آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سری لنکا کے نومنتخب صدر کیلئے قومی اتحاد بڑا چیلنج

سری لنکا کے نومنتخب صدر کیلئے قومی اتحاد بڑا چیلنج
گوتا بایا راجا پاکسے ہاتھ ہلا کر اپنے حامیوں کو جواب دے رہے ہیں،دوسری تصویر میں اپنے بڑے بھائی اور نو منتخب وزیرِ اعظم، مہندا راجا پاکسےسے مصافحہ کرتے ہوئے

سری لنکا میں گوتا بائے راجا پاکسے نے عُہدۂ صدارت سنبھال لیا ہے ۔ وہ آیندہ 5برس تک جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے سنگم پر واقع ایک چھوٹے سے جزیرے کے سیاہ و سفید کے مالک ہوں گے۔ سری لنکن الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق، حالیہ انتخابات میں انہوں نے 52.25فی صد ووٹ حاصل کیے، جب کہ ان کے حریف، سجیت پریما داسا کے حصّے میں 42فی صد ووٹ آئے اور نتائج سامنے آتے ہی انہوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ 16نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سری لنکا کی تاریخ کا ہنگامہ خیز چُناؤ تھا، کیوں کہ اس موقعے پر سری لنکن عوام کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا وہ مردِ آہن کا تاثر رکھنے والے سابق جرنیل، گوتابائے راجا پاکسے کو اپنا صدر منتخب کریں گے یا معتدل مزاج اور لبرل سیاست دان، پریما داسا کو۔ ان انتخابات کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ تھی کہ رواں برس اپریل میں سری لنکا میں رُونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں 250سے زاید افراد ہلاک ہوئے تھے اور سری لنکن عوام ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکلے۔ 

سری لنکن باشندے عمومی طور پر پُر امن ہیں، حالاں کہ اس مُلک کو 2009ء میں تامل ٹائیگرز کی شکست کی صُورت 22سالہ طویل خانہ جنگی سے نجات ملی۔ نو منتخب صدر نے اپنی وکٹری اسپیچ میں عوام سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا کہ وہ رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر اپنی قوم کی خدمت کریں گے ۔ تاہم، یہ کام کسی چیلنج سے کم نہ ہو گا۔ گوتا بائے راجا پاکسے، نو منتخب وزیرِ اعظم اور سابق صدر، مہندا راجا پاکسے کے چھوٹے بھائی ہیں، جنہوں نے 22سالہ خانہ جنگی کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ نو منتخب صدر کے اپنے بڑے بھائی کو وزیرِ اعظم چُننے کے فیصلے پر تنقید ہو رہی ہے اور اسے اقربا پروری قرار دیا جا رہا ہے۔ 

سری لنکا کے نومنتخب صدر کیلئے قومی اتحاد بڑا چیلنج
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایرانی شہری سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کر کے احتجاج کررہے ہیں

واضح رہے کہ انتخابی مُہم کے دوران مہندا ہر جگہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ دکھائی دیتے تھے اور پریس کانفرنسز میں سوالات کے جوابات بھی دیتے رہے۔ تاہم، جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک کی طرح سری لنکا میں بھی خاندانی سیاست کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں وزیرِ اعظم، بندرا نائیکے کے قتل کے بعد ان کی بیوہ، مسز بندرا نائیکے اُن کی جانشین بنی تھیں۔ 

البتہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ چھوٹا بھائی منصبِ صدارت اور بڑا بھائی وزارتِ عظمیٰ کے عُہدے پر فائز ہے۔ واضح رہے کہ گوتا بائے اپنے بڑے بھائی کی کابینہ میں وزیرِ دفاع کے عُہدے پر فائز تھے اور انہوں نے تامل ٹائیگرز کو کچلنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات عاید کرتی ہیں، جنہیں وہ سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

سری لنکا کے نومنتخب صدر کیلئے قومی اتحاد بڑا چیلنج
سپریم لیڈر، آیت اللہ خامنہ ای

سری لنکا میں بودھ مت سنہالی باشندوں کی اکثریت ہے اور 2کروڑ 16لاکھ کی مجموعی آبادی میں ان کا تناسب 74فی صد ہے، جب کہ 11فی صد آبادی تامل باشندوں اور 10فی صد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔یہاں مقیم تامل باشندے بھارتی تامل نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ مسلمان اُن عرب مسلمانوں کی اولاد ہیں کہ جو اموی دَورِ خلافت میں تجارت کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ اُس زمانے میں سری لنکا کو ’’سراندیپ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد بن قاسم ایک لڑکی کی پکار پر سندھ آئے تھے، جس کا تعلق بھی سراندیپ ہی سے تھا۔ خیر، دیگر غیر اسلامی ممالک کی طرح سری لنکا میں مقیم مسلمانوں کو بھی ’’مُورز‘‘ کہا جاتا ہے۔ 

سری لنکا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 60لاکھ ہے، جن میں سے 83فی صد نے انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ نو منتخب صدر کا گڑھ سنہالی علاقے ہیں، جب کہ تامل اور مسلم اکثریتی علاقوں میں پریما داسا مقبول ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں پریما داسا پر سری لنکن عوام نے اس لیے اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد خانہ جنگی کے نتیجے میں معاشرے میں پیدا ہونے والی تقسیم ختم کرناچاہتے تھے۔ گرچہ اس مرتبہ سری لنکن ووٹرز نے امن و امان کی صورتِ حال کو زیادہ اہمیت دی، لیکن نو منتخب صدر نے بھی اتحاد پر زور دیا ہے۔ چوں کہ حالیہ انتخابات سے قبل سری لنکن عوام پر خوف کے گہرے سائے لہرا رہے تھے، چناں چہ گوتا بائے کا مردِ آہن کا تاثر کام کر گیا۔ 

سری لنکا کے نومنتخب صدر کیلئے قومی اتحاد بڑا چیلنج
ایرانی صدر، حَسن روحانی

پھر انہوں نے اپنے منشور میں بھی قومی سلامتی کو فوقیت دی تھی اور عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی صُورت عدم استحکام برداشت نہیں کریں گے۔ یہاں یہ تکلیف دہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ سری لنکا میں انتہا پسند بِھکشوئوں نے مسلم اقلیت کے خلاف نفرت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ناقدین اس انتہا پسندی کا سبب برما میں روہنگیا مسلمانوں سے روا رکھے جانے والے نفرت آمیز رویّے کو قرار دیتے ہیں۔ 

برما کے بھِکشو مسلم اقلیت کے اکثریت میں بدلنے سے خائف ہیں، جو ایک احمقانہ، گُم راہ کن اور خطرناک سوچ ہے۔ ہر چند کہ سری لنکن مسلمان سیاست سے دُور رہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی رواں برس مُلک میں رُونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے ان کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ اس وقت نہ صرف ان سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، بلکہ ان پر طرح طرح کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ البتہ گوتا بائے کی آمد کے بعد انہیں کچھ بہتری کی توقّع ہے۔

سری لنکا کا دوسرا اہم مسئلہ کم زور معیشت ہے۔ اس کے پاس قدرتی وسائل کی فراوانی ہے اور نہ ہی یہ خطّے کے اپنے جیسے دوسرے ممالک کی طرح صنعتی طور پر ترقّی یافتہ ہے۔ سری لنکا کی آمدنی کا بڑا ذریعہ سیّاحت ہے اور اس کے ساحل تفریحی سہولتوں کے باعث پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی طرح سری لنکا بھی برطانیہ کی نو آبادی رہا اور آزادی کے بعد بھی اس نے یورپ سے بہترین تعلقات قائم رکھے، جو اس کی تعمیر و ترقّی میں ممد و معاون ثابت ہوئے۔ تاہم، خانہ جنگی کے دوران یورپ ہی کی طرف سے اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے شدید الزامات عاید کیے گئے اور راجا پاکسے برادران کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ 

گزشتہ دَورِ حکومت میں سری لنکا نے چین سے اپنے تعلقات بڑھائے اور یہاں چین کے تعاون سے ایک بندر گاہ بھی تعمیر کی جا رہی ہے، جس کی بہ دولت یہ جزیرہ تاریخی وَن بیلٹ، وَن روڈ منصوبے میں شامل ہو گیا ہے۔ توقّع کی جا رہی ہے کہ اس شمولیت کے نتائج جلد ہی معیشت میں بہتری کی شکل میں نظر آئیں گے۔ دوسری جانب معیشت کے اعتبار سے بھی نو منتخب صدر سے اُن کے ووٹرز کی بے حد امیدیں وابستہ ہیں۔ 

گرچہ اپنے بڑے بھائی کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز کرنے کی وجہ سے اُن پر تنقید ہو رہی ہے، لیکن اس عمل سے انہیں مطلوبہ اقتصادی اصلاحات میں آسانی ہو گی۔ البتہ اس مقصد کے لیے انہیں پوری قوم کو یک جا کرنا ہو گا، تاکہ وہ تمام تر تلخیاں بُھلا کر اپنی پوری توجّہ مُلک کو ترقّی یافتہ بنانے پر مرکوز کر سکیں۔ پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات ہمیشہ ہی خوش گوار رہے ہیں اور حکومت کی تبدیلی کبھی ان پر اثر انداز نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ایران میں ایک مرتبہ پھر ہنگامے پُھوٹ پڑے ہیں اور اس کا سبب امریکی اقتصادی پابندیوں کی شکار لاغر ایرانی معیشت ہے۔ ایران میں پیٹرول کی فراہمی میں مزید سختی کرتے ہوئے اس کی قیمت میں فوری طور پر 50فی صد اضافہ کر دیا گیا ہے، جب کہ ایک ماہ کے دوران60لیٹر زسے زاید تیل خریدنے پر بھی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ 

حیران کن بات یہ ہے کہ ایران تیل پیدا کرنے والا دُنیا کا چوتھا بڑا مُلک ہے اور حال ہی میں ایرانی صدر، حَسن رُوحانی نے یہ انکشاف کیاہے کہ ایران میں 50ارب بیرل تیل کا نیا ذخیرہ دریافت ہوا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ تہران میں 15نومبر کو ہزاروں گاڑیوں کو سڑکوں پر روک کر شروع کیا گیا، جب کہ سیکوریٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک شدگان میں پاس دارانِ انقلاب اور بسیج فورس کے3اہل کار بھی شامل ہیں۔ 

واضح رہے کہ پاس دارانِ انقلاب اور بسیج فورس کو ایرانی انقلاب کا محافظ تصوّر کیا جاتا ہے۔ نیز، یہ فورسز داخلی سلامتی کے علاوہ بیرونِ مُلک ایرانی مفادات کی نگہبانی بھی کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں بشار الاسد کی افواج کی مدد کرنے پر ان پر بے حد تنقید کی گئی۔ مذکورہ بالا فورسز کو ایرانی سپریم لیڈر، آیت اللہ خامنہ ای کی اَشیر باد حاصل ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی سرکاری دفاتر اور متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے علاوہ سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچایا۔ صدر حَسن رُوحانی نے اس احتجاج کا ذمّے دار امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب کو قرار دیتے ہوئے ان کے سامنے جُھکنے سے انکار کر دیا۔ 

اُن کا کہنا ہے کہ ’’سختی کا سبب غریب افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج اور ہنگاموں میں فرق ہوتا ہے۔ ہم ایرانی معاشرے میں بے یقینی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘ دوسری جانب اقوامِ متّحدہ نے ایرانی سیکوریٹی فورسز سے مظاہرین پر گولیاں چلانے اور مظاہرین سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز کی اپیل کی ہے۔ احتجاجی مظاہرے شروع ہوتے ہی ایران میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ، جو تا حال بند ہے۔ 

ایرانی خبر رساں ایجینسی، فارس کے مطابق، اب تک ایک ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جب کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد 3ہزار بتائی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق، مظاہرین نے کم و بیش ایک سو بینکوں اور تقریباً 60دُکانوں کو بھی نذرِ آتش کیا۔ ایران کے سرکاری ذرایع کا دعویٰ ہے کہ صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا ہے۔

2015ء میں عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدے کے بعد ایران کی کم زور معیشت کچھ توانا ہونا شروع ہوئی تھی، لیکن نومبر 2018ء اور رواں برس مئی میں امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کے بعد معاشی صورتِ حال مزید بگڑ گئی۔ ان پابندیوں کی وجہ سے ایرانی کرنسی کی وقعت مزید کم ہو گئی اوراس وقت ایک یو ایس ڈالر 42,300 ایرانی ریال کے مساوی ہے۔ اس وقت ایران کے تیل کی تجارت پر بھی پابندی عاید ہے، جس کی وجہ سے دُنیا کے تقریباً تمام ممالک ہی اس سے سے لین دین سے گریز کرتے ہیں۔ 

گرچہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے طاقت وَر یورپی ممالک تا حال جوہری معاہدے کا حصّہ ہیں، مگر یورپ کی کثیر القومی کمپنیاں امریکا جیسی بڑی مارکیٹ کھونے کے ڈر سے ایران کے ساتھ کاروبار کا خطرہ مول لینے پر آمادہ نہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد امریکا نے پاس دارانِ انقلاب اور اس کی ذیلی شاخوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے کر ان پر پابندی عاید کر دی ۔ پاس دارانِ انقلاب کی اقتصادی قوّت کا ایران میں بڑا چرچا ہے۔ تاہم، بیرونِ مُلک موجود اپنے اثاثے منجمد ہونے اور اعلیٰ حُکّام کی بیرونِ مُلک روانگی پر پابندی کی وجہ سے اب یہ مشکلات سے دوچار ہے۔ پابندی کے باعث اس کی کارروائیاں محدود ہوتی جا رہی ہیں اور اسے بیرونِ مُلک ایرانی مفادات کو فروغ دینے میں بھی دشواریوں کا سامنا ہے۔

ایران میں عدم استحکام اسلامی دُنیا کے لیے نیک شگون نہیں، کیوں کہ اس وقت اس کے زیرِ اثر ممالک میں بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مثال کے طور پر عراق میں وزیرِ اعظم، عادل عبد المہدی کی نوزائیدہ حکومت خوںریز مظاہروں کے سبب سنبھل نہیں پا رہی۔ یاد رہے کہ گزشتہ 17برسوں کے دوران ایران اور اس کی ملیشیاز عراق کی اندرونی سیاست میں براہِ راست ملوّث رہیں۔ تاہم، بغداد میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایران کے خلاف اپنے جذبات کا کُھل کر اظہار کیا۔ اسی طرح لبنان بھی عدم استحکام سے دوچار ہے اور وہاں حزبُ اللہ کو ایران کی نمایندہ تنظیم تصوّر کیا جاتا ہے۔ 

شام بھی، جہاں ایران نے بشار الاسد کے حق میں براہِ راست فوجی مداخلت کی، نازک دَور سے گزر رہا ہے۔ علاوہ ازیں، یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سعودی تیل تنصیبات پر حملوں نے ایران کی مشکلات میں اضافہ کر دیا اور اب یہ مسلسل اپنا دفاع ہی کر رہا ہے۔ تاہم، حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مُلک میں سخت گیر مذہبی عناصر کے اثر و رسوخ کے باوجود ایرانی صدر گزشتہ دو ماہ کے دوران کم و بیش چار مرتبہ اپنے عرب ہم سایہ ممالک کو امن کی پیش کش کر چکے ہیں۔ اس ضمن میں حَسن روحانی کا ماننا ہے کہ امریکا سے تعلقات کو پس پُشت ڈال کر ایران اور اس کے پڑوسیوں کو تعلقات بہتر بنانے کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے، لیکن گزشتہ 8برسوں میں بالخصوص شام میں رُوس کی مدد سے ایران کی فوجی پیش قدمی نے عربوں کو اس سے دُوری اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ 

ایران نے شاید شام میں فتح تو حاصل کر لی، لیکن اس کی وجہ سے اب تُرکی، سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک اس پر بھروسا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پھر تیل تنصیبات پر حملے کے بعدایرانی خطرے کو جواز بنا کر امریکا نے سعودی عرب کی حفاظت کے لیے وہاں اپنی فورسز تعینات کر دیں ، جب کہ قطر، کویت، اُردن اور متّحدہ عرب امارات میں پہلے ہی امریکا کے فوجی اڈّے قائم ہیں۔ 

نیز، بحرِ روم اور آبنائے ہُرمز میں امریکا کے طیّارہ بردار بحری بیڑے موجود ہیں۔ تاہم، ایرانی و امریکی صدور وقتاً فوقتاً دو طرفہ مذاکرات کی پیش کش کرتے رہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ امریکا اور شمالی کوریا کی طرح امریکا ، ایران تعلقات پر جمی برف بھی اچانک پگھلنا شروع ہو جائے۔