آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تفہیم المسائل

سوال: ایک صاحب نے ہماری مسجد میں قالین عطیہ کیے،جن پر مُصَلّوں کا ڈیزائن بناہوا ہے ،جس میں نقش ونگار بنے ہوئے ہیں ۔پھر ایک دوسرے صاحب آئے ،جو اتفاق سے قالین عطیہ کرنے والے کے بھائی ہیں ۔انہوں نے قالین پر بنے نقش ونگار پر اعتراض کیا کہ یہ نقش جانوروں کی تصویر کے مشابہ ہیں ،لہٰذا اس پر نماز اداکرنا حرام ہے ۔وہ صاحب مسجد کے لیے دوسرا قالین خرید لائے اور اب مصر ہیں کہ پرانے قالین کو جلادیاجائے ۔ کیا مُصلّے پر موجود نقش ونگار تصویر کے حکم میں ہیں؟اب یہ قالین کسی دوسری مسجد میں دیے جاسکتے ہیں؟کیامسجد میں بالائی منزل پر مذکورہ قالین بچھائے جاسکتے ہیں ،(محمد اختر باجوہ ،کراچی)

جواب: یہ انسان کی نفسیات ہے کہ جب وہ ذہن میں ایک خاص سوچ پیدا کرکے کسی چیز کو دیکھتا ہے ،تو سامنے کے منظر سے اس کے ذہن پر وہی یا اس سے ملتی جلتی تصویرنقش ہوجاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ لوگ خلاء میں ،فرش پر اور مختلف اشیاء پر اپنے شعور پرثبت خیال کا عکس سمجھ لیتے ہیں ،نہ اس پر کسی طور تصویر کا اطلاق ہوسکتا ہے اور نہ اس پر تصویر کے احکام لاگو کیے جاسکتے ہیں ۔

نقش ونگار کے بے ترتیب جال سے تو کسی تصویر کو واضح نہیں کیاجاسکتا ، جس تصویر کی موجودگی میں نماز کے مکروہ ہونے کا حکم ہے ،اس کے لیے بھی لازم ہے کہ چہرہ بے تکلف نظر آتا ہو ۔علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’نمازی کے سامنے یا اوپر یا دائیں یا بائیں یا نمازی کے کپڑوں پر تصاویر ہوں ،تونماز مکروہ ہے اور جو تصاویر چٹائی وغیرہ پر ہوں، اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں: صحیح یہ ہے کہ اگر تصویر پر سجدہ نہیں ہوتا(یعنی تصویر مقامِ سجدہ پر نہیں ہے)تو مکروہ نہیں ، یہ حکم اس وقت ہے کہ جب تصویر اتنی بڑی ہو کہ دیکھنے والے کو بے تکلف نظر آئے ، ’’فتاویٰ قاضی خان ‘‘ میں اسی طرح ہے ،اگر تصاویر اتنی چھوٹی ہوں کہ دیکھنے والے کو غور کیے بغیر نظر نہ آئیں ،تو مکروہ نہیں اور اگر تصویر کا سر کٹا ہوا ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، (فتاویٰ عالمگیری ، جلد1،ص:107)‘‘۔

مذکورہ مُصلّے پر بنے نقش ونگار محض نقش ونگار ہی ہیں ، اُن پرتصویر کے احکام لاگو نہیں ہوتے اور اُن پر نماز کی ادائیگی میں کوئی خرابی لازم نہیں آتی ۔ اہلِ علم سے رائے لیے بغیر مذکورہ شخص کا نماز حرام ہونے کا فتویٰ صادر کرنا بڑی جسارت ہے ۔اب چونکہ پہلے قالین اٹھاکر ان کی جگہ نئے قالین بچھادیے ہیں ، اس لیے اٹھائے ہوئے قالین مسجد کی بالائی منزل یعنی فرسٹ فلور پر بچھادیا جائے ۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

اقراء سے مزید