آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈیزل پر 45 پٹرول پر 35 روپے لٹر ٹیکس لینے کا حکومتی اعتراف

ڈیزل پر45‘ پٹرول پر35 روپے لیٹر ٹیکس لینے کا حکومتی اعتراف


اسلام آباد(نمائندہ جنگ، نیوز ایجنسیاں) گرفتار ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پرجمعہ کے روز اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھرایوان میں احتجاج اور واک آؤٹ کیا، حکومتی اتحادی سردار اختر مینگل بھی ان کے ساتھ تھے، آصف زرداری اور شاہد خاقان عباسی اسمبلی نہیں آئے، جبکہ وقفہ سوالات میں فراہم کردہ پٹرولیم ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے ایک سال میں پٹرولیم ٹیکسوں کی مد میں 206 ارب 28 کروڑروپے عوام کی جیبوں سے نکلوالیے۔ 

حکومت ڈیزل پرفی لیٹر 45 روپے 75 پیسے، پٹرول پر 35 روپے، مٹی کے تیل پر 20 روپے اورلائٹ ڈیزل پر 14 روپے 98 پیسے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے آغاز پر ہی مسلم لیگ ن کےبرجیس طاہر نے بات کرنے کی اجازت مانگی لیکن انہیں اجازت نہ ملی، جس پر برجیس طاہر نے کہا کہ رانا ثناء اللّہ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جارہے اس لیے ہم ایوان سے واک آوٹ کرتے ہیں۔ 

ڈپٹی اسپیکر نے تحریک انصاف کے ممبرسے کہا کہ جائیں اپوزیشن کو منا کر لائیں، وفاقی وزراء مراد سعید اور عمر ایوب نے اپوزیشن کو منانے کے لئے وزیر مملکت علی محمد خان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا، اس کے بعد وہ پیپلز پارٹی کے نوید قمر کو ساتھ لے کر اپوزیشن کے پاس گئے تاہم حکومت اپوزیشن کو منانے کے ساتھ ،کورم پورا کرنے میں بھی ناکام رہی اس دوران حامد حبیب نے کورم کی نشاندہی کر دی، جس پر ڈپٹی سپیکر نے گنتی کا حکم دیا، مگر ایوان میں مطلوبہ ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے پر کارروائی کورم پورا ہونے تک ملتوی کر دی۔

بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو قاسم سوری نے دوبارہ گنتی کا حکم دیا، اس دوران حکومتی وزراء مراد سعید، شیریں مزاری اور چیف وہپ عامر ڈوگر کورم پورا کرنے کی کوشش کرتے رہے اور چیمبرز میں موجود دیگر وزرا اور ارکان کو بلاتے رہے، اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی بھی ایوان سے نکل گئی، گنتی کے بعد کورم پورا نہ ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا، جبکہ لیگی رکن مرتضی جاوید عباسی گیلری میں بیٹھ کر ایوان میں موجود حکومتی ارکان کی گنتی کرتے رہے اور کہا کہ ڈنڈی نہیں مارنے دیں گے۔

قبل ازیں شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اے این این کے مطابق مسلم لیگ(ن)کے ارکان نے قومی اسمبلی کے اسیرارکان کوایوان میں لانے تک اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا، حکومت کے اتحادی اختر مینگل نے بھی اپوزیشن کا ساتھ دیااوراختر مینگل اور ان کے ساتھی ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ 

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے احکامات پر عملدرآمد کیلئے ہی احتجاج کررہے ہیں، پروڈکشن آرڈرزپرعمل درآمد کیوں نہیں ہورہا، خواجہ سعد رفیق کو اجلاس میں لانے میں کون رکاوٹ ہے جب کہ رانا ثنااللّہ کے پروڈکشن آرڈرجاری کیوں نہیں ہو رہے۔

صباح نیوز کے مطابق اپوزیشن نے اسیر ارکان کے پروڈکشن آرڈر کے معاملے پر ایوان کی کارروائی کو چلنے نہیں دیا، ایجنڈا دھرے کا دھرا رہ گیا، مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہ ہونے پر اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

این این آئی کے مطابق اپوزیشن کے مطالبے پر سپیکر کی طرف سے اسیر ارکان کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈر اپوزیشن کے ہی گلے پڑ گئے۔ 

ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری علالت کے باعث اجلاس میں شرکت سے معذوری ظاہر کردی۔ ذرائع نے بتایاکہ شاہد خاقان عباسی نے اپنی شرکت کو رانا ثناء اللّہ کی شرکت سے مشروط کردیا۔

ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ جب تک رانا ثناء اللّہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں ہوتے میں ایوان میں نہیں آؤں گا۔

آئی این پی کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ڈیزل پر فی لیٹر 45 روپے جبکہ پٹرول پر فی لیٹر 35 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے، ریونیو کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز عائد کئے جاتے ہیں جنہیں ختم نہیں کر سکتے۔ 

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس کی تفصیلات پیش کر دیں، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت فروخت 125روپے ہے جس میں صرف 45روپے 75پیسے صرف ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے،اسی طرح پٹرول کی قیمت فروخت 113.99پیسے ہے جس میں فی لیٹر ٹیکس 35.07 روپے ہے، اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت فروخت 96.23 روپے فی لیٹر ہے جس میں 20 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، اسی طرح لائٹ ڈیزل کی قیمت فروخت 82.43 روپے ہے جس میں سے 14.98روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

 حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی نمو و ترقی کےلئے میزانیائی ریونیو کے اہداف پورا کرنے کے لئے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز لیویز عائد کئے جاتے ہیں لہٰذا ٹیکسز ختم نہیں کئے جا سکتے۔

اے پی پی کے مطابق قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ 2018،19ءمیں پٹرولیم لیوی کی مد میں 206.28 ارب روپے وصول کئے گئے، وزارت پٹرولیم کی جانب سے بتایا گیا کہ مالی سال 2010-11ءمیں اس مد میں 72.32 ، 2012-13ءمیں 60.36 ، 2013-14ءمیں 103.53 ارب ، 2014-15 میں 131.35 ارب، 2015-16 میں 149.35، 2016-17 میں 166.69، 2017-18ءمیں 178.87‘ اور 2018-19ءمیں 206.28 ارب روپے وصول کئے گئے۔ 

این این آئی کے مطابق قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک سال میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی مد میں 206 ارب 28 کروڑ روپے عوام کی جیبوں سے نکلوالیے۔ پٹرولیم ڈویژن نے تحریری جواب میں بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تیل میں قیمتوں کو 17 بار تبدیل کیا گیا۔

عمر ایوب نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6بار اضافہ جبکہ 11 بار کمی کی گئی، یہ بات درست نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کبھی کمی اور کبھی اضافہ ہوتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید