آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رواں برس تین صدارتی ایوارڈ یافتہ فن کار ہم سے بچھڑ گئے

عابد علی، ذہین طاہرہ اور نیاز احمد

ٹیلی ویژن کی بے مثال فن کارہ ذہین طاہرہ کے نام اور کام سے سب واقف ہیں۔ وہ بہت اچھی فن کارہ تو تھیں ہی، مگر اس سے کہیں زیادہ اچھی انسان بھی تھیں۔ خوش اخلاقی اور خلوص کا پیکر ذہین طاہرہ اس وقت سے ڈراموں میں کام کرتی آ رہی ہیں جب بلیک اینڈ وائٹ کا زمانہ ہوا کرتا تھا۔ 

ابتدا میں انہوں نے ایسے مظلوم اور رونے دھونے والے کردار ادا کیے کہ ان پر اسی قسم کے کرداروں کی چھاپ لگ گئی، خاص طور پر ’’خدا کی بستی‘‘ میں جیسا کردار انہوں نے ادا کیا، تو بس اس کے بعد تو گویا اس پر مہر ثبت ہو گئی، اب کوئی بھی اگر انہیں منفی یا غصہ ور خاتون کے روپ میں دیکھنا چاہتا بھی تو ممکن نہ تھا کہ ان کے چہرے پر ایسی معصومیت تھی کہ وہ کبھی چالاک یا ظالم خاتون نہ لگتیں۔ ہم نے ان کے ساتھ بہت سے ڈراموں میں کام کیا۔ مارننگ شوز میں بھی ہم اکھٹے ہوئے۔ وہ ہمیشہ محبت سے پیش آتی تھیں۔ ’’ضرب تقسیم‘‘ ایک سیریل تھا، پی ٹی وی کا، جس کے ڈائریکٹر ٓذوالفقار نقوی تھے۔ فن کاروں میں ہمارے ساتھ بہروز سبزواری، شبیر جان، نازلی نصر اور ذہین طاہرہ شامل تھے۔ 

ذہین طاہرہ کے بارے میں بجیا کہتی تھیں کہ ذہین کو گلیمرس کردار ادا کرنے کی بڑی خواہش تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ بجیا ان کے لیے ایسا کردار لکھیں، جس میں زرق برق ساڑھی، بڑے بڑے جھمکے اور خوب صورت ہیئر اسٹائل کے ساتھ وہ اسکرین پر جلوہ گر ہوں، مگر ہمیشہ ان کو سیدھے سادے رول ہی ملے۔ ایک مرتبہ ایک مارننگ شو میں ہم دونوں شریک تھے۔ وہاں طاہرہ واسطی مرحومہ کا ذکر ہوا۔ ذہین طاہرہ نے جیسے ہی طاہرہ واسطی کا نام سنا، ان کی آنکھیں بھر آئیں، گلا رندھ گیا اور پھر وہ اپنی پرانی ساتھی کو یاد کر کے زاروقطار رو پڑیں۔ 

ذہین طاہرہ کو ان کی فنی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ 40کی دہائی میں لکھنو میں پیدا ہونے والی ذہین طاہرہ نے ٹیلی ویژن کے علاوہ ریڈیو پر بھی کام کیا۔ رواں برس دل کے عارضے کے سبب انہیں نجی اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ چند دن زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد 9جولائی کو انتقال کرگئیں۔ 2019ء میں شوبزنس کا ایک اور ستارہ ڈوب گیا، جس کا نام نیاز احمد تھا۔ نیاز احمد پاکستان کے بہت بڑے موسیقار تھے۔ 

انہوں نے موسیقی کی تعلیم استاد عبدالشکور سے حاصل کی۔ ابتدا میں وہ اکارڈین بجاتے تھے، بعد میں ہارمونیم اور کی بورڈ بھی بجاتے رہے۔ نیاز احمد کا شمار ان موسیقاروں میں ہوتا تھا، جنہوں نے نہ صرف بہت سے گلوکاروں کو متعارف کروایا، بلکہ ایسی دُھنیں ترتیب دیں، جن سے گلوکاروں کو نئی منزل ملی۔ مہدی حسن، غلام علی، مہناز، محمدعلی شہکی، عالمگیر، خالد وحید، گلبہار بانو، حمیرا چنا، رونا لیلیٰ، ٹینا ثانی، سجاد علی، لبنیٰ ندیم، علن فقیر، نورجہاں اور استاد نصرت فتح علی سمیت تمام نامور گلوکار ان کی کمپوزیشن گا چکے ہیں۔ خالد وحید کی آواز میں پاک فوج کے لیے ریکارڈ کیا گیا گیت ’’ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم‘‘ نیاز احمد کی کمپوزیشن ہے۔ 

استاد نصرت فتح علی کی آواز میں زباں زدعام قومی گیت ’’میرا انعام پاکستان‘‘، گلبہار بانو کی گائی ہوئی شہرہ آفاق غزل ’’چاہت میں کیا دنیاداری،‘‘، علن فقیر کا ’’اتنے بڑے جیون ساگر میں‘‘، شہکی کا گیت ’’تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں جان بہت شرمندہ ہیں‘‘ جسے افتخار عارف نے لکھا یا ’’میری آنکھوں سے اس دنیا کو دیکھو‘‘، عالمگیر کی خوب صورت آواز میں ’’یہ شام اور تیرا نام‘‘ یا پھر ’’کہہ دینا آنکھوں سے‘‘ یہ سب نیاز احمد کی ہی کمپوزیشن ہیں۔ نیاز صاحب نے ٹی وی کے لئے ایسے گیت کمپوز کیے، جو امر ہو گئے۔ ٹیلی ویژن کے علاوہ انہوں نے فلموں کے لیے موسیقی دی۔ ان میں فلم شمع پروانہ، سہارے، ٹرک ڈرائیور کے علاوہ پشتو فلم آدم خان، درخانئی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔29مئی کو دنیائے موسیقی کا یہ عظیم نام دار فانی سے کوچ کر گیا۔اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ دے۔ (آمین)۔

چند برس قبل ہم نے ایک سیریل میں کام کیا تھا، جس کی ہدایات ٹی وی کے مشہور اداکار محمود اختر نے دی تھیں۔ محمود اختر ان دنوں کینیڈا سے ڈائریکشن کا کورس کر کے وطن لوٹے تھے۔ انہوں نے اسد محمد خان سے ایک سیریل لکھوایا، جس کے مرکزی کردار عابد علی، خود محمود اختر اور ہم نے ادا کیے تھے۔ عابد علی اس فلم میں ڈائریکٹر کا رول کر رہے تھے۔ یہ سیریل بعض وجوہات کی بناء پر ٹیلی ویژن پر نہ چل سکا، اتنا شاندار ڈرامہ آن ایئر نہ جانے کا ہمیں افسوس رہے گا۔ عابد علی نے بہ طور اداکار، صداکار اور ہدایت کار اپنے آپ کو منوایا۔ 

مسافتیں، مورت، دشت، تم ہو کہ چپ، ماسی اور ملکہ، آن، دوسرا آسمان، ہوا پہ رقص، سلسلے چاہتوں کے، نکاح، سہیلی، زنجیر، زرد گلاب، نشیمن، پیاس، صبا اور سمندر سمیت بے شمار ڈرامے ایسے ہیں، جو ان کی یاد دلاتے ہیں، خاص طور پر ہم ’’وارث‘‘ کا ذکر کریں گے، جو ایسا شہرہ آفاق سیریل ہے جس کی مقبولیت آج بھی قائم ہے۔ عابد علی نے چند فلموں میں بھی کام کیا ہے، جن میں نگاہیں، سونے کی تلاش، انسانیت کے دشمن، کالے چور اور وطن کے رکھوالے قابل ذکر ہیں۔ 

اُن کی شخصیت میں ان کا باوقار انداز، ذہانت، متانت، سنجیدگی، بھاری بھرکم آواز اور پرسکون لب و لہجہ ان کو دیگر لوگوں سے ممتاز کرتا ہے۔ عابد علی کے ساتھ ہم نے لاہور سے ڈراما سیریل ’’مسافتیں‘‘ میں بھی کام کیا تھا، اس کے ہدایت کار راشد ڈار تھے، جب کہ تحریر جمیل ملک کی تھی۔ عابد علی کو ہم نے ہمیشہ وقت کا پابند دیکھا۔ وہ بہت تحمل مزاج تھے، نہ کبھی کسی سے الجھتے تھے، نہ بحث کرتے تھے، بس اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ ان کی فنی صلاحیتیں اپنی جگہ لیکن ان کی شخصیت کی جاذبیت کی تعریف نہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ ایسی عظیم شخصیت کا دنیا سے چلے جانا یقیناً ایک بڑا نقصان ہے۔ 2019ء تو رخصت ہو رہا ہے اور اس سال بہت سے لوگ داغ مفارقت دے گئے ہیں۔ فن کار کب مرتا ہے، جب تک اس کا فن زندہ ہے، مداح اسے یاد کریں گے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید