آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایشیائی پس منظر کے حامل82 فیصد افراد کو خراب ذہنی صحت کی ابتدائی علامات کا سامنا

لندن (نیوز ڈیسک) پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے این ایچ ایس کے اشتراک سے لوگوں کو اپنی ذہنی صحت کے استعمال اور بہتر بنانے کے لئے بااختیار بنانے کا نیا طریقہ ایوری مائنڈ میٹرز شروع کیا ہے۔ سروے سے ثابت ہوا ہے کہ گزشتہ12ماہ کے دوران ایشیائی پس منظر کے حامل82فیصد افراد کو ذہنی دبائو، مزاج کے سست ہونے یا سونے میں مشکلات سمیت خراب ذہنی صحت کی ابتدائی علامات کا سامنا رہا۔ ڈیوک اور ڈچز آف کیمبرج اور ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس نے ایک خصوصی فلم میں بولنے کے ذریعے ایوری مائنڈ میٹرز کی حمایت کی ہے۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے این ایچ ایس کے اشتراک سے ذہنی صحت کی دیکھ بھال، ذہنی بہبود کو بہتر بنانے اور دوسروں کی مدد کرنے کے لئے سادہ اقدامات کرنے میں لوگوں کی مدد کے لئے ایوری مائنڈ میٹرز شروع کی ہے۔ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ذہنی صحت کی دیکھ بھال اچھی جسمانی صحت کی طرح اہم ہے۔ پی ایچ ای کے نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ12ماہ کے دوران ایشیائی پس منظر کے حامل82فیصد افراد کو ذہنی دبائو، مزاج کے سست ہونے یا سونے

میں مشکلات سمیت خراب ذہنی صحت کی ابتدائی علامات کا سامنا رہا۔ یہ علامات زندگی کے چیلنجوں کے لئے فطری رسپانس ہوسکتی ہیں اور اگر لوگ اقدامات نہ کریں تو مزید سنگین ہوسکتی ہیں اور بہت سارے بہت زیادہ انتظار کرتے ہیں۔ 28فیصد افراد نے ذہنی سدھار کے لئے قدم اٹھانے میں کم از کم6ماہ انتظار کیا، جبکہ69فیصد نے جنہوں نے اس قدر انتظار کیا خواہش ظاہر کی کہ وہ ایسا جلد کرلیتے، اس قدر انتظار کرنے والے69فیصد افراد نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ذہنی صحت کے لئے کیا اقدامات کرنے ہیں۔ پی ایچ ای سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ ایشیائی پس منظر کے حامل47فیصد افراد نے جن کو اپنی ذہنی صحت کے بارے میں خدشات لاحق تھے سماجی مواقع یا دوستوں اور اہل خاندان سے رابطے سے اجتناب کیا۔ ذہنی صحت کے بارے میں خدشات کے حامل40فیصد افراد غیر صحت بخش رویوں جیسے اسموکنگ، شراب پینے، غیر صحت بخش کھانے اور لطف انگیز دوائوں کی طرف راغب ہوئے۔ تقریباً24فیصد افراد کام سے غیر حاضر رہے جن لوگوں نے اقدامات کئے یعنی36فیصد نے یہ اس وقت کیا جب ان کا روزمرہ زندگی پر اثر پڑا۔ ایوری مائنڈ میٹرز میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ زندگی کے اتار چڑھائو کے لئے بہتر طور پر تیار رہنے کے لئے آسان اقدامات کرسکتے ہیں، نیا پلیٹ فارم جس کی رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز نے توثیق کی ہے، لوگوں کو ذہنی دبائو، مزاج کی خرابی، نیند کو بہتر بنانے اور کنٹرول میں رہنے کے لئے اپنی خود دیکھ بھال کے اقدامات کے لئے لوگوں کو ذاتی ایکشن پلان بنانے کے قابل بنائے گا۔ ایوری مائنڈ میٹرز کے فروغ کے لئے خصوصی فلم رچرڈ کرٹس نے تحریر کی ہے جبکہ ہدایت رین کن نے دی ہے اور اسے ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج اور ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس نے اپنی زبان دی ہے، اس میں دکھایا گیا ہے کہ ہم کس طرح اپنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کرسکتے ہیں۔ اس کارگو فلم میں معروف چہروں نادیہ حسین، گلین اینڈرسن، گلین کلوز فریڈی فلنٹوف، پروفیسر گرین، ڈیونیامک کال، جورڈن اسٹیفنز ول ینگ، سر بریڈلی وگنز، سارہ ٹیلر، روب بیکت، کیٹی پائپر، جوسگ او السٹیٹر کیمپبل کی کاسٹ سمیت وہ افراد شامل ہیں جن کی زندگی خراب ذہنی صحت سے متاثر ہے۔ ہیلتھ سیکٹری میٹ ہین کوک نے کہا ہے کہ ہماری صحت ذہنی اور جسمانی دونوں اثاثہ ہیں جن کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے، ہم جسمانی صحت کی دیکھ بھال کے فوائد اور خود کو صحت مند رکھنے کے طریقوں سے واقف ہیں۔ تاہم بہت سارے ذہنی صحت کے بارے میں صاحب علم سرگرم نہیں، ایوری مائنڈ میٹرز ایک بٹن دبانے پر ہم سب کو قابل رسائی ٹول کے ذریعے ہماری بہبود کو برقرار رکھنے میں مدد دے کر فائدہ پہنچائے گی۔ یہ ذہنی صحت کے عارضے کے ساتھ رہنے والے افراد کو اہم مدد فراہم کرے گی۔ پی ایچ ای کے سینئر ڈائریکٹر فار دی ایسٹ مڈ لینڈز مینگ خا نے کہا ہے کہ ہماری بہبود کے لئے ذہنی اور سماجی صحت مساوی اہمیت کی حامل ہیں، ہم میں سے بہت سارے اچھی جسمانی صحت برقرار رکھنے کے اقدامات کے بارے میں پراعتماد ہیں، کبھی کبھی لوگوں کو علم نہیں ہوتا کہ ذہنی صحت کے لئے کہاں رجوع کرنا ہے اور انہیں مسرت ہے کہ ایوری مائنڈ میٹرز اب دستیاب ہے، یہ ایک بٹن دبانے سے قابل رسائی ٹول کے ذریعے ہر ایک کو ذہنی دبائو، بے چینی، سست مزاج اور سونے میں دشواری جیسے روزمرہ کے مسائل سے نمٹنے کے لئے مدد کرکے فائدہ پہنچائے گی، کیونکہ اچھی ذہنی صحت کا حامل ہونا ہر ایک کا حق ہے، خواہ اس کا پس منظر کچھ بھی ہو۔ ٹی وی ڈاکٹر رانج سنگھ نے کہا کہ پبلک انگلینڈ کے تازہ ترین ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم سب اپنی زندگی میں کسی مرحلے پر خراب ذہنی صحت سے متاثر ہوں گے۔ بہرحال ہم سب خاص طور پر اقلیتی کمیونٹیز خود کو درست مدد تک رسائی کے قابل نہیں سمجھتے اور اس لئے وہ جنوب ایشیائی کمیونٹیز کے اندر ہر ایک شخص سمیت تمام ملک کی اپنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لئے بااختیار ہونے کو محسوس کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں گے اور اس کی ابتدا ایوری مائنڈ میٹرز ویب سائٹ کی وزٹ سے کرسکتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید