آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پیارے ساتھیو! 20 نومبر کو بچوں یعنی آپ کا علمی دن منایا گیا تھا۔ یقیناََ آپ میں سے بہت سے بچوں کے اسکولوں میں اس حوالے سے تقریبات بھی ہوئی ہوں گی ۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا گیا۔ سرچ انجن گوگل نے بھی اپنا ڈوڈل ننھی دنیا کے نام کردیا۔اس دلچسپ ڈوڈل میں ننھے کرداروں کو مختلف سرگرمیاں کرتے دکھایا گیا تھا۔ آج ہم آپ کو بتا تے ہیں کہ اس دن کو منانے کی ابتداء کب ہوئی اور اس کو منانے کا مقصد کیا ہے۔

یونیسکو نے بعض موضوعات کو اجاگر کرنے اور عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف دنوں کا انتخاب کیا اور اس دن اس موضوع کی مناسبت سے سیمینار، ورکشاپ، کانفرنسیزاور نمائش کااہتمام کیا جانے لگا۔ جیسے ’پانی کا عالمی دن‘، عالمی لٹریسی ڈے‘، عالمی ماحولیاتی ڈے‘، ماں کا عالمی دن، باپ کا عالمی دن،مردو کا عالمی دن ،مادری زبان کا عالمی دن اوراسی طرح بچوں کا عالمی دن۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 1954 ء میں20 نومبر کو بچوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا ۔ 

اس قرارداد کو Declaration of the Rights of the Childکہا گیا ،جس کا بنیادی مقصد بچوں کی فلاح وبہبود کو اور معاشرہ میں بچوں کے حقوق کو اجاگر کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کی اس تجویز کا دنیا کے تمام ہی ممالک نے خیر مقدم کیا۔ اس دن کو منانے کی ابتداء 1989 میں ہوئی، اس دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے منظور شدہ حقوق کااعلان کیا ۔جس کے بعد 20نومبر 1990کو دنیا کے تقریباً 186 ممالک نے بچوں کے عالمی دن کی منظور شدہ حقوق کے مطابق باضابطہ حمایت کر کے اسے قانونی شکل دے دی اور ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن ہر ملک اپنے اپنے طور پر بچوں کے حوالے سے منانے لگے۔ 

پاکستان میں بھی اقوام متحدہ کی اس قرار داد کو لبیک کہتے ہوئے ہر سال 20نومبر کو بچوں کے عالمی دن کا اہتمام کیا جانے لگا۔ سرکاری اور نجی شعبے میں قائم فلاحی تنظیمیں بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے پروگرام ترتیب دیتی ہیں۔ بچوں کا عالمی دن منانے کے مقاصد تو بے شما ر ہیں ،جن میں بنیادی طور پر بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا، بے گھر بچوں کو بھی دیگر بچوں جیسی آسائشیں مہیا کرنا اوّل ترجیح ہے، لیکن خصوصی طور پر ان کی تعلیم، صحت ، تفریح اور ذہنی تربیت کے حوالے سے شعور اجاگر کیاجاتا ہے، تاکہ بچے مستقبل میں معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔ 

اس دن اسکول اور تعلیمی ادارے بچوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کے لئے خصوصی تقریبات منعقد کرتے ہیں، اور اساتذہ اپنے شاگردوں میں تحریک پیدا کرتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ ان میں اور دنیا کے دوسرے بچوں میں کیا فرق ہے، اور وہ کس طرح خود کو تعلیمی و سماجی لحاظ سے بہتر بنا سکتے ہیں۔

بچے کسی بھی گھر کے آنگن کی چھاؤں اور سکون ہوتے ہیں ، لیکن افسوس کے پاکستان میں نہ تو بچوں کی جسمانی صحت قابل فخر ہے اور نہ ہی ان کے حقوق سے متعلق سماجی آگہی۔پاکستان میں اس وقت بچوں سے چھوٹی فیکٹریوں، ہوٹلوں،کارخانوں، اینٹوں کے بھٹوں اور دوسرے کاروباری مراکز میں مشقت لی جارہی ہے جو سرا سرظلم ہے۔ معصوم بچوں سے مشقت کی حوصلہ شکنی کرنا اور چائلڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے بچوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے کنوینشن کے مطابق پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

یہی وجہ ہے کہ بچوں کے رویے روز بروز پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں،ہمیں ایک دن بچوں کا عالمی دن منا کر خاموش نہیں بیٹھناچاہئے بلکہ عملی طور پر سارا سال ان بچوں کے لئے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنی نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے کام کرنا ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے،ہمیں اپنے بچوں کو وہ تمام بنیادی حقوق مہیا کرنے ہوں گے جن سے وہ محروم ہیں۔جو والدین کسی مجبوری کے باعث بچوں کو تعلیم نہیں دلو اسکتے یا معاشی مسائل کے سبب بچوں سے پر مشقت کام کروانے پر مجبور ہیں، حکومت کو ان بچوں پر خصوصی توجہ دینی چائیے اور ان بچوں کو زیور تعلیم سے آرا ستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا وظیفہ مقرر کرنا چائیے۔

پیارے ساتھیو!آپ کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،اپنے اطراف میں دیکھیں بہت سے بچے جو محنت مزدوری کرتے ہیں، ان کا بھی دل چاہتاہوگا پڑھنے لکھنے کو آپ فارغ وقت میں ان کو پڑھائی میں مدد کر سکتے ہیں ۔ اپنے اطراف میں دیکھیں بہت سے بچے تو کچرے میں سے کھانے کی چیزیں ڈھونڈ کر کھاتے ہیں کیا کریں بھوک ہے ہی ایسی چیز، اگر آپ اپنے کھانے میں سے ان بچوں کو بھی کھلا دیں گے تو اس کا بڑا ثواب ملے گاکمی نہیں ہو گی بلکہ خوب برکتیں حاصل ہوں گی۔ اگر معاشرے کا ہر طبقہ اپنا کردار ادا کرے توڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر نہیں ہوں ۔ بھوکے پیٹ سڑک کے کسی کنارے سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے نہیں سوئیں گے۔