیاں تلاش کرتے گزرتا تھا۔ ایک روز میرا ماضی میرے سامنے کھڑا تھا مگر میں اپنے ماضی کو یاد نہیں تھا۔ میرے ماضی نے مجھے بھلا دیا تھا۔ ماہ پارہ نے بدھ مت کا دیا میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا ’’بیچو گے؟‘‘۔ دیا واپس لیتے ہوئے میں نے کہا ’’یہ دیا میرا ماضی ہے۔ میں اپنا ماضی نہیں بیچتا‘‘۔ ماہ پارہ نے بے رخی سے کہا ’’دلچسپ آدمی لگتے ہو‘‘۔ میں نے سوچا جاتے ہوئے وہ پلٹ کر میری طرف دیکھے گی لیکن ماہ پارہ نے پلٹ کر میری طرف نہیں دیکھا۔