آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

چوہدری برادران اور بیرونِ ملک پاکستانی سیاست!

چوہدری برادران کی سیاست دشمنی کی نہیں، دوستی اور وضعداری کی ہے۔ نواز شریف سے انہیں بہت سے گلے شکوے ہیں لیکن میاں صاحب کی موجودہ تشویشناک علالت پر انہوں نے پچھلا کوئی بدلہ چکانے کے بجائے انسانیت کا ثبوت دیا اور انہیں علاج کیلئے باہر جانے کی حمایت کی۔ میاں صاحب کی جلاوطنی کے دوران حمزہ شہباز پاکستان ہی میں رہ گئے تھے مگر چوہدری برادران نے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی بلکہ میاں برادران کے ملازمین اور ان کے متعلقین کے ساتھ بھی وہی رویہ رکھا جو ایک صاحب ِ ظرف انسان کا ہونا چاہئے۔ چوہدری شجاعت حسین حالانکہ بیمار ہیں مگر ان کا سیاسی ذہن پوری طرح صحت مند ہے۔ اسی طرح چوہدری پرویز الٰہی نے سلیم صافی کو جو انٹرویو دیا اس میں بھی حلاوت تھی، حالانکہ وہ تھوڑے بہت غصیلے ہیں مگر وہ جانتے ہیں کہ ایک خاندان جو اس وقت پوری طرح زیر عتاب ہے اور اس خاندان کے سربراہ کی بیماری شوکت خانم کے ڈاکٹروں کے نزدیک بھی تشویشناک ہے انہوں نے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے ان پر مرہم رکھنے کی کوشش کی۔ شہباز شریف البتہ انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتے اور اس کا اظہار انہوں نے اس انٹرویو میں بھی کیا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے لئے یہ بہترین موقع تھا کہ جب اس کے سربراہ نے ہر طرف سے میاں نواز شریف کی پُراسرار بیماری کی تصدیق کر لی تھی، وہ اپنا پرانا انتقامی امیج تبدیل کر کے مسلم لیگیوں کے دل میں بھی اپنی جگہ بنا سکتے تھے مگر افسوس انہوں نے اس موقع پر بھی زہر بجھے تیر چلائے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وزیر اعظم عمران خان کو کبھی اس ابتلا میں مبتلا نہ کرے اور وہ صحت مند رہتے ہوئے صحت مند سیاست کریں کہ اسی میں ان کا فائدہ ہے اور اسی میں ملک کی فلاح ہے۔ میاں صاحب کے لندن پہنچنے پر وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں نے میاں صاحب کے گھر کے باہر ان کے خلاف نعرے لگائے حالانکہ کسی دشمن سے بھی اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس سے حساب چکانے کے لئے اس کی علالت کے خاتمے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ ایک اور بات جو میں محسوس کرتا ہوں وہ کسی ایک پارٹی کے حوالے سے نہیں بلکہ بیرونِ ملک پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کی شاخوں کے حوالے سے ہے۔ میرے خیال میں جو پاکستانی ترکِ وطن کر چکے ہیں اور اب انہوں نے اپنے نئے وطن سے وفاداری کا حلف اٹھا لیا ہے، انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی پاکستانی سیاسی رہنما کے لئے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگائیں کیونکہ اگر کوئی جماعت برسرِ اقتدار ہے، اس کی غلط معاشی پالیسیوں سے ان کو قطعاً کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ ملک میں رہنے والے پاکستانی اس کی زد میں آئیں گے___ یورپ اور امریکہ میں رہنے والے پاکستانی وہاں کی نعمتوں اور راحتوں کا لطف اٹھاتے رہیں گے اور ہم جنہوں نے ہر طرح کے حالات میں ظالم نظام کے ساتھ جنگ یہیں رہ کر لڑنے کا فیصلہ کیا، ہمیں دکھ ہوتا ہے جب الٹا ہمیں طعنے دیئے جاتے ہیں۔ مجھے یہاں اقبال ساجد مرحوم کا ایک شعر یاد آ رہا ہے؎

جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں

ہمارا حوصلہ دیکھو، ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

تو میرے دوستو، تم دیارِ غیر میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کی خدمت کر سکتے ہو (اور بہت سے معاملات میں ہمیشہ کرتے بھی ہو) تم پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو دفع کرو، ان کے لیڈروں کو بھول جائو، صرف پاکستان کا امیج بیرونِ ملک بہتر بنانے کی کوشش کرو۔ ہمارے خلاف نہایت گھٹیا پروپیگنڈہ انڈین لابی کر رہی ہے، انہیں اس کا منہ توڑ جواب دو۔ پاکستان میں ایسے اداروں کے قیام میں مدد دو جن اداروں سے تم وہاں فیض یاب ہو رہے ہو۔ پاکستان کے لئے لیڈروں کا انتخاب ہم خالص پاکستانیوں پر چھوڑ دو۔ ہم ان لیڈروں کو ہمیشہ اٹھا کر اقتدار سے باہر پھینک دیتے ہیں، جو ہمارے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں۔ میرے بہت پیارے بھائیو یہ کام تم نہیں کر سکتے کیونکہ بہت سے معاملات میں ہمارے اور تمہارے مفاد میں تضاد پایا جاتا ہے۔ آخر میں، میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش کروں گا کہ وہ بیرونِ ملک اپنی شاخیں ختم کر دیں کیونکہ انڈیا یہ کام بہت پہلے کر چکا ہے۔