آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پارٹنر! سب سے پہلے تو آپ کیلئے دعا۔ اے اللّٰہ! اے تمام لوگوں کے ربِّ کریم! نعیم بھائی کی تکلیف کو دور فرما دے۔ 

انہیں شفا دے کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری طرف سے دی گئی شفا ہی اصل شفا ہے۔ انہیں ایسی شفا عطا فرما جو ان کا ہر درد اور ہر تکلیف دور کر دے۔

اپنے کرم کی حفاظت عطا کر

مولا مریضوں کو صحت عطا کر

اب آتا ہوں مسائلِ دنیا کی طرف۔ معاملاتِ حکومت پر کچھ گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔ پہلے بھی ایک بار گزارش کی تھی کہ کپتان کے آس پاس دو نمبر لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ 

اُس کا کوئی سدباب کیجئے۔ ایک آدھ فنکار تو چل جاتا ہے مگر زیادہ نہیں۔ اس وقت پھر ایک پروفیشنل شخص یوسف بیگ مرزا نے استعفیٰ دے دیا۔ یقیناً کچھ غیر پروفیشنل لوگوں نے انہیں اِس انتہا تک پہنچا دیا کہ انہوں نے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا۔ پچھلے گیارہ بارہ سال ہر مشکل میں جس نے ساتھ دیا، آج وہ سب کچھ تیاگ کر گھر چلا گیا ہے۔

وقتِ سحر بجھا کے دیے انتظار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

وہ تو بزبانِ سوداؔ ’’بلا کشانِ محبت جو ہوا سو ہوا‘‘ مگر اس کی جگہ ایک ایسے شخص کو میڈیا ایڈوائزر بنانے کی افواہیں گردش رہی ہیں جس نے عمران خان اور عثمان بزدار کے خلاف باقاعدہ سازش کی اور پکڑا گیا۔ میرے مہربان دوست! اُس نے پتا نہیں آپ جیسے سمجھدار شخص کو کیسے شیشے میں اتار رکھا ہے۔ 

کئی ماہ سے دوسری چیزوں کی طرح اسے بھی آپ نے اپنے دفتر کے صوفے کے ایک کونے پر رکھا ہوا ہے اور گل حمید نیازی جیسے لوگ بلیو ایریا کے دفتر میں دفن پڑے ہیں۔ گل حمید بھی تو آپ کا بڑا پیارا بھائی ہے۔ اس کی طرف نظرِ کرم کیوں نہیں اٹھتی۔ پارٹنر! مہربان خاتون کو بھی بتا دیجئے کہ جسے کیچوا سمجھ کر وہ پال رہی ہیں وہ کیچوا نہیں سانپ ہے، سب سے پہلے انہی کو ڈنگ مارےگا۔

موسموں کی تبدیلی معجزے دکھاتی ہے

جسم ایک رہتا ہے سر بدلتے رہتے ہیں

ارتقا کے پردے میں کیا عجیب صورت ہے

ہم نہیں بدل سکتے، پر، بدلتے رہتے ہیں

پارٹنر! چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ ’’ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے، کوئی یہ نہ سمجھے حکمراں جماعت بری الذمہ ہے، دوسرے محاذ کی طرف جا رہے ہیں، یکطرفہ احتساب کا تاثر دور کریں گے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ تیس پینتیس سال میں کیا کرپشن ہوئی اور یہ جو بارہ چودہ مہینے ہیں ان میں کیا کرپشن ہوئی۔ اب ڈیل ہو گی نہ ڈھیل، کسی کو این آر او نہیں ملے گا‘‘۔ 

اور اس کا سبب بھی آپ کو معلوم ہے کہ عمران خان نے خود کہا ہے کہ میرے اردگرد موجود اشخاص میں کوئی بھی شخص جو ابھی کرپشن کر رہا ہے یا جس نے پہلے کرپشن کی ہے، اس کی گرفتاری پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ایسی صورتحال میں ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ مت ہونے دیجئے جو کسی لمحے بھی قانون کے شکنجے میں آ سکتے ہیں۔ بے شک

جمع ہو جاتے ہیں سورج کا جہاں سنتے ہیں

برف کے لوگ مری بات کہاں سنتے ہیں

پارٹنر! ایک ظلم عظیم پہلے بھی ہو چکا ہے۔ ایک وزیر جس نے بڑی کرپشن کی عمران خان تک رپورٹس پہنچیں تو انہوں نے اس سے وزارت کا قلمدان واپس لے لیا مگر ہوا یہ کہ جسے جیل میں ہونا چاہئے تھا اسے ایک بڑا عہدہ سونپ دیا گیا۔ عمران خان سے کہا گیا کہ اس کے متعلق ایجنسیوں نے جو رپورٹس دی ہیں ان میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ 

اس لئے اسے عہدہ دے دیا جائے۔ نعیم بھائی ذرا سوچئے کہ اب جب وہ گرفتار کیا جائے گا تو دنیا کیا کہے گی؟

غلط کام کرنے پہ رونا پڑے گا

مرے دوست! شرمندہ ہونا پڑے گا

پارٹنر! بے شک عمران خان نے مخدوم خسرو بختیار کا محکمہ تبدیل کرکے انہیں وزیر نیشنل فوڈ اینڈ سیکورٹی بنا دیا ہے یعنی مرسیڈز کار واپس لے کر اسے رکشا دے دیا گیا ہے مگر وہ وزیر ہی ہے نا۔ 

وزیر وزیر ہوتا ہے چاہے وزیرِ بے محکمہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا دوسرا بھائی پنجاب کا وزیر خزانہ ہے۔ یہ بھی کوئی کم حیثیت کی وزارت نہیں۔ نیب زدگان کی فہرست پہلے بڑی طویل ہے۔ پلیز اس کی طوالت اور نہ بڑھائیں۔

پارٹنر! معاملات بڑے خراب ہیں۔ کارکن مایوس ہیں۔ انہیں صرف ایک بات کی خوشی تھی کہ چلو کپتان نے اور کوئی وعدہ پورا نہیں کیا مگر لٹیروں کو تو جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ اب وہ بھی کوٹ لکھپت سے نکل کر ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں پہنچ چکے ہیں۔ 

ایک اینکر نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’’نواز شریف کے ساتھ غلط ہمدردی کی گئی، اس پر وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس اور تمام ڈاکٹر قوم سے معافی مانگیں کہ ان کی جانب سے ایک غلط ہمدردی کی لہر پیدا کی گئی۔ نواز شریف ہشاش بشاش اور دندناتے ہوئے بیرونِ ملک گئے جبکہ ان کے ساتھ جانے والے دوسرے بیمار لگ رہے تھے‘‘۔ 

حمزہ شہباز کی ضمانت ہونے والی ہے۔ مریم نواز نے بھی دسمبر میں لندن پہنچنا ہے۔ عوام مہنگائی کے ہاتھوں بلبلا رہے ہیں۔ گڈ گورنس کا فقدان ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت جس ایک پیج پر ہیں اس پر لکھی ہوئی ساری تحریر ’’گھچ مچ‘‘ ہو چکی ہے۔

کشتیاں بیچ میں چلتی ہی نہیں ہیں منصورؔ

اک تعلق ہے کنارے سے کنارے جیسا

پارٹنر! میری تمام گزارشات پر ٹھنڈے دل سے غور کیجئے گا۔ آپ کی صحت کیلئے دعاگو!

آپ کا منصور آفاق

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)