آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر22؍ جمادی الثانی 1441ھ 17؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان نے مسلم ممالک کے انتہائی اہم اجتماع کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرکے ایک بہت بڑی اسٹرٹیجک (تزویراتی) غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔

اِس سے پاکستان نہ صرف اُن اسلامی ممالک کی حمایت سے محروم ہو گیا ہے، جو کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے بلکہ ایک ایسے فورم یا بلاک کا حصہ بننے کا موقع بھی گنوا رہا ہے، جو امریکہ اور اسکے دیگر سامراجی اتحادیوں کی معاشی اجارہ داری اور سیاسی جکڑ بندیوں سے دنیائے اسلام کو نکالنے کیلئے تشکیل دیا جارہا ہے۔

اب تک پاکستان کی حکومت کی طرف سے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں کوئی ایسی وضاحت پیش نہیں کی گئی ہے، جو پاکستان کے عوام یا کوالالمپور کانفرنس میں شریک مسلم ممالک کو مطمئن کر سکے۔

اس حوالے سے ترکی کے صدر طیب اردوان نے جو انکشاف کیا ہے یا یوں کہئے کہ جو الزام عائد کیا ہے، وہ نہ صرف پاکستانیوں کے لئے تشویش ناک ہے بلکہ دنیا کو بھی پاکستان کے بارے میں کوئی اچھا پیغام نہیں گیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا یہ جواز بتایا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا میں اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنا چاہتا ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کانفرنس مسلم ممالک کو تقسیم کرنے کا سبب ہو سکتی ہے اور یہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) کے متوازی ایک تنظیم بن رہی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی نیت ٹھیک ہو لیکن کوالالمپور کانفرنس میں شریک مسلم ممالک اسے پاکستان کی غیر جانبداری تعبیر نہیں کررہے۔ کوالالمپور کانفرنس میں شریک مسلم رہنما اور زعما یہ بات بھی بار بار دہرا رہے ہیں کہ گزشتہ ستمبر میں ترکی کے صدر طیب اردوان، ملائیشیا کے صدرڈاکٹر مہاتیر محمد اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے نیویارک میں ہونے والی اپنی ملاقات میں مسلم ممالک کا ایک مضبوط فورم تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا اور عمران خان نے اس کانفرنس میں شرکت کی ہامی بھری تھی۔

اس ملاقات میں مسلم ممالک کا ایک ٹی وی چینل اور مشترکہ بینک بنانے، دفاعی امور، تجارت اور نوجوانوں سے متعلق امور پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

اس لئے بھی ان مسلم رہنمائوں اور زعما کو وزیراعظم عمران خان کی کوالالمپور کانفرنس میں عدم شرکت پر حیرت ہورہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر ملک کو اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرنا چاہئیں لیکن اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ جنہیں ہم اپنے قومی مفادات تصور کرتے ہیں، کیا وہ ہمارے دائمی مفادات ہیں یا وقتی ہیں اور اگر وقتی ہیں تو کیا ہمارے دائمی مفادات سے متصادم تو نہیں ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے لیڈر تھے، جنہوں نے پاکستان کو عالمی سرمایہ دارانہ بلاک سے نکالنے اور پاکستان کی حقیقی معاشی اور سیاسی خود مختاری کیلئے عالمی اور علاقائی سطح پر غیر معمولی کام کیا۔

اُنہوں نے مسلم دنیا سمیت تیسری دنیا کے ملکوں کی حقیقی سیاسی و معاشی خود مختاری کے لئے غیر معمولی سرگرمی دکھائی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کی حقیقی آزادی اور خود مختاری ترقی پذیر دنیا کی حقیقی آزادی اور خود مختاری سے جڑی ہے اور پاکستان یہ جنگ تنہا نہیں لڑ سکتا۔

اُنہوں نے ترقی پذیر دنیا کو سامراج مخالف، قوم پرستانہ اور علاقائی اتحاد کے فلسفہ پر گامزن کیا۔ اِس زمانے میں مسلم دنیا بشمول عرب ممالک تیسری دنیا میں بڑے سامراج مخالف اور قوم پرست لیڈر پیدا ہوئے، جنہیں بعد ازاں عالمی طاقتوں نے عبرت کا نشان بنادیا۔

سعودی عرب کے شاہ فیصل اور بھٹو سمیت کئی لیڈرز عالمی طاقتوں کے غضب کا نشانہ بنے۔ یہی وہ زمانہ تھا جس میں مسلم دنیا سمیت تیسری دنیا میں حقیقی اور دائمی قومی مفادات کا احساس اجاگر ہوا۔

کوالالمپور کانفرنس 1960ءاور 1970ءکے عشرے والے مسلم رہنمائوں کی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ پاکستان اِس وقت قائدانہ کردار کا حامل تھا اور اب دنیا میں اس کی مجبوری پر بات ہورہی ہے۔

اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ہمارے وقتی مفادات کے تحت کانفرنس میں شرکت نہیں کی گئی تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کون سے وقتی مفادات حاصل ہوئے اور کن وقتی اور دائمی مفادات کو نقصان ہوا۔

اہم بات یہ ہے کہ ہمارے مفادات اب چین خصوصاً پاک چین اقتصادی راہداری کی وجہ سے تبدیل ہو چکے ہیں۔ پاکستان کانفرنس میں شرکت کرنے کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اس نئے فورم میں شرکت کے لئے کوششیں کرتا تو ان دونوں ممالک کا بھی عالمی اور علاقائی سیاست میں وزن بڑھ جاتا۔

ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ اس بات کا احساس ہوگا کہ ہم سے کیا غلطی ہوئی ہے۔ اب وہ والی دنیا نہیں ہے، جو نیو ورلڈ آرڈر میں تھی۔

ادارتی صفحہ سے مزید