• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2018ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنے ’’تبدیلی‘‘ کے پُرکشش نعرے کے سبب کام یابی حاصل کی تھی اور اس کے حق میں ووٹ دینے والے پنجاب کے عوام اس ظفر مندی کو تازہ ہوا کے جھونکے اور صبحِ نو سے تشبیہ دے رہے تھے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے برسرِ اقتدار آنے کے کم و بیش ڈیڑھ برس بعد بھی صوبے میں کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ 2019ء میں کمر توڑ منہگائی، بے روزگاری کی خوف ناک لہر، اُکھاڑ پچھاڑ کی وجہ سے بیورو کریسی میں جنم لینے والی بے چینی اور تاجروں ، اساتذہ، ڈاکٹروں کے احتجاجی مظاہروں نے غیر یقینی کی ایسی صورتِ حال پیدا کر دی، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ 

نیز، قیادت کے بُحران کے سبب بھی 2019ء اہلِ پنجاب کے لیے ایک مایوس کُن سال ثابت ہوا۔ قبل ازیں، تبدیلی کے نعروں، اُمیدوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے جَلو میں 20اگست 2018ء کو ڈیرہ غازی خان کے ایک بلوچ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 50سالہ سردار عثمان احمد بُزدار نے بطور وزیرِ اعلیٰ حلف اُٹھایا، تو سیاسی و عوامی حلقوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی، کیوں کہ ایک جانب نو وارد اور گُم نام ہونے کے باعث وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں شامل پی ٹی آئی کے مضبوط امیدواروں میں اُن کا نام تک شامل نہ تھا ،تو دوسری جانب وہ مُلک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے درکار اُن ’’مروّجہ صفات‘‘ سے بھی متّصف نہیں تھے کہ جو ایک تجربہ کار، گھاگ، متحرک، فعال، شُعلہ بیاں اور فنِ گفتگو میں ماہر کسی لیڈر میں پائی جاتی ہیں۔ 

چناں چہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ صوبے کے سیاسی منظر نامے پر ترقّیاتی و فلاحی سرگرمیوں کی بجائے دھیمے مزاج کے حامل وزیرِ اعلیٰ کی برطرفی کی افواہیں اور سیاسی جوڑ توڑ اور بیڈ گورنینس کی خبریں چھائی رہیں۔ ہر چند کہ صوبے کے عوام کو گُڈ گورنینس اور بہتری کے واضح آثار دکھائی نہیں دیے، لیکن حکومت نے مختصر عرصے میں ریکارڈ ترقّیاتی منصوبوں کے آغاز کا دعویٰ کیا اور اپنے اس دعوے کو تقویّت پہنچانے کے لیے 60صفحات پر مشتمل ایک خُوب صُورت کتابچہ بھی شائع کیا، جس میں اربوں روپے کی لاگت کے ایک سو سے زاید ترقّیاتی منصوبوں اور فلاحی اسکیمز کا ذکر کیا گیا۔ 

ان منصوبوں کا تعلق ہاؤسنگ، پرائمری ایجوکیشن، ہیلتھ کیئر، وومن ڈیولپمنٹ، ٹرانسپورٹ، سوشل ویلفیئر، خوراک، زراعت اور لائیو اسٹاک سمیت دیگر درجنوں شعبوں سے ہے۔ نیز، گزشتہ برس وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا کہ پنجاب کے کسان اپنی اجناس براہِ راست صوبے کے 12ماڈل بازاروں میں فروخت کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں، منہگائی پر قابو پانے کے لیے فوڈ اتھارٹی کے طرز پر پرائس کنٹرول اتھارٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ اسی طرح حکومتِ پنجاب نے ریسکیو 1122کے 3,400ملازمین کو مستقل کرنے کی نوید بھی سُنائی۔

اگر صوبے کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے، تو 2019ء میں پاکستان مسلم لیگ (نون) کے رہنمائوں کی پکڑ دھکڑ کی خبریں نمایاں رہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم واقعہ علیل سابق وزیرِ اعظم، میاں نواز شریف کی نیب کی حراست سے اپنی رہائش گاہ، جاتی اُمرا منتقلی اور پھر بیرونِ مُلک روانگی تھا۔ اس کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمن کا دھرنا بھی موضوعِ بحث رہا۔ گرچہ جے یو آئی کے آزادی مارچ کے لاہور سے گزرتے وقت مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت موجود نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود بھی مولانا اسلام آباد دھرنے میں لوگ جمع کرنے میں کام یاب ہو گئے۔ 

دھرنا ختم ہونے کے بعد ’’پلان بی‘‘ کے تحت پنجاب کی بعض اہم شاہ راہوں کی بندش نے صوبے اور مُلک کے مختلف حصّوں کے عوام کے لیے مسائل پیدا کر دیے۔ بعد ازاں، صوبے کے سیاسی حلقوں میں کئی روز تک اس سوال پر بحث جاری رہی کہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے بغیر ہی اچانک دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیوں کیا گیا۔ دوسری جانب نواز شریف کی بیرونِ مُلک روانگی کے فوراً بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی تبدیلی اور سیاسی جوڑ توڑ سے متعلق قیاس آرائیوں میں تیزی آئی۔ 

تاہم، یہ سلسلہ اسپیکر پنجاب اسمبلی، چوہدری پرویز الٰہی کے اس بیان کے بعد ختم ہو گیا کہ وہ عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مگر سال کے آخر میں عثمان بزدار ایک بار پھر ذرائع ابلاغ کی توجّہ کا مرکز بن گئے۔ البتہ اس مرتبہ بھی اُن کی وزارتِ اعلیٰ سے رخصتی کی اطلاعات غلط ثابت ہوئیں اور اس کی بجائے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری، پنجاب کی تبدیلی سمیت صوبے کی بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تقرّریوں اور تبادلوں نے ہلچل مچا دی۔ دوسری جانب آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کے موقعے پر پیدا ہونے والے تنازعے نے بھی صوبے کے سیاسی حلقوں کو ایک اور گرما گرم موضوع فراہم کر دیا۔ 

دریں اثنا، نیب کی جانب سے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میاں شہباز شریف اور اُن کے اہلِ خانہ کے اثاثے منجمد کرنے سے اُن کی جماعت کے رہنمائوں اور کارکنوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ علاوہ ازیں، پی ٹی آئی نے بلدیاتی نظام مستحکم کرنے کے اپنے وعدے کو عملی شکل دینے کے لیے پہلا قدم اُٹھاتے ہوئے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو تحلیل کر دیا اور اس نظام میں اصلاحات کے بعد فروری 2020ء میںغیر جماعتی بنیادوں پر نئے بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔

گرچہ موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی پنجاب بالخصوص لاہور میں اسموگ چھا جانے کا سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں شہری آنکھوں، گلے اور سینے کے مختلف امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں، تاہم سالِ گزشتہ میں صوبائی دارالحکومت میں نسبتاً زیادہ فضائی آلودگی دیکھنے میں آئی۔ اس موقعے پر ورلڈ ایئر کوالٹی انڈیکس میں لاہور کو نئی دہلی کے بعد دُنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ۔ بعض ماہرین نے فضائی آلودگی اور اسموگ کا سبب مشرقی پنجاب میں فصلیں جلانے کے عمل کو قرار دیا، جب کہ بھارتی ماہرین نے پاکستان کو ذمّے دار قرار دیا۔ 

وزیرِ اعظم، عمران خان نے ایک تقریب میں اسموگ کی وجوہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پچھلے 10برسوں میں لاہور سے 70فی صد درختوں کا صفایا کیا گیا۔ وجوہ سے قطع نظر، اسموگ نے پنجاب کے عوام کو پریشان کیے رکھا اور اس کی وجہ سے ان کے معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوئے۔ گرچہ فضائی آلودگی میں کمی کے لیے فرسودہ طریقوں پر عمل کرنے والے اینٹوں کے بھٹّوں اور دُھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈائون کیا گیا، لیکن اسموگ کی شدّت پھر بھی کم نہ ہوئی اور ایئر کوالٹی انڈیکس 600تک جا پہنچا۔ نومبر میں حکومت کی جانب سے تمام اسکولز کے طلبہ کو لازماً ماسک پہننے اور گھروں سے غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی، مگر اس کے باوجود اسموگ جاتے جاتے اپنے پیچھے بیماروں کی ایک لمبی قطار چھوڑ گئی۔ 

2019ء میں پنجاب میں ڈینگی کے وار بھی جاری رہے ، جس نے جُڑواں شہروں، راول پنڈی اور اسلام آباد میں سب سے زیادہ تباہی پھیلائی، جہاں ڈینگی بخار میں مبتلا 80افراد لقمۂ اجل بنے، جب کہ مجموعی طور پر تقریباً 18ہزار متاثر ہوئے۔ البتہ لاہور میں ڈینگی کی وبا زیادہ تیزی سے نہیں پھیلی اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چوں کہ 2013ء میں اس وبا کا سامنا کرنے کی وجہ سے شہر کے باسیوں میں ڈینگی وائرس کے خلاف قوّتِ مدافعت پیدا ہو چُکی ہے، لہٰذا وہ اس سے بڑے پیمانے پر متاثر نہیں ہوئے۔ بہرکیف، ڈینگی وائرس پر مکمل طور پر قابو پانے میں ناکامی نے صفائی سُتھرائی کے انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

2019ء میں پنجاب میں ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری ہلاک ہو گئے۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کاروں، موٹر سائیکلز اور پبلک ٹرانسپورٹ کی تعداد میں اندھا دُھند اضافے کے باعث حادثات کی شرح بھی بڑھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2016ء میں ٹریفک حادثات کی شرح 5فی صد تھی، جو 2017ء میں 11فی صد اور 2019ء میں 18فی صد ہو گئی اور صرف صوبائی دارالحکومت، لاہور میں 2013ء سے 2018ء تک ڈھائی لاکھ ٹریفک حادثات ہوئے، جب کہ ٹریفک پولیس کی تمام تر توجّہ حسبِ دستور ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کی بجائے چالان کاٹنے پر مرکوز رہی۔ گزشتہ برس ریل گاڑیوں کے حادثات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جب کہ 30اکتوبر کو جنوبی پنجاب کے علاقے، لیاقت پور کے قریب کراچی سے لاہور آنے والی تیز گام کی تین بوگیوں میں آتش زدگی کے نتیجے میں 71مسافر جاں بحق اور 40سے زاید مسافروں کے زخمی ہونے کے اندوہ ناک واقعے نے پورے مُلک کو سوگ وار کر دیا۔ 

اس موقعے پر لوگ سوختہ لاشوں کے درمیان اپنے پیاروں کو تلاش کرتے نظر آئے ،تو ان مناظر نے دیکھنے والوں پر رقّت طاری کر دی۔ ہر چند کہ ریلوے انتظامیہ نے حادثے کی ذمّے داری تبلیغی جماعت سے وابستہ اُن مسافروں پر ڈال دی، جو گیس سیلنڈر پر ناشتا تیار کرر ہے تھے، لیکن بعض مسافروں کی جانب سے حادثے کا سبب شارٹ سرکٹ کو قرار دیا گیا۔مزید برآں، ینگ ڈاکٹرز نے گرینڈ ہیلتھ الائنس کی اپیل پر میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ کے خلاف لاہور سمیت پنجاب کے تمام بڑے اسپتالوں میں ہڑتال کر دی، جو 29دن تک جاری رہنے کے بعد 7نومبر کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ختم کی گئی۔ 

تاہم، ڈاکٹرز کی ہڑتال کے دوران اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں کی بے بسی، مسیحائوں کی بے حسی منظرِ عام پر لے آئی۔ یاد رہے کہ پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالیں معمول بن چکی ہیں اور حُکم ران شاید اس لیے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ وہ اپنے علاج معالجے کے لیے نجی اسپتالوں اور کلینکس کا رُخ کرتے ہیں۔ حیرت انگیز اَمر یہ ہے کہ اچھی شُہرت کی حامل صوبائی وزیرِ صحت، ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی ہڑتال ختم کروانے میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کیا۔

سالِ گزشتہ میں قومی احتساب بیورو کی فعالیت اور کارکردگی پورے مُلک میں زیرِ بحث رہی۔ نیب، لاہور کی جانب سے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا گیا کہ قومی احتساب بیورو، لاہور 2017ء سے اب تک 6ارب 42کروڑ روپےکی ریکارڈ پلی بار گیننگ کر چکا ہے۔ گزشتہ برس صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال کچھ زیادہ اچھی نہیں رہی اور قصور کے قریب واقع، چونیاں ایک بار پھر بچّوں کے اغوا اور قتل کے واقعات کے حوالے سے خبروں کا موضوع بنا۔ اس سلسلے میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 10سال سے کم عُمر بچّوں سے زیادتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2019ء کے پہلے 10ماہ کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں بچّوں سے زیادتی اور انہیں قتل کرنے کے 1,219کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات میں 831بچّوں کے ساتھ بد فعلی کی گئی اور 11کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح درندہ صفت افراد نے 372بچّیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور 5کو موت کی نیند سُلا دیا۔ بچّوں سے زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات لاہور میں ہوئے۔ 2019ء میں 25سے زاید افراد کو قتل کیا گیا ، جب کہ پولیس قاتلوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔ 

قتل کی سب سے زیادہ وارداتیں سٹی ڈویژن میں ہوئیں۔ غیرت کے نام پر قتل کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2011ء سے 2018ء تک صوبے بھر میں مجموعی طور پرڈھائی ہزار افراد کو قتل کیا گیا، جب کہ 2019ء میں اس قسم کے سب سے زیادہ واقعات فیصل آباد ریجن، سرگودھا ریجن اور ملتان ریجن میں رُونما ہوئے۔ 

گزشتہ برس کے اختتام پر انٹرنیشنل کرائم واچ ڈاگ کی رپورٹ بھی سامنے آئی، جس میں لاہور کو دُنیا کے کئی بڑے شہروں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ قرار دیا گیا۔ اکتوبر میں لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کا وہ فیصلہ سامنے آیا، جس کا بڑی شدّت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ فیصلہ 2018ء میں رُونما ہونے والے سانحۂ ساہیوال سے متعلق تھا۔ اس واقعے میں پولیس اہل کاروں نے دہشت گرد سمجھ کر کم سِن بچّوں کے سامنے اُن کے ماں باپ کو گولیوں سے بُھون دیا تھا۔ 

تاہم، عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے واقعے میں ملوّث 6پولیس اہل کاروں کو بری کر دیا۔ دیگر واقعات کی طرح یہ فیصلہ بھی کئی روز تک شہریوں کے دل و دماغ پر چھایا رہا۔ 11دسمبر کو لاہور کی تاریخ کا انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا کہ جب سیکڑوں وکلا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر چڑھ دوڑے۔ اس دوران مشتعل وکلا آپریشن تھیٹر، آئی سی یو اور وارڈز میں گھس گئے اور بیش قیمت مشینز اور دیگر آلات توڑنے کے علاوہ عملے کو بھی تشدّد کا نشانہ بنایا۔

نیز، مریضوں کے آکسیجن ماسکس تک اُتار دیے۔ اسپتال میں اس ہنگامے اور توڑ پھوڑ کے دوران طبّی امداد نہ ملنے کے باعث 4مریض جاں بحق ہوگئے۔ وکلا نے صوبائی وزیرِ اطلاعات، فیاض الحسن چوہان پر بھی تشدّد کیا، جب کہ پولیس نے متعدّد وکلا کو گرفتار کر لیا۔

تازہ ترین