• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کم زور اپوزیشن نے حکومت کو ’’ٹَف ٹائم‘‘ دیا

گرچہ ماضی کے برعکس 2019ء میں خیبر پختون خوا خاصا پُرامن رہا، تاہم سیاسی محاذ پر کافی ہلچل، ہنگامہ آرائی اور گرما گرمی ہی دیکھنے میں آئی۔ ہوش رُبا منہگائی نے عوام کی چیخیں نکال دیں اور وہ سال بھر بے بسی کی تصویر بنے ’’تبدیلی‘‘ کا انتظار ہی کرتے رہے۔ ہر چند کہ صوبے میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رُونما نہ ہونے کے سبب شہریوں نے سُکھ کا سانس لیا، لیکن وزیرِ اعلیٰ، خیبر پختون خوا، محمود خان میں قوّتِ فیصلہ کے فقدان اور عدم فعالیت اور اُن کے باعث صوبے کے انتظامی امور میں وفاق کی مداخلت اور صوبائی وزرا کی مَن مانیاں جاری رہیں، جس کے سبب ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔

دوسری جانب حکومتی پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً رد و بدل اور بار بار تبادلوں کے باعث بیورو کریسی اُلجھن کا شکار رہی۔ نیز، حکومت کی متلوّن مزاجی کے باعث کسی بھی سرکاری افسر کو کارکردگی دکھانے کا موقع نہ مل سکا۔ صوبے کی حکم ران جماعت، پاکستان تحریکِ انصاف صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت رکھنے کے باوجود عددی لحاظ سے کم زور، مگر تجربہ کار حزبِ اختلاف کے ہاتھوں مشکلات سے دو چار رہی۔ ارکانِ اسمبلی کے ترقّیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج صوبائی اسمبلی سے نکل کر پشاور ہائی کورٹ تک پہنچ گیا اور پھر بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے، تو نوبت وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے تک جا پہنچی۔ 

پشاور کے عوام 2019ء میں بھی پشاور، بی آر ٹی (بس ریپڈ ٹرانزٹ) پراجیکٹ سے مستفید نہ ہو سکے اور صوبائی حکومت سال بھر ’’تاریخ پہ تاریخ‘‘ ہی دیتی رہی۔ اسی طرح بلین ٹری سونامی منصوبے میں مبیّنہ کرپشن کی تحقیقات کی خبرمنظرِ عام پر آئی، تو صوبے کے کئی اضلاع میں بیک وقت لاکھوں پودے پُر اسرار آتش زدگی کی لپیٹ میں آ گئے۔ نیز، عوام پر ڈینگی کے وار جاری رہے، تو ڈاکٹرز کے لیے بھی یہ سال خاصا بھاری ثابت ہوا۔ خیبر پختون خوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کا تاریخی مرحلہ مکمل ہوا اور پہلی مرتبہ قبائلی عوام کو خیبر پختون خوا اسمبلی میں نمایندگی ملی۔ 

25جولائی کو عام انتخابات 2018ء کا ایک سال مکمل ہونے پر اپوزیشن کے یومِ سیاہ اور پھر جمعیت علمائے اسلام (فے) کے آزادی مارچ اور دھرنے کی وجہ سے نہ صر ف جے یو آئی بلکہ حزبِ اختلاف میں شامل دیگر جماعتوں، عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ علاوہ ازیں، تقریباً 9برس بعدصوبے میں 33ویں قومی کھیلوں کا انعقاد ہوا، جن میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور مختلف محکموں کی ٹیموں کے 10ہزار کے قریب مرد و خواتین کھلاڑیوں نے حصّہ لیا۔

2019ء میں مجموعی طور پر صوبائی اسمبلی کے 5سیشنز ہوئے، جن میں سے 3حکومت اور 2اپوزیشن کی ریکوزیشن پر طلب کیے گئے۔ اس دوران ایوان میں کُل 45بِلز پیش ہوئے، جن میں سے 23منظور ہوئے، جب کہ 22منظوری کے مرحلے میں ہیں۔ صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے بِلز میں خیبر پختون خوا ریجنل اینڈ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بِل، خیبر پختون خوا لیویز اینڈ خاصہ دار فورس بِل، خیبر پختون خوا چیریٹیز بِل اور خیبر پختون خوا سِول سرونٹ بِل قابلِ ذکر ہیں۔ 

اس قانون سازی کے ذریعے حکومت نے صوبے کے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عُمر کی حد 60سال سے بڑھا کر 63برس کر دی، قبائلی اضلاع میں تعینات لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس میں تبدیل کیا گیا اور ڈاکٹرز کو ان کے آبائی علاقوں میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی اسمبلی میں عددی لحاظ سے کم زور، مگر تجربہ کار اپوزیشن نے دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت کو ’’ٹَف ٹائم‘‘ دیا۔ حزبِ اختلاف کے مؤثر احتجاج اور کام یاب حکمتِ عملی کے باعث حکومت بلین ٹری سونامی منصوبے میں مبیّنہ کرپشن کی انکوائری کے لیے پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے پر مجبور ہو گئی۔ 

تاہم، بعد ازاں حزبِ اقتدار سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی نے عین موقعے پر اپوزیشن ارکان کے ساتھ بنّوں میں بلین ٹری سائٹ کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا۔ 2019ء میں ایک طرف بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت مختلف اضلاع میں پودے لگائے جانے کے دعوے کیے جاتے رہے، تو دوسری جانب صوبے کے ایک درجن اضلاع میں پُر اسرار آتش زدگی کے باعث ایک ہی وقت میں لاکھوں پودے جل کر خاک ہو گئے اور تا دمِ تحریر اس معاملے کی انکوائری بھی شروع نہیں ہوئی۔ 

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے صوبے کے ترقّیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس ضمن میں پشاور ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی گئی، جس پر عدالت نے حزبِ اختلاف کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم، صوبائی حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر اپوزیشن نے وزیرِ اعلیٰ کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدّمہ دائر کر دیا۔ پھر بھی بات نہ بنی، تو اپوزیشن نے پہلے اسمبلی میں احتجاج کیا اور پھر وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔ بعد ازاں، وزیرِ اعلیٰ، محمود خان کی یقین دہانی پر حزبِ اختلاف نے احتجاج ختم کر دیا۔

تمام تر شکوک و شبہات اور قیاس آرائیوں کے باوجود 2019ء میں بالآخر خیبر پختون خوا کے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ ضم شدہ 7قبائلی اضلاع اور 6سابقہ ایف آرز پر مشتمل صوبائی اسمبلی کی 16جنرل نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں آزاد امیدواروں نے 6، پاکستان تحریکِ انصاف نے 5، جمعیت علمائے اسلام (فے) نے3 ، جب کہ عوامی نیشنل پارٹی اور جماعتِ اسلامی نے ایک ایک نشست پر کام یابی حاصل کی۔ 

تاہم، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بُھٹّو زرداری کی جانب سے پہلی مرتبہ ضلع مہمند اور ضلع باجوڑ کے دورے کرنے کے باوجود اُن کی جماعت ایک نشست بھی حاصل نہ کر سکی، جب کہ پاکستان مسلم لیگ (نون) نے خود کو ان انتخابات سے دُور رکھا اور ان کے حمایت یافتہ کسی بھی امیدوار کو کام یابی نہ مل سکی۔ ہر چند کہ ان انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف نے دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل کیں، لیکن قبائلی اضلاع کے پہلے صوبائی انتخابات کے نتائج اس کی توقّعات کے اعتبار سے خاصی مایوس کن رہے۔ 

مرکز اور صوبے میں برسرِ اقتدار ہونے کی وجہ سے توقّع کی جا رہی تھی کہ پی ٹی آئی 16میں سے 8یا10 نشستیں اپنے نام کرنے میں کام یاب ہو جائے گی، مگر ایسا نہ ہو سکا اور اس کا سب سے اہم سبب پارٹی کی جانب سے ٹکٹس کی تقسیم میں ذاتی پسند و ناپسند کے عمل کو قرار دیا گیا۔ گرچہ امیدواروں کے انتخاب اور ٹکٹ کی تقسیم کے لیے تشکیل دیا گیا پارلیمانی بورڈ، وزیرِ اعلیٰ، محمود خان، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، مولانا نور الحق قادری اور پی ٹی آئی کے رہنما، ارشد داد پر مشتمل تھا، لیکن تمام تر معاملات میں گورنر خیبر پختون خوا، شاہ فرمان کا کردار عملاً نمایاں نظر آیا۔ ٹکٹس کی تقسیم کے عمل کے دوران غیر سنجیدگی کا اندازہ اس اَمر سے لگایا جاسکتا ہے کہ حلقہ پی کے 104پر نام زَد کیے گئے امیدوار کو محض چند گھنٹے بعد ہی ڈراپ کر کے اُس کی جگہ دوسرے امیدوار کو سامنے لایا گیا۔ 

تاہم، صرف اس ایک تبدیلی ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ چند گھنٹے بعد اس امیدوار کو بھی ڈراپ کر دیا گیا اور اس کی جگہ ایک نئے امیدوار کو نام زد کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے کارکنوں میں بے چینی اور بد دلی پھیل گئی۔ تاہم، اس سے بھی حیران کُن واقعہ یہ پیش آیا کہ پارلیمانی بورڈ کے ایک رُکن نے ضلع خیبر کے ایک حلقے کے لیے پارٹی کی جانب سے نام زد کردہ امیدوار کی بہ جائے ایک آزاد امیدوار کی حمایت کا نہ صرف اعلان کیا، بلکہ پارٹی کی مقامی قیادت اُس کے لیے انتخابی مُہم بھی چلاتی رہی اور یوں باہمی اختلافات کی وجہ سے پی ٹی آئی کو ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔

عام انتخابات 2018ء کا ایک سال مکمل ہونے پر 25جولائی کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مُلک بھر کی طرح پشاور میں بھی مشترکہ احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (فے)، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (نون) اور قومی وطن پارٹی کے علاوہ نیشنل پارٹی اور پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی نے شرکت کی۔ اپوزیشن کا یہ یومِ سیاہ اور جمعیت علمائے اسلام (فے) کا ملین مارچ کارکنوں کی تعداد کے اعتبار سے انتہائی کام یاب رہا۔ 

اپوزیشن جماعتوں نے شدید گرمی کے باوجود بڑی تعداد میں کارکن جمع کر کے حکومت کی پریشانی میں اضافہ کر دیا، جب کہ اس سے قبل حکومت اس غلط فہمی کا شکار تھی کہ حزبِ اختلاف میں شامل جماعتیں اپنے کارکنوں کی قابلِ ذکر تعداد سڑکوں پر لانے میں کام یاب نہیں ہو پائیں گی۔ اگر جمعیت علمائے اسلام (فے) کے اسلام آباد دھرنے کے تناظر میں خیبر پختون خوا کے سیاسی منظر نامے کی بات کی جائے، تو بِلا شُبہ اس کے سبب صوبے کی اپوزیشن جماعتوں نے بھر پور سیاسی فواید حاصل کیے۔ 

اس ضمن میں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ دھرنے سے بعض اپوزیشن جماعتوں کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ حکومت کے خلاف آزادی مارچ اور دھرنے کے دوران جے یو آئی (فے) اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھرپور انداز میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا اور ان دونوں جماعتوں کے جلوس متاثر کُن حد تک بڑے تھے۔ دریں اثنا، مسلم لیگ (نون)، قومی وطن پارٹی اور پیپلز پارٹی نے بھی اپنے کارکنوں کی قابلِ ذکر تعداد اسلام آباد پہنچا کر اپنی طاقت و اہمیت واضح کر دی۔ 

تاہم، اپوزیشن میں شامل جماعتِ اسلامی نے حسبِ سابق اس مرتبہ بھی اپنی ’’سولو فلائٹ‘‘ کی روایت برقرار رکھی اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آخر یہ کس کے ساتھ ہے۔ جماعتِ اسلامی وہ واحد اپوزیشن جماعت تھی کہ جس نے جے یو آئی (فے) کے آزادی مارچ اور دھرنے سے خود کو مکمل طور پر الگ تھلگ رکھا، جب کہ جماعت کی اس پالیسی کی وجہ سے اس کے اپنے کارکن بھی مخمصے سے دو چار ہو گئے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی گزشتہ صوبائی حکومت کا میگا پراجیکٹ، پشاور بی آر ٹی دو برس گزرنے کے باوجود بھی مکمل نہ ہو سکا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے اس منصوبے کو 6ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب منصوبے کے ڈیزائن میں درجنوں مرتبہ تبدیلی کی وجہ سے اس کی لاگت کا تخمینہ بھی 49ارب 34کروڑ سے تجاوز کر کے 66ارب 43کروڑ روپے سے زاید ہو گیا۔ 

صوبائی حکومت نے دسمبر 2019ء میں اس منصوبے کی تکمیل کا اعلان کیا اور پھر فروری 2020ء میں بسیں چلانے کا عندیہ دیا، تاہم پشاور کے عوام اب تک پی ٹی آئی کے اس میگا پراجیکٹ کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو پشاور بی آر ٹی پراجیکٹ کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے۔ 

دِل چسپ اَمر یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ بی آر ٹی سے متعلق مقدّمات میں اب تک 3فیصلے سنا چُکی ہے۔ ایک رِٹ پٹیشن پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، یحییٰ آفریدی نے خارج کر دی تھی، جب کہ اسی درخواست پر نئے چیف جسٹس، وقار احمد سیٹھ نے قومی احتساب بیورو کو تحقیقات کا حُکم دیا۔ تاہم، عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے پر حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کر لیا اور عدالتِ عظمیٰ نے 5ستمبر 2018ء کو پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطّل کر دیا۔ 

اس موقعے پر اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے منصوبوں کی تحقیقات سے راہِ فرار اختیار کر رہی ہے، حالاں کہ اُسے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، تاکہ عوام مطمئن ہو سکیں۔ مزید برآں، 2019ء میں صوبائی حکومت نے اپنے قائد اور وزیرِ اعظم، عمران خان کے دعوئوں کے برعکس ترقّیاتی منصوبوں پر توجّہ مرکوز کرتے ہوئے سی پیک کے تحت پشاور سے ڈیرہ اسمٰعیل خان تک موٹر وے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں صوبے کے جنوبی اضلاع کے عوام کو سہولت ملنے کے علاوہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ بھی ملے گا۔ گرچہ صوبائی حکومت فی الوقت سی پیک کے تحت رشکئی اکنامک زون کی تعمیر مکمل نہیں کر سکی، لیکن مذکورہ صنعتی زون کی تکمیل سے صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

2019ء کے آخر میں وزیرِ اعظم، عمران خان نے صوبے کے ایک میگا پراجیکٹ، ہزارہ موٹر وے کا افتتاح کیا، جس کا سنگِ بنیاد سابق وزیرِ اعظم، میاں محمد نواز شریف نے رکھا تھا۔ یاد رہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عمران خان شاہ راہوں اور پُلوں کی تعمیر کو سرمائے کا زیاں قرار دیتے تھے، لیکن حکومت میں آنے کے بعد انہیں ایک ایسے ہی میگا پراجیکٹ کا افتتاح کرنا پڑا۔ 

علاوہ ازیں، سوات موٹر وے کا افتتاح بھی کر دیا گیا، جس کی تعمیر کا آغاز پرویز خٹک کی وزارتِ اعلیٰ کے دَور میں ہوا تھا۔ صوبائی اسمبلی سے خیبر پختون خوا ریجنل اینڈ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بِل کی منظوری کے بعد نہ صرف ڈاکٹرز کو اُن کے آبائی علاقوں میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بلکہ اس قانون کے نفاذ کے بعد نئے بھرتی ہونے والے ڈاکٹرز سِول سرونٹ نہیں، بلکہ پبلک سرونٹ بن گئے۔ ڈاکٹرز نے مذکورہ حکومتی فیصلے کے خلاف صوبے بھر میں کئی ہفتوں تک احتجاج، ہڑتالوں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ 

اس موقعے پر احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی ڈاکٹرز زخمی ہوکر اسپتال پہنچے۔ نیز، متعدد کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا۔ ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کے نتیجے میں سرکاری اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں کو شدید اذیّت کا سامنا کرنا پڑا ۔ نتیجتاً ڈاکٹرز حکومتی فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو گئے۔

تازہ ترین