آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل23؍جمادی الثانی 1441ھ 18؍ فروری2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تاریخی فیصلے، 3 چیف جسٹس، 2019ء عدلیہ کے نام رہا

گو کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سال 2019ء بھرپور ہنگامہ خیزی کے ساتھ شروع ہوا، لیکن پہلے ہی ماہ چیف جسٹس، ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے بطور چیف جسٹس عُہدہ سنبھالا، تو ایک لمبے عرصے تک خاموشی طاری رہی۔ تاہم، سال کے آخری دنوں میں عدالتی فعالیت کا ایک نیا اور تاریخی دَور شروع ہوا۔ جسٹس ثاقب نثار مفادِ عامّہ اور بنیادی حقوق کے آرٹیکل 184(3)کے تحت اختیارات استعمال کرنے کے حوالے سے خاصے فعال تھے، لیکن جسٹس آصف سعید اس معاملے میں بے حد محتاط رہے۔ 

20دسمبر کو جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اپنے فرائض سے سبک دوش ہوئے، تو سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج، جسٹس گلزار احمد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 27ویں چیف جسٹس مقرّر ہوئے۔ اُنھوں نے ایوانِ صدر میں منعقدہ ایک پُروقار تقریب میں عُہدے کا حلف اُٹھایا۔ جسٹس گلزار احمد آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کے تحفّظ، انسانی حقوق اور مفادِ عامّہ کے مقدمات میں نااہل حکومتی اہل کاروں کے حوالے سے سخت موقّف رکھنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اُن کے چیف جسٹس کا عُہدہ سنبھالنے کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ جلد ہی مفادِ عامّہ کے مقدمات کے حوالے سے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دَور کی خاموشی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 

اگرچہ جسٹس آصف سعید نے اپنے دَور میں ایک بھی ازخود نوٹس نہیں لیا، تاہم وہ اپنی تمام تر کوششوں اور خواہش کے باوجود بھی اپنی مدّتِ ملازمت کے آخری دنوں میں جوڈیشل ایکٹیو ازم سے نہ بچ سکے۔ ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ سماعت کے لیے اُن کے سامنے آیا۔ اُن کی سربراہی میں قائم تین رُکنی بینچ نے جب اس اہم مقدمے کی سماعت شروع کی، تو مُلک میں سیاسی ہلچل مَچ گئی۔ اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں ہوتی رہیں، تو افواہوں کا بازار بھی گرم رہا۔ 

اس کیس کے دَوران حکومتی قانونی ٹیم کی بار بار کی کوتاہی اور نااہلی نے بھی فضا کو مکدّر کیا۔تاہم، ہنگامہ خیز سماعت کے بعد عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے نے اس پیچیدہ معاملے کو قانونی راہ دینے کی راہ ہم وار کی۔ ابھی اس فیصلے ہی کے اثرات ختم نہیں ہوئے تھے کہ چند روز بعد سابق فوجی آمر، جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرّف کے خلاف بڑا اور تاریخی فیصلہ آگیا۔ سنگین غدّاری کیس کی سماعت کے لیے قائم خصوصی عدالت نے پرویز مشرّف کو آئین توڑنے کا جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سُنا کر مُلکی سیاست میں گویا دھماکا کردیا۔

نیز، خصوصی عدالت کے سربراہ، جسٹس وقار احمد سیٹھ کی جانب سے پرویز مشرف کی وفات کی صُورت میں اُن کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک، اسلام آباد لاکر تین دن تک لٹکانے کی رائے نے معاملے کو نیا رُخ دے دیا۔ اس فیصلے پر افواجِ پاکستان کے ترجمان ادارے، آئی ایس پی آر کے ڈی جی کی جانب سے سخت ردّ عمل سامنے آیا، تو حکومت نے بھی فیصلے پر تنقید کی۔ سال کے اختتام تک مُلک کی سیاسی صُورتِ حال پر ان فیصلوں کے اثرات محسوس کیے جاتے رہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ نئے سال میں بھی ان عدالتی فیصلوں کے اثرات محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

چیف جسٹس، آصف سعید کھوسہ کا ایک کارنامہ یہ رہا کہ اُنہوں نے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور فوج داری مقدمات کے غیر ضروری التواء کے خاتمے پر بھرپور توجّہ دی۔ فوری اور تیز رفتار سماعت کرکے مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے مُلک بھر میں ماڈل عدالتیں قائم کیں، جن سے عوام کو جلد انصاف کی فراہمی میں مدد ملی۔ 14دسمبر کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے زیرِ انتظام سپریم کورٹ میں’’ تیز رفتار انصاف کا آغاز‘‘ کے عنوان سے قومی کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں سپریم کورٹ کے ججز، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، مُلک بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ، ماڈل عدالتوں کے ججز اور میڈیا کے نمائندے شریک ہوئے۔ 

کانفرنس کی صدارت چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کی۔ کانفرنس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ’’ مُلک بھر میں کُل 465 ماڈل کورٹس کام کر رہی ہیں، جنہوں نے 208ورکنگ ڈیز میں مجموعی طور پر 1,157,66 مقدمات کے فیصلے کیے، جب کہ 1لاکھ83 ہزار258گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ اسلام آباد میں بینک اکائونٹ میں رقوم نہ ہونے کی وجہ سے چیک مسترد ہونے کی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489fکے دس پندرہ سال پُرانے مقدمات کے بھی فیصلے کیے گئے، جب ملزمان کو معلوم ہوا کہ ان مقدمات میں عدالتیں جلد از جلد فیصلے دے رہی ہیں، تو صُلح کی شرح 75فی صد ہوگئی اور ایک سال میں راضی ناموں کی بنیاد پر مدعیوں کو 1 ارب 64 کروڑ روپے واپس ملے۔‘‘

شرکاء کو بتایا گیا کہ’’ مُلک کے 32اضلاع میں قتل کے زیرِ التواء مقدمات ختم ہوگئے۔58اضلاع میں منشیات کے مقدمات ختم ہوگئے۔ 48اضلاع میں فیملی کیسز کی تمام اپیلیز نمٹا دی گئیں، جب کہ 71اضلاع میں کرایہ داری تنازعات کے حوالے سے کوئی اپیل زیرِ التواء نہیں رہی، البتہ ملتان میں قتل کے 450کیسز زیرِ سماعت ہیں۔‘‘ عدالتی حکّام کا کہنا تھا کہ’’ جن اضلاع میں قتل کے مقدمات کی شرح صفر ہوئی، وہاں ان مقدمات کا فیصلہ دس سے بیس روز میں کردیا گیا، جب کہ منشیات کے مقدمات کا فیصلہ دو سے چار روز میں کیا جاتا رہا۔ نیز، سِول مقدمات بھی دس سے بیس روز میں نمٹا دئیے گئے۔‘‘ 

علاوہ ازیں، اُنہوں نے گزشتہ برس عدالتی تاریخ میں ایک اور سنگِ میل عبور کیا۔ وہ یہ کہ سپریم کورٹ سے لے کر ماتحت عدلیہ تک، تمام عدالتوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کروا کے نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر کے عدالتی نظام میں ایک نیا ٹرینڈ متعارف کروایا۔ سپریم کورٹ کی مین، رجسٹری / پرنسپل سیٹ کی عدالتوں کو ویڈیو لنک کے ساتھ سپریم کورٹ کی کراچی، پشاور ، لاہور اور کوئٹہ برانچز سے منسلک کرکے ایک تاریخ رقم کی گئی۔پاکستان دنیا کا وہ واحد مُلک ہے، جہاں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے وکلاء کراچی، لاہور، پشاور یا کوئٹہ کی برانچ رجسٹری میں روسٹرم پر آکر دلائل دیتے ہیں اور جنہیں اسلام آباد میں بیٹھا سپریم کورٹ کا بنچ سُنتا اور مقدمات پر فیصلے سُناتا ہے۔ 

اس سے جہاں وکلاء کا وقت بچا، وہیں سائلین کے وکلاء کو اسلام آباد بھجوانے پر اُٹھنے والے اخراجات بھی بچے۔ 4ستمبر کو ایک مقدمے کی سماعت کے دَوران چیف جسٹس، آصف سعید کھوسہ نے بتایا کہ’’ ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی ساعت کے بعد سپریم کورٹ کی پشاور برانچ رجسٹری میں زیرِ التواء فوج داری مقدمات کی تعداد ایک ہفتے میں صفر ہو جائے گی۔‘‘

اگر عدالتِ عظمیٰ میں سال بَھر کے دوران زیرِ سماعت اہم مقدمات کی بات کی جائے، تو گزشتہ برس عدالت نے بیرونِ مُلک پاکستانیوں کے نان ڈیکلیئرڈ اکائونٹس اور جائیداوں سے متعلق از خود نوٹس، 2005کے زلزلے میں دنیا بَھر سے ملنے والی اربوں روپے کی امداد کے غیر شفّاف استعمال، بحریہ ٹائون معاملہ، پانی کی قلّت سے نمٹنے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر اور اس کے فنڈز کا معاملہ، ڈائریکٹ ٹو ہوم ٹیکنالوجی کی نیلامی، ضلع کوہستان میں شادی کی گھریلو تقریب میں ناچنے کی پاداش میں پانچ لڑکیوں کے قتل سے متعلق کوہستان ویڈیو اسکینڈل۔ 

سندھ کے سرکاری جنگلات کی 70ہزار ایکڑز اراضی کی غیر قانونی طور پر الاٹمنٹ کے خلاف ازخود نوٹس، آب پارہ کے قریب مرکزی سڑک پر قبضے کے خلاف ازخود نوٹس، شہری علاقوں میں پٹواریوں اور تحصیل داروں کے جائیدادوں کی رجسٹری وغیرہ کے معاملات میں عمل دخل کے خاتمے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں،18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے اسپتالوں کی صوبائی حکومتوں کو منتقلی، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں منشیّات کی فروخت اور طلبہ میں اس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متعلق ازخود نوٹس، سابق وزیرِ اعظم، میاں نواز شریف کی جانب سے 1985ء میں پاکپتن میں اپنے حامیوں کو 400ایکڑز سرکاری اراضی کی مبیّنہ غیر قانونی الاٹمنٹ، اسحاق ڈار کی وطن واپسی، ایون فیلڈ کیس میں سزاؤں کے خلاف میاں نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کی اپیلیں۔ 

قبائلی علاقے کے ایک نوجوان، نقیب اللہ محسود کے مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں قتل سمیت 4سو سے زائد افراد کے ماورائے عدالت قتل کے الزامات کے ملزم، سابق ایس ایس پی رائو انوار کی بیرونِ مُلک جانے کی اجازت کی درخواست، اصغر خان کیس، ددوچھا ڈیم کی تعمیر، مختلف ہائوسنگ سوسائیٹیز کے فرانزک آڈٹ، جعلی بینک اکائونٹس، نئی گج ڈیم کی تعمیر، بنی گالہ میں واٹر ٹریٹمنٹ کی تعمیر، اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر، پروین رحمان کے قتل کے حوالے سے ازخود نوٹس، معروف اینکر، شاہد مسعود کی پی ٹی وی فنڈز میں38ملین روپے کی مبیّنہ خُرد بُرد، ڈی جی نیب، میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کی مبیّنہ جعلی ڈگریز، آسیہ بی بی کیس، زیرِ زمین پانی کے استعمال کے لیے پالیسی سازی، معذور افراد کے حقوق ، پی آئی اے کے ملازمین کی جعلی اسناد کا معاملہ، نجی اسکولز کی فیسز میں ظالمانہ اضافے، این آئی سی ایل کیس کے ملزمان کی بریت کا معاملہ۔

میٹرو پولیٹن کارپوریشن، لاہور اور راول پنڈی کے پاکستان مسلم لیگ نون کے میئرز کی مالی اختیارات سے متعلق درخواستیں، شریف خاندان کی شوگر ملز کی غیر قانونی منتقلی، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، اپنا گھر آشیانہ اسکینڈل، مظفّر گڑھ کے کوڑے خان ٹرسٹ کی 10ہزار ایکڑ اراضی کی بندر بانٹ اور اس سے حاصل ہونے والی رقم میں خُرد بُرد، ضلع چکوال کے گاؤں، کٹاس راج میں ہندوؤں کے مقدّس ترین مقام پر واقع تالاب میں پانی کی کمی، ریڈ زون میں غیر قانونی تعمیر کیے گئے گرینڈ حیات ہوٹل کیس میں دائر نظر ثانی کی درخواستوں، گلگت و بلتستان کی عدالتوں کی آئینی حیثیت، گیس انفرا اسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سرچارج ایکٹ 2019ء سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل، لاہور گالف کلب کی ملکیت، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تن خواہوں اور سروس اسٹرکچر، پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما، طلّال چوہدری کی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواستوں، اقلیتوں کے حقوق، وفاقی وزیر، میاں محمّد سومرو کے بھانجے، بیرسٹر فہد قتل کیس کے ملزم، ارشد ملک کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست، سابق ایم ڈی، پی ٹی وی، عطاء الحق قاسمی کی غیر قانونی تقرّری کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں، شاہ زیب قتل کیس، کراچی پولیس کی فائرنگ کی وجہ سے جاں بحق ہونے والی معصوم بچّی، امل کا معاملہ، اسلام آباد کے معروف کاروباری مرکز، سنٹورس مال کی انتظامیہ کی جانب سے الاٹ کی گئی اراضی کے علاوہ بھی سی ڈی اے کی اراضی پر قبضہ کرکے پارکنگ بنانے، نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سُنانے والے احتساب عدالت کے جج، ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں دی گئی کچھ آبزر ویشنز کے خلاف میاں نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی اپیل۔ 

کوہاٹ میں رشتہ نہ دینے کی پاداش میں ایم بی بی ایس کی طالبہ، عاصمہ بی بی کو قتل کرنے کے مرتکب ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں اور گلوکار، علی ظفر کے خلاف ہراسمنٹ کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کی۔نیز،گزشتہ برس کا ایک اہم عدالتی معاملہ، سینئر جج، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کاؤنسل میں دائر کیا جانے والا صدارتی ریفرنس تھا، جس میں بیرونِ مُلک مبیّنہ اثاثوں کو بنیاد بنایا گیا۔ 

وکلاء تنظیموں نے اس کے خلاف سخت احتجاج اور مظاہرے کیے، جب کہ خود قاضی فائز عیسیٰ کے بھی اس حوالے سے کئی بیانات وغیرہ رپورٹ ہوئے۔اس ضمن میں وکلاء تنظیموں اور پی ایف یو جے وغیرہ نے سپریم کورٹ میں مجموعی طور پر 16 درخواستیں دائر کیں۔ سال کے آخر تک مذکورہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کاؤنسل میں زیرِ التواء ہی رہا۔ عدالت نے ایکشن ان ایڈ آف سِول پاور آرڈینینس 2019ء کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے آئینی درخواستوں کی بھی سماعت کی، جب کہ راول پنڈی کے رہائشی، میجر فیصل اور میجر کاشف کو قتل کرنے کے مرتکب، کیپٹن ریٹائرڈ اسماعیل پرویز کی سزائے موت کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

نئے چیف جسٹس، گلزار احمد قانون دان حلقوں اور عوام النّاس میں نااہل حکومتی افسران کے خلاف اپنے سخت ریمارکس کی وجہ سے ایک دلیر، راست باز اور بے باک جج کے طور پر معروف ہیں۔ وہ مجموعی طور پر دو سال اور 13دن تک چیف جسٹس کے فرائض سَرانجام دیں گے اور توقّع کی جا رہی ہے کہ وہ بنیادی حقوق کے آرٹیکل 184(3)کے تحت دیے گئے اختیارات کو عوام النّاس کے حقوق کے تحفّظ کے لیے بھرپور طور پر استعمال کریں گے۔

سنڈے میگزین سے مزید