• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہراسانی، لاقانونیت کے بھنور میں جکڑی رہی بنتِ حوا

شگفتہ بلوچ، ملتان

جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے والی ،عزم وہمّت کی پیکر، صبر کی چٹان،پاکستانی عورت،آج بھی اَن گنت مسائل سے نمٹتی ، خاموشی سے آگے بڑھتی، ندی کی مانند اپنا راستہ خود بناتی، محدود وسائل کے باوجود وطنِ عزیز اور دنیا بھر میں کام یابی کے جھنڈے گاڑنے کی کوشش میں سر گرداں ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں نوجوان نسل کے بعد پی ٹی آئی کا سب سے بڑا ووٹ بینک یہی خواتین تھیں، جنہوں نے عمران خان کو اپنے تمام ترمسائل کا نجات دہندہ سمجھ لیا تھا۔

پاکستانی خواتین کے لیے 2019ء کیسا ثابت ہوا، اگر ایک سر سری جائزہ لیا جائے، تواندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو شروع کے چند ماہ تو نئے ترقّیاتی منصوبے متعارف کروانے کا موقع ہی نہ مل سکا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے حکومت معاشی بحران پر قابو پانے کی کوشش میں کسی حد تک کام یاب ہوئی ، خواتین ، بچّوں اور بزرگوں کے لیے فلاحی منصوبے متعارف کروانے شروع کر دئیے۔ جن میں سے کچھ پر عمل دَرآمد بھی شروع ہوچکا ہے، لیکن یہ عملی اقدامات ابھی بہت محدود پیمانے پر ہیں۔اس ضمن میں جو قابلِ ذکر منصوبہ سامنے آیا ، وہ ’’احساس پروگرام ‘‘ ہے، جو 42.65 ارب روپے کا چار سالہ منصوبہ ہے۔ 

اس پروگرام سےہنر مند خواتین زیادہ استفادہ کرسکیں گی کہ اس کے تحت بزنس انڈسٹری سے وابستہ خواتین کو(چاہے وہ پارلر بنانا چاہیں، ہوٹل چلانا چاہیں،بوتیک کھولیںیا اپنے ہنر کے مطابق کوئی بھی کاروبار شروع کرنا چاہیں) آسان اقساط پر قرضے دئیے جائیںگے۔ نیز،فارغ التّحصیل طالبات بھی یہ قرضےحاصل کرکےبر سرِ روزگار ہوسکتی ہیں۔ جب کہ ’’غربت مکائو پروگرام‘‘ کے تحت 6 ملین خواتین کی مدد کی جائے گی۔ 

علاوہ ازیں ،مستحق خواتین کی فلاح کے لیے سابقہ دَور میں ’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ کے نام سے جو اسکیم جاری تھی، موجودہ حکومت نے بھی اُسے جاری رکھتے ہوئے سال 2019ء میں یہ سہ ماہی وظیفہ 5ہزار روپے کردیا، جس سےلگ بھگ 55 لاکھ خواتین مستفید ہورہی ہیں۔ دیگرقابلِ ذکر اقدامات میں سے ایک اہم قدم صحت اور راشن کارڈز کا اجرا تھا،جن کے تحت مستحق مَرد و خواتین اور بچّوں کا مفت علاج ہورہا ہے، تومستحق خاندانوں ، بیوائوں اور یتیموں کو راشن بھی فراہم کیا جارہا ہے، لیکن یہ کارڈز ابھی محدود پیمانے پر تقسیم ہوئے ہیں۔

ایک ایسا مُلک ، جہاں 18سے 49 برس کی 25.97 فی صدخواتین کم وزنی ،ہر تیسری عورت خون کی کمی، اینیمیا کا شکارہو، 40 ہزار سے زائد خواتین چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہوں اور دیہات میں 70 اور شہروں میں 14 فی صد خواتین کو ماہر ڈاکٹروں کی سہولت ہی میّسر نہ ہو اور جہاں 60 فی صد خواتین کو سینیٹری کی سہولتیں سِرے سے دست یاب ہی نہ ہوں،وہاں محض 10 لاکھ افراد کو راشن کارڈ کی تقسیم آٹے میں نمک ہی کے مثل ہے۔ 

گلوبل نیوٹریشن انڈیکس کے مطابق پاکستان میں 52فی صد حاملہ خواتین اینیمیاکا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی 2019ء کی ایک رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کی خواتین کو پاکستان کے صوبۂ سندھ کی خواتین سے زیادہ سہولتیں میّسر ہیں۔ پھر ایک حالیہ عالمی درجہ بندی کے مطابق پاکستان میں صحت کی ناقص سہولتوں کے باعث ہر 38 میں سے ایک خاتون موت کا شکار ہوجاتی ہے ،جب کہ سری لنکا میں یہ شرح 230 خواتین میں سے ایک ہے۔

2019-20ء کے وفاقی بجٹ میں خواتین کے فلاحی منصوبوں کے لیےجو فنڈز مختص کیےگئے ہیں،اُن کے تحت 60 لاکھ خواتین کو ان کے سیونگ اکائونٹس میں وظائف کی فراہمی اور موبائل فون تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ 500 کفالتی مراکز کے ذریعے خواتین اور بچّوں کو فِری آن لائن کورسز کی سہولت کا بھی فیصلہ ہوا۔ 

پنجاب کے بجٹ 2019-20ء میں بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کے لیے 2 ارب روپےکی لاگت سے ’’ سرپرست پروگرام ‘‘ متعارف کروانے کا اعلان ہوا ،جس کے تحت 65برس سے زائد عُمر کے ڈیڑھ لاکھ بزرگوں کی مالی معاونت کے لیے 2ہزار ماہانہ الائونس دئیے جائیں گے۔

اس بجٹ میں خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لیے 7ارب کی لاگت سے 5 سالہ منصوبہ شروع کرنے کا بھی اعلان ہوا ،جس کے تحت حکومتِ پنجاب نے بجٹ 2019-20ء میں تیزاب گردی کی شکار خواتین کے علاج کے لیے 10 کروڑ روپےکی لاگت سے ’’ نئی زندگی پروگرام ‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا اور اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے شکار ہونے والے شہریوں کی بیوائوں اور یتیموں کی کفالت کو اُس وقت تک یقینی بنایا جائے گا، جب تک وہ اپنے پَیروں پر کھڑے نہ ہوجائیں۔

حکومت نے اپنی ڈیڑھ سالہ مدّت میںاسمبلی میں 29 بلز پیش کیے، جن میں خواتین اور بچّوں کے حوالے سے ایک ،ایک بِل شامل تھا۔ یہ بِل خواتین کو جائیداد میں حصّہ دلوانے کے لیے’’ Enforce of women's property right bill 2019‘‘کے نام سے پیش کیا گیا۔ 

گرچہ خیبر پختون خوا اسمبلی میں خواتین پر گھریلو تشدّد کے خلاف بِل پر اپوزیشن نے تحفّظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی حمایت سے انکار کردیا، لیکن عورتوں کی جائیداد میں وَراثت کے حوالے سے بِل کو منظوری مل گئی۔نیز، سندھ اسمبلی میںصوبائی وزیر بہبود ِآبادی، شہلا رضا کی جانب سے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق پیش کی گئی قرارداد بھی متفقّہ طور پر منظور ہوئی۔

2019ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،اطہر من اللہ کی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ’’ جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اُسے دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت کے باوجود ،مصالحتی کاؤنسل سے بھی اجازت لینی ہوگی۔ بیوی کی اجازت کے باوجود اگر مصالحتی کاؤنسل انکار کردے ،تو دوسری شادی پر سزا لاگو ہوگی اورمسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کے مطابق یہ سزا جرمانے کے ساتھ ایک سال تک قید ہو سکتی ہے۔‘‘اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے جرائم کے پیشِ نظر چیف جسٹس آف پاکستان نے یہ بھی اعلان کیا کہ ’’مُلک میں ایک ہزار عدالتیں خواتین کے خلاف تشدّد کے کیسز کی سماعت کریں گی۔‘‘ سال 2019ء میں بھی ’’عالمی یومِ خواتین ‘‘روایتی طور پر سیمینارز اور ریلیاں منعقد کرکے منایا گیا۔

تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے نکالی جانے والی ریلیوں میںخواتین کے حقوق کے نام پر جو بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے گئے تھے، اُنہیں مہذّب طبقۂ فکر کی اکثریت نے ناپسند کیا۔

جہاں تک بات ہے خواتین کے استحصال کی ،تو سالِ رفتہ میں بھی خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میں کوئی کمی دیکھنےمیں نہ آئی ۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جنوری سے جون 2019 ء تک سندھ کے مختلف حصّوں میں قریباً 78افراد قتل ہوئے ،جن میں سے کاروکاری کے نام پر 65کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔

ان 78 ہلاک شدگان میں 50خواتین اور 28مرد شامل ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ تادمِ تحریر 2019 ء میں سندھ میں ڈینگی کے 15 ہزار 521 کیسز( 14 ہزار 443 کیسز کراچی اور 1 ہزار 78 دیگر اضلاع سے) رپورٹ ہوچُکے ہیں، جن میں 42 افراد ڈینگی کے باعث جان کی بازی ہا رگئے۔یعنی صوبۂ سندھ میں پورے سال میں ڈینگی جیسی مہلک بیماری سے اتنے افراد جاں بحق نہیں ہوئے، جتنی خواتین سالِ گزشتہ کے محض چھے ماہ میں کارو کاری کی بھینٹ چڑھ کر ہلاک ہوگئیں۔ سندھ و بلوچستان کے سرحدی علاقے، رند قبیلے کے گاؤں کی، گیارہ سالہ گُل سمان رند کوکاروکاری کےنام پر قتل کردیا گیا۔

اس کاجرم صرف اتنا تھا کہ کم عُمر ہونے کی وجہ سے والدین نے رشتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ چند ماہ بعد عزیزوں نے اُس پر کاری کا الزام لگایا اور جرگے نے سنگسارکرنے کا فیصلہ سنادیا ۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق، بلوچستان میںگزشتہ 11 ماہ کے دوران خواتین پر تشدّد کے 118 واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں 69 خواتین اور 11 مرد قتل ہوئے۔ 43 خواتین اور 9 مَردوں کو ’’سیاہ کاری‘‘ کے نام پر موت کی نیند سُلا دیا گیا۔

ایک غیرسرکاری تنظیم کے اعدادو شمار کےمطابق صوبے میں رواں برس 17 عورتوں نے گھریلو حالات سے تنگ آ کر خودکُشی کی، جس میں سے صرف چھے واقعات ایک ضلعے، لورالائی میں رپورٹ ہوئے۔جون 2019ء میں 19 سالہ مہوش ارشد کو شادی سے انکار پر پنجاب کے ضلعے، فیصل آباد میں قتل کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصل آباد میں سال کے پہلے چھے ماہ کے دوران 66 خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں سےبیش تر کو غیرت کے نام پر مارا گیا۔ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 21فی صد لڑکیوں کو 18 سال اور 3 فی صدکو 15 سال کی عُمر تک پہنچنےسے قبل ہی بیاہ دیا جاتا ہے۔

خواتین، امن اور تحفّظ سے متعلق شایع ہونے والے ایک انڈیکس کے مطابق خواتین کے معیارِ زندگی کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے آٹھ بد ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس انڈیکس میں صرف شام، افغانستان اور یمن پاکستان سے پیچھے ہیں۔’’جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ ‘‘کی جانب سے اکتوبر 2019ء میں جاری کردہ رپورٹ میں تین مختلف زاویوں سے خواتین کی فلاح اور ان کی زندگی میں بہتری کا تعیّن کیا گیا، جن میں معاشی، سماجی اور سیاسی شمولیت، قانون تک رسائی، اپنے علاقوں، خاندان اور سماجی سطح پر تحفّظ کا احساس شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد معاشی طور پر خود مختار نہیں،گرچہ مجموعی طور پر بینک اکاؤنٹس کھولے جانے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن صرف سات فی صد خواتین کے پاس ذاتی بینک اکاؤنٹس ہیں۔

پاکستانی خواتین کے حوالے سے واحد اچھی خبر یہ تھی کہ سماجی طور پریہاں خواتین کے تحفّظ کے احساس میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے۔ سالِ گزشتہ 600 سے زائد پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے نام پر چینی مَردوں کو فروخت کاایک اسکینڈل بھی سامنے آیا۔نیز، 2019ء میں صرف مسلم خواتین ہی نہیں، غیر مسلم خواتین بھی استحصال کا شکار رہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں قریباً ایک ہزار عیسائی، ہندو لڑکیوں کوہر سال زبردستی مسلمان مَردوں سے شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔مگر مُلک میں صنفی امتیاز کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث ستّر سال میں پہلی بارآسٹریلیا نے پاکستان کی دو طرفہ امداد ختم کردی۔

سالِ گزشتہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بھی بے حد اضافہ ہی ہوا اور صرف سرکاری اداروں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے 220واقعات رپورٹ ہوئے۔ان واقعات میں سے وفاق میں 145، پنجاب میں 153، سندھ میں 53، خیبر پختون خوامیں22، بلوچستان میں4 اور فاٹا سے ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔اسی رپورٹ کے مطابق محکمۂ پولیس میں بھی خواتین افسران کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایات موصول ہوئیں، جن پر اسلام آباد پولیس کے تین افسران کو فارغ کردیا گیا ،جب کہ 8 ستمبر 2019ء کو وزارتِ خارجہ کی ایک خاتون افسرکی جانب سے اٹلی میں تعیّنات، پاکستانی سفیر پر بھی جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ، جس کی انکوائری تا حال جاری ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کی شرحِ خواندگی میں کمی کی وجوہ میں گرلز اسکولز کا نہ ہونا، منہگی تعلیم یا ، بچپن کی شادی ، چائلڈ لیبر اور صنفی امتیاز ت وغیرہ شامل ہیں۔ مُلک میں مجموعی طور پرشرحِ خواندگی 62.3فی صد قرار دی گئی، لیکن خواتین میں یہ شرح 49.6 فی صد سے 51.8 فی صدتک ہے۔اسی کم شرحِ خواندگی کے باعث پاکستان کی لیبر فورس میں صرف 39 فی صد خواتین ہی حصّہ لے پاتی ہیں۔

خواتین کے حقوق اور تحفّظ کی فراہمی کے حوالے سے پی ٹی آئی کی خواتین وزرا کی کارکردگی بھی خاصی حد تک مایوس کُن رہی اور جہاں تک دیہی خواتین کا تعلق ہے، تو پی ٹی آئی حکومت نے اُن کی بہتری کے لیے تاحال کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا۔ البتہ کھیلوں کی دنیا میں پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کارکردگی قدرے بہتر رہی اورٹیم نے اکتوبر 2019ء میں بنگلا دیش خواتین کرکٹ ٹیم کو شکست دے کر ٹی 20 ٹرافی جیت لی۔

جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر…

2019ء میں جن پاکستانی خواتین نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواکر مُلک و قوم کا نام روشن کیا، ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

  • حمیرا فرح کو پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی خاتون امپائر بننے کا اعزازحاصل ہوا۔ وہ اسپورٹس سائنسز میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور تقریباً 170 میچز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دے چُکی ہیں ۔حمیرا فرح پاکستانی قومی ہاکی ٹیم کی کھلاڑی بھی رہ چکی ہیں اور گزشتہ 28 برسوں سے اسپورٹس ایڈ منسٹریٹر کی ذمّے داریاں بھی سنبھال رہی ہیں۔
  • سال 2019ء میں پہلی بارایک ہندو خاتون محکمۂ پولیس میں بھرتی ہوئیں۔ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی پشپا کُماری سندھ پولیس میں اے ایس آئی کے عہدے پہ فائز ہوئیں۔
  • کراٹے میں ایک سال میں چار نیشنل ٹائٹلز اپنے نام کرنے والی مائرہ نسیم نے چِلی میں ہونے والی ’’کراٹے ورلڈ چیمپیئن شِپ‘‘ میں پاکستان کی نمائندگی کی ۔برطانوی نژاد پاکستانی مائرہ نسیم کراٹے کے میچوں میں64 سونے کے تمغےاپنے نام کر چکی ہیں ،جو کسی بھی کراٹے ایتھلیٹ کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔
  • پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ،ثنا میر کو’ ’نیشنل گیم چینجر ایوارڈ‘‘ کے لیے منتخب کیا گیا ۔
  • پنجاب یونی وَرسٹی کی لیکچرار، لاریب عابد نے کینیڈا میں منعقدہ ویمن کانفرنس میں عالمی مقابلہ جیتا ۔کانفرنس میں دنیا بھر سے 120افراد نے پلاننگکے بارے میں آئیڈیاز پیش کیے تھے۔
  • 10 سالہ سلینہ خواجہ نے مشکل ترین 7ہزار 27 میٹر بلند چوٹی طےکرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ سلینہ کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے ۔ سلینہ نے گزشتہ سال 9 سال کی عُمر میں دنیا کی تیسری 6ہزار 50 میٹر بلند ترین چوٹی منگلی بھی سرکرکے عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔ اس سے قبل سلینہ 5ہزار 7سو 65میٹر بلند چوٹی،کوزہ سر بھی سَر کرکے عالمی ریکارڈ بنا چکی ہیں۔
تازہ ترین