آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارتی پنجاب سے آئے سکھ یاتریوں کی پُرنم آنکھوں کو دیکھ کریہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ باباگرونانک کے گردوارے میں آکر یہ کس قدر روحانی خوشی محسوس کررہے ہیں۔ پاکستان نے دنیا بھر میں موجود چودہ کروڑ سکھوں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا مذہبی مقام تعمیر کرکے اُن کے دل جیت لیے۔ 

بھارتی پنجاب کے شہر لدھیانہ سے آئے ہوئے لجپال سنگھ بتارہے تھے کہ پاکستان آکر بہت خوشی محسوس ہوئی یہاں کے لوگ بہت نرم دل اور مہمان نواز ہیں یہاں ہمیں کسی طرح سےبھی تنگ نہیں کیا جارہا اور صرف پینتالیس منٹ میں ہم کرتارپور سے کاغذی کارروائی پوری کرکے گردوارے پہنچ جاتے ہیں تاہم بھارت میں ہماری سخت اسکریننگ کی جاتی ہے۔ 

ہمیں ایک مہینہ پہلے کرتار پور جانے کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے پھر ہمارے بارے میں تحقیقات کرکے ہمیں اجازت ملتی ہے اور تاریخ بتائی جاتی ہے کہ اس تاریخ کو ہم پاکستان جا سکتے ہیں اور آخری دن تک ایسا لگتا ہے کہ شاید ہمیں روک نہ لیا جائے لیکن بہر حال آج ہم یہاں پہنچ چکے ہیں اور بہت خوشی محسوس کررہے ہیں۔ 

سکھ یاتریوں کے ایک گروپ نے مجھے باباگرونانک سنگھ کے تین بنیادی پیغامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ باباگرو کی تعلیمات میں سب سے اہم ایک خدا کو ماننا ہے وہ وحدانیت پر بھرپور یقین رکھتے تھے جبکہ دوسرا اہم پیغام محنت سے رزقِ حلال کمانا ہے۔ 

بابا گرونانک خود بھی کھیتی باڑی کرتے تھے اور ہمیشہ ہی رزقِ حلال کمانے کی تلقین کیا کرتے تھے اور تیسرا اہم پیغام ہے بانٹ کر کھانے کا یعنی جو بھی کمائیں وہ آپس میں مل بانٹ کر کھائیں۔ 

اس فلسفے کا بنیادی اصول خودغرضی سے بچنے کا سبق ہے۔ بابا گرونانک کی وفات کے حوالے سے مقامی صحافی نبی احمد فراز نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بابا گرونانک کو جتنا سکھ مانتے ہیں اتنا ہی باباجی مسلمانوں اور ہندوئوں میں بھی مقبول تھے، وہ سکھ مذہب کے بانی تھے ان کے مذہبی بیانات ایک کتاب کی صورت میں موجود ہیں۔ 

باباگرونانک کی وفات کے بعد ایک تنازعہ جس نے جنم لیا وہ ان کی آخری رسومات کا تھا یعنی ہندو ان کی ہندو طریقہ کار کے مطابق آخری رسوم ادا کرنا چاہتے تھے جبکہ مسلمان انھیں اسلامی طریقہ کارکے تحت دفنانا چاہتے تھے تاہم وفات کے بعد ان کا جسدِ خاکی غائب ہوگیا اور ان کی چارپائی پر موجود ایک چادر اور کچھ پھول مقامی انتظامیہ کی جانب سے مسلمانوں کے حوالے کیے گئے جبکہ ایک اورچادر اور کچھ پھول ہندوئوں کے حوالے کیے گئے جسے ہندوئوں نے اپنے طریقہ کار کے تحت جلایا اور مسلمانوں نے اپنے طریقہ کار کے تحت دفنایا۔ 

آج بھی گردوارہ میں باباگرونانک کی دو آخری آرام گاہیں ہیں ایک مسلمانوں کی تعمیر کردہ ہے اور دوسری ہندوئوں کی۔ زیارت کے لیے آنے والے سکھ دونوں یادگاروں پر نظرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں، گردوارہ میں باباجی کے دور کا کنواں بھی موجود ہے جس سے وہ کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ 

حکومت پاکستان نے بھی اب پاکستان کی جانب سے جانے والے عقیدت مندوں سے دوسو روپے کا ٹکٹ وصول کرنا شروع کردیا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے آنے والے یاتریوں سے بیس ڈالر وصول کیے جاتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج بھی سکھوں سے زیادہ مسلمان گردوارے کی زیارت کے لیے موجود تھے۔ میں اس کرتارپور اور گردوارے کی زیارت سے واپس آچکا ہوں۔ 

حیران ہوں اپنی حکومت اور اپنے اداروں کی شاندار کارکردگی پر جنھوں نے دن رات محنت کرکے دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ اتنی خوبصورتی اور اعلیٰ معیار کے ساتھ تعمیر کیا، اب مجھے اس بات کا بھی یقین ہوگیا ہے کہ اگر حکومت اور ادارے چاہیں تو پاکستان میں برسوں سے نامکمل پڑے منصوبے بھی آسانی سے مکمل ہو سکتے ہیں جن میں پشاور کا بی آرٹی منصوبہ سب سے اہم ہے جو وزیراعظم کے درجنوں دعوئوں کے باوجود نامکمل ہے بلکہ اپنی قیمت سے کئی گنا زیادہ رقم بھی صرف کروا چکا ہے۔ 

جس کے بعد لاہور اورنج ٹرین کا منصوبہ ہے جسے جان بوجھ کو ذاتی مفادات کے لیے مکمل کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ صرف یہی نہیں سندھ کے عوام تو اپنی حکومت سے سوال کررہے ہیں کہ ہمیں اور ہماری اولادوں کو گلی کے آوارہ کتوں سے کون بچائے گا؟ کیا اس کے لیے بھی ہمیں وفاقی حکومت اورفوج کی خدمات حاصل کرنے کی درخواست کرنا پڑے گی۔ 

افسوس اور تکلیف کا مقام یہ ہے کہ ہمارے معصوم بچوں کا یہ آوارہ کتے منہ چبا جاتے ہیں لیکن سرکاری اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کا انجکشن موجود نہیں ہوتا اور بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ 

ایک بچے کو بچاتے ہوئے اس کا باپ کتوں کا نشانہ بن کر جان کی بازی ہار گیا کہ اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کی ویکسین ہی نہیں۔ 

غرض ایک طرف ہماری حکومت سکھ برادری کے لیے ناممکن کاموں کو ممکن بنارہی ہے دوسری جانب اپنے غریب عوام کو آوارہ کتوں سے بچانے سے بھی قاصر ہے۔ خدارا حکومت اور ادارے کراچی کے عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم پر بھی توجہ دیں جن کا کوئی والی وارث نظر نہیں آتا۔