آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آئرن کی کمی اینیمیا کا باعث بنتی ہے

انسانی جسم میں خون کی کمی در اصل’سرخ خلیات کی کمی‘ کوکہا جاتا ہے۔ سرخ خلیات کی تباہی اور نئے خلیات کا نہ بن پانا، عام طور پر میڈیکل سائنس میں’اینیمیا‘کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اینیمیا کی ایک نہیں کئی اقسام ہیں جن میں سب سے عام آئرن کی کمی ہے۔ خون کے سرخ خلیوں میں پروٹین ہوتا ہے جوکہ ہیموگلوبن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہیموگلوبن، آئرن سے بھرپور پروٹین ہےجو پورے جسم میں آکسیجن پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ ہیموگلوبن جسم میں دو اہم افعال سرانجام دیتا ہے ۔

٭یہ پھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر اسے پورے جسم کے ٹشوز میں پہنچاتا ہے، اس طرح خلیات اپنا کام صحیح طرح سے انجام دے پاتے ہیں۔

٭ ہیموگلوبن خلیات سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لے کر پھیپھڑوں میں پہنچاتا ہے۔

انسانی جسم میں فولیٹ اور وٹامن B12کی کمی خون کے سرخ خلیات بننے کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ اگر آپ کے جسم کو مناسب مقدار میں وٹامن B12کی مقدار میسر نہیں ہوپارہی تو یہ کیفیت نقصان دہ حد تک جسم میں خون کی کمی پیدا کرسکتی ہے۔ اگر آپ اینیمیا کا شکار ہیں تو آپ کو ایسی خوراک کی ضرورت ہے، جس کے تحت جسم کو آئرن اور وٹامن B12کی کثیر مقدار مل سکے۔

اینیمیا ڈائٹ پلان

جسم میں خون کی کمی ہونے کی صورت میں طبی ماہرین غذائی تبدیلیاں تجویز کرتے ہیں اور ایسے مریضوں کے لیے آئرن اور وٹامنز پر مشتمل ایک ایسا ڈائٹ پلان ترتیب دیتے ہیں، جو ہیموگلوبن کے لیے ضروری اور خون کے سرخ خلیات کی تیاری میں مددگار ثابت ہوسکے۔ اس ڈائٹ پلان میں وہ غذائیں بھی شامل ہوتی ہیں، جن کے ذریعے انسانی جسم مناسب مقدارمیں آئرن کی مقدار جذب کرسکے۔ آئرن دو قسم کا ہوتا ہے ہیم آئرن اور نان ہیم آئرن۔

٭ہیم آئرن سمندری غذاؤں، پولٹری اور گوشت میں پایا جاتا ہے۔

٭ نان ہیم آئرن پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں اور آئرن پر مشتمل فورٹیفائیڈ غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔

ویسے تو انسانی جسم آئرن کی دونوں اقسام کو جذب کرسکتا ہے لیکن ہیم آئرن بآسانی جذب کرلیتا ہے۔ اگرچہ اینیمیا ڈائٹ پلان انفرادی نوعیت کے ہیں لیکن زیادہ تر ڈائٹ پلان میں انسانی جسم کو150سے200ملی گرام آئرن کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، آئرن کی اتنی مقدار کسی بھی انسان کے لیے حاصل کرنا بے حد مشکل ہوجاتا ہے، لہٰذا ذیل میں کچھ ایسی غذاؤں کا ذکر کیاجارہا ہے جن کا باقاعدگی سے استعمال جسم میں اینیمیا دور کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

ہرے پتوں والی سبزیاں

ہری خاص طور پرگہر ے سبز رنگ کے پتوں والی سبزیوں میں نان ہیم آئرن کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ ان میں پالک ،کرم کلا، ککروندا(گل قاصدی ) کے پتے، چقندر کے پتے وغیرہ شامل ہیں۔ ان سبزیوں میں فولیٹ کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، خوراک میں فولیٹ کی ناکافی مقدار بھی اینیمیا کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ 

ترش پھل اور پھلیاں بھی فولیٹ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ دوسری جانب ان سبزیوں میں آئرن کی بھی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ ان تمام خصوصیات کی بنا پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہرے پتوں والی سبزیاں جسم میں خون کی کمی پوری کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔

گوشت اور پولٹری غذائیں

گوشت اور مرغی میں ہیم آئرن پایا جاتا ہے۔ سرخ گوشت زیادہ مقدا رمیںہیم آئرن کا ذریعہ ثابت ہوتےہیں، اس کے برعکس مرغی اور دیگر پولٹری غذاؤں میں ہیم آئرن کی ناکافی مقدار پائی جاتی ہے۔

کلیجی

عام طور پر زیادہ تر افراد کلیجی کھانے سے گریز کرتے ہیں لیکن یہ آئرن حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ اگر کلیجی کو مناسب مقدار میں کھایا جائے تو یہ فائدہ مند غذاؤں میں سے ایک تصور کی جاتی ہے۔ اس میں آئرن اور فولیٹ کی وافر مقدار پائی جاتی ہےجبکہ زبان، گردے اوردل میں بھی آئرن کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے۔

سمندری غذائیں

سمندری غذائیں (سی فوڈ) بھی انسانی جسم کو ہیم آئرن فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ مچھلی کی مختلف اقسام میں آئرن کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ان اقسام میں سارڈین، ٹونا، سالمن اور قضندر نامی مچھلیاں شامل ہیں۔ سالمن میں آئرن اور کیلشیم کی وسیع مقدار پائی جاتی ہے۔

فورٹیفائیڈ خوراک

بہت سی فورٹیفائیڈ غذائیں وافر مقدار میں آئرن پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اگر آپ سبزی کھانا پسند کرتے ہیں تب بھی آئرن کے حصول کے لیے فورٹیفائیڈ خوراک استعمال کرسکتے ہیں۔ 

ان غذاؤں میں آئرن کے علاوہ وٹامن ڈی اور اضافی غذائیت بھی پائی جاتی ہے جو کہ ہڈیوں کی مضبوطی اور صحت کے لیے بھی بہترین ہوتی ہیں ۔ ان غذائوں میں فورٹیفائیڈ اورنج جوس، فورٹیفائیڈ سیریل، فورٹیفائیڈ آٹا (وائٹ بریڈ)، فورٹیفائیڈپاستا اور فورٹیفائیڈ سفید چاول شامل ہیں۔

پھلیاں

سبزی یا گوشت کھانے کے شوقین افراد کے لیے پھلیاں بہترین انتخاب ثابت ہوتی ہیں۔ چونکہ پھلیوں کی ایک نہیں کئی اقسام ہیں، لہٰذا اینیمیا ڈائٹ کے لیے ڈائٹیشن کڈنی بین،چنے، سویا بین، بلیک بین، مٹر اورلائما بین وغیرہ کو اپنی خوراک میں شامل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔

صحت سے مزید