وطن عزیز کی معیشت میں صنعت کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کے مانچسٹرکہلانے والےشہر فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کا سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی اس حقیقت کا اعادہ کیا کہ ’’صنعتی ترقی کی طرف نہ بڑھے تو روزگار دینا مشکل ہو جائے گا۔ خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) چینی صنعتوں کو پاکستان منتقل کرنے کا ماحول پیدا کریں گے۔ چین نہ صرف پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے بلکہ وہ ٹیکنالوجی منتقل کرکے ہماری پیداوار کو بڑھائے گا جو ہمارے لئے فائدہ مند ہے، ہمیں زراعت اور اس کی پیداوار کو بھی بڑھانا ہے‘‘۔ کوئی شک نہیں کہ زراعت اور صنعت ہماری معیشت کے بنیادی ستون ہیں اور اگر ہمیں اپنے کمزور طبقے کو اوپر لانا ہے تو ان دو شعبوں پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ معاشی اعتبار سے بھارت اگر ہم سے آگے ہے تو اس کی متعدد وجوہات ہیں، اول یہ کہ اس نے دنیا بھر کی کمپنیوں کو اپنے ہاں صنعتی یونٹ لگانے کیلئے اس شرط پر مراعات دیں کہ ایک متعین عرصے کے بعد وہ اپنے یونٹس مع ٹیکنالوجی بھارت کے حوالے کر دیں گی۔ زراعت پر ان کی توجہ کا یہ عالم ہے کہ پاکستانی پنجاب سے کہیں چھوٹے بھارتی پنجاب میں 9زرعی یونیورسٹیاں اور بے شمار ریسرچ لیبارٹریز کسانوں کو معاونت فراہم کر رہی ہیں، دیگر مراعات اس پر مستزاد ہیں۔ پھر تعجب کیسا کہ ان کی فی ایکڑ پیداوار ہم سے ڈیڑھ سے دو گنا ہے۔ پاکستان اور چین کی مثالی دوستی کا ایک اور ثبوت چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور صنعتی ٹیکنالوجی کی فراہمی ہے۔ پاکستان کو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف ملک بھر میں انڈسٹریل زونز بنانے چاہئیں بلکہ زراعت کے حوالے سے بھی چین سے بھرپور معاونت حاصل کرنی چاہئے۔ اس سے نہ صرف پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوگا اور ملک سے بھوک و بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا بلکہ پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر بھی گامزن ہو جائے گا۔