آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ مجھے روزانہ ٹیلی وژن اسکرین پر دیکھ کر حیران کیوں نہیں ہوتے؟ ظاہر ہے کہ اسکرین پر آپ جب مجھے پہچان نہیں سکتے تو پھر آپ حیران کیونکر ہو سکتے ہیں! حیران تو آپ تب ہوتے جب آپ مجھے اپنے رنگ ڈھنگ میں دیکھتے۔ تب آپ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے اور بڑبڑاتے کہ ہمارے ٹیلی وژن چینلز کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ ایک حواس باختہ، کھسکا ہوا شخص اینکر بن بیٹھا ہے، اور اپنے پروگراموں میں سینئر سیاستدانوں کو مدعو کرکے ان کے پرخچے اڑاتا رہتا ہے۔ مگر ٹیلی وژن اسکرین پر دیکھ کر آپ مجھے پہچان نہیں پاتے۔ میں جب سینئر سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیتا ہوں تب آپ خوش ہوتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ میں سینئر سیاستدانوں کو آئینہ دکھاتا رہوں، انہیں بولنے نہ دوں، ان کے بجائے میں خود بولتا رہوں۔ انہیں غلط ثابت کرتا رہوں۔ یہ سب اس لئے ہوتا ہے کہ آپ مجھے پہچان نہیں پاتے۔ میں پیدائشی طور پر جھگڑالو ہوں۔ میں جب پیدا ہوا تھا، تب سانس روک کر میں نے دائی ماں کو پریشان کر دیا تھا۔ دائی ماں نے رونی صورت بنا کر، افسوس کرتے ہوئے سب کو بتادیا کہ آپ کے ہاں مردہ بچہ پیدا ہوا ہے۔ تب چیخ مار کر میں رو پڑا تھا۔ اور اس طرح میں نے دائی ماں کو سب کے سامنے جھوٹا ثابت کردیا تھا۔ جب میں دائی ماں کو جھوٹا ثابت کرسکتا ہوں تب سیاستدان کس باغ کی مولی ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ دائی ماں بچوں کو جنم دلواتی ہے۔ سیاستدان بچوں کو جنم نہیں دلوا سکتے۔ بہت بڑا فرق ہوتا ہے دائی ماں میں اور سیاستدانوں میں۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ حیران ہوں۔ حیران ہونے کے بعد آپ پریشان ہوں۔ سرِدست یہ مجھے امکان سے باہر نظر آتا ہے۔ آپ مجھے اینکر کے روپ میں دیکھ کر پہچانیں گے نہیں تو پھر آپ حیران اور پریشان کیسے ہوں گے؟ آپ پیمرا اور ٹیلی وژن چینل کو کوسیں گے تب جب آپ مجھے اینکر کے روپ میں پہچانیں گے اور واویلا مچائیں گے۔ مگر آپ مجھے پہچان نہیں سکتے۔ میں جس ٹیلی وژن چینل کے پروگرام میں اینکر بن کر بیٹھتا ہوں اس چینل کا میک اَپ آرٹسٹ غضب کا فنکار ہے۔ وہ اپنی برسوں کی فنکاری کا ہنر مجھ پر استعمال کرتا ہے۔ میک اپ کے بعد جب میں آئینے میں اپنا عکس دیکھتا ہوں تب خود کو پہچان نہیں سکتا۔ ابتدائی دنوں میں کئی مرتبہ ایسے ہوا تھا کہ آئینے میں اپنا عکس دیکھنے کے بعد میں میک اپ آرٹسٹ سے پوچھ بیٹھتا تھا کہ بھائی، وہ بوڑم بالم کہاں گیا؟ میک آپ آرٹسٹ مسکرا کر کہتا تھا: بالم بھائی یہ آپ ہی تو ہو۔ تو جناب والا، میک اپ کے بعد جب میں خود اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتا، تب آپ مجھے کیونکر پہچانیں گے؟ ہوبہو اینکر نظر آنے کے بعد میں سچ مچ اپنے آپ کو اینکر سمجھنے لگتا ہوں۔ اپنے آپ کو اینکر سمجھنے کے بعد میں چیدہ چیدہ پرانے گھاگ سیاستدانوں کو اپنے پروگرام میں بلاتا ہوں اور ان کو چھٹی کا دودھ یاد دلاتا ہوں۔ میں ان کو بتاتا ہوں کہ سیاست کیا ہوتی ہے۔ معیشت کیا ہوتی ہے۔ ڈالر کی قیمت کیوں گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ میں ان کو سکھاتا ہوں کہ منصفانہ حکومت کیسے کی جاتی ہے۔ مجھے روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ دن دفع ہوئے جب ٹیلی وژن پروگراموں کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ہوتے تھے۔ ہمیں روکتے تھے، ٹوکتے تھے اور پروگرام کے لئے ہدایات دیتے تھے۔ اب سب کچھ میں ہوتا ہوں۔ میں خود اپنے پروگرام کا ڈائریکٹر ہوتا ہوں۔ جس سیاستدان کو چاہوں اپنے پروگرام میں بلا سکتا ہوں۔

حلیہ بھی کیا کمال کی چیز ہوتا ہے۔ آپ کو فرش سے عرش تک لے جاتا ہے اور عرش سے فرش پر لے آتا ہے۔ اگلے وقتوں میں جس کے سر پر تاج ہو اس کو بادشاہ سمجھا اور مانا جاتا تھا۔ آج کل‘ اکیسویں صدی کے بادشاہ تاج نہیں پہنتے۔ وہ اپنے دبدبے اور شان و شوکت سے بادشاہ نظر آتے ہیں۔ ان کے کموڈ سونے کے ہوتے ہیں۔ انسان ہونے کے ناتے آپ سونے کے کموڈ پر بیٹھیں یا سرامکس کے، قدرت کے قانون میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر یہ معمولی بات اکیسویں صدی کے بےتاج بادشاہوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ آپ دودھ سے نہیں نہا سکتے۔ آپ بادشاہ سلامت ہوں یا ہماری طرح کے فقیر، آپ پانی سے نہاتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ حلیے سے پبلک دھوکا کھا جاتی ہی ہے۔ آپ بذاتِ خود اپنے حلیے سے دھوکہ کھا بیٹھتے ہیں۔ میرے حلیے سے دھوکا کھانے کے بعد آپ اپنے بوڑم بالم بھائی کو سچ مچ کا اینکر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آپ ایک نیم خواندہ، نیم مدہوش، نیم مجذوب کو اینکر سمجھتے ہیں۔ حلیہ بڑی چیز ہے بھائی۔ اسلئے آپ حیران نہیں ہوتے۔

مگر میں بہت حیران ہوتا ہوں جب منجھے ہوئے سیاستدانوں، ریٹائرڈ افسران، حال اور ماضی کے حاکموں کے ترجمان بھرپور تیاری کے ساتھ میرے پروگرام سب جھوٹ میں شرکت کرنے آتے ہیں۔ وہ بڑی دلیلوں کے ساتھ اپنا اپنا موقف اس طرح میرے سامنے پیش کرتے ہیں، میں جیسے اینکر نہیں، بلکہ کسی بڑی عدالت کا جج ہوں۔ وہ سب اس قدر بڑھ چڑھ کر دلیلوں کے ساتھ اپنی صفائی پیش کرتے ہیں جیسے پروگرام ختم ہونے سے پہلے میں اپنا فیصلہ سنا دوں گا۔ سرِدست میں ان کے رویے پر حیران ہوتا ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ حیران ہوتے ہوتے میں اپنے آپ کو جج نہ سمجھ بیٹھوں۔