آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سائنس دانوں نے بچوں کو الرجی سے بچانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا

سائنس دانوں نے بچوں کو الرجی سے بچانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا


بچوں کی حفاظت اور ان کی بہتر نشو نماوالدین کی سب سے بڑی فکر ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے لیے وہ ان کی صحت کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنی سکون کا بھی خیال کرتے ہیں۔

بچوں کے لیے کسی غذا کا استعمال کیا جانا چاہیے جس سے انہیں ایلرجی سے محفوظ رکھا جائے؟ اس حوالے سے نئی تحقیق سامنے آگئی۔

ڈاکٹروں کی جانب سے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ بچوں کو ماں  کا دودھ دیا جانا چاہیے، لیکن سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ جیسے ہی بچے 3 ماہ کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں مونگ پھلی بھی دینی چاہیے۔

کنگز کالج لندن اور سینٹ جارج یونیورسٹی آف لندن کے محققین نے اپنی ریسرچ کے لیے ایسے 1300 بچوں کا انتخاب کیا جنہیں الرجی ہونے کا خطرہ تھا جس کے بعد ان کی تین سال تک نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

ان بچوں کی ماؤں کو ہدایات دی گئیں کہ جب ان کے بچے 3 یا 6 ماہ کے ہوجائیں تو وہ انہیں مونگ پھلی اور انڈوں جیسی ایلرجینک غذائیں دیں۔

اس تحقیق کے نتائج میں یہ بات اخذ کی گئی کہ چند ماہ کے بچوں کو ایلرجینک غذائیں کھلانے سے ان میں موجود الرجی کے نقصانات کم ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح سے اس چند ماہ کے بچے کو انڈے کھلانے سے اس غذا کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو کم کیا جاسکتا ہے۔

کنگز کالج لندن اور سینٹ جارج یونیورسٹی آف لندن کے محققین کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے الرجی کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ہر 40 میں سے ایک نوجوان کو مونگ پھلی سے الرجی ہوتی ہے جبکہ ہر 20 میں سے ایک کو انڈے کی وجہ سے الرجی کا سامنا ہے۔

دونوں ہی صورتحال انسانی جان کے لیے خطرہ ہیں جبکہ مونگ پھلی سے ہونے والی الرجی فوڈ الرجی کی وجہ سے ہونے والی اموات میں سے ایک ہے۔

مونگ پھلی سے الرجی اس وقت ہونا شروع ہوتی ہے جب انسان کا نظام مدافعت مونگ پھلی کے پروٹینز کو خطرناک سمجھنے لگتا ہے۔

تحقیق کے لیے منتخب کیے گئے بچوں کی الرجی سے متعلق پہلے ٹیسٹ کیے گئے اور پھر انہیں دو گروپس میں تقسیم کردیا گیا۔

پہلا گروپ وہ جنہیں 3 ماہ کے دوران ہی انڈا اور مونگ پھلی کھلانا شروع کردی گئی جبکہ دوسرا گروپ وہ جسے معمول کے مطابق غذائیں دی جاتی رہیں۔

دونوں گروپس کو تین سال تک نوٹس کیا جاتا رہا تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ کیا ایک سے 3 سال کی عمر کے بچوں میں کوئی طویل مدتی الرجی پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟

تحقیق میں سامنے آیا کہ 3 ماہ کی عمر میں الرجینک غذائیں لینے والے بچوں میں مونگ پھلی کی الرجی پیدا ہونے کی شرح 19 اعشاریہ 2 فیصد تھی جبکہ معمول کے مطابق غذا لینے والے بچوں میں 33 اعشاریہ 3 فیصد تھی۔

اسی طرح ایسے بچے جنہیں انڈے سے الرجی کا سامنا تھا جب انہیں غذا میں انڈا دیا گیا تو ان میں الرجی پیدا ہونے کی شرح 20 فید تھی جبکہ معمول کے مطابق غذا لینے والے بچوں میں یہ شرح 48 اعشاریہ 7 فیصد تھی۔

سینٹ جارج یونیورسٹی کے ایک محقق ڈاکٹر مائیکل پرکن کا کہنا تھا کہ ہماری تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ بچوں کو جتنا جلدی ہوسکے الرجینک غذا کا سامنا کروائیں تاکہ الرجی کی اس وبا کو کم کیا جاسکے۔ 

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید