• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ان حالات میں جب گزشتہ چند ماہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں اضافے کا رجحان غالب چلا آرہا ہے، جمعہ کے روز بغداد میں امریکی ڈرون حملے کے باعث ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اچانک اضافے سے یہ قیمتیں گزشتہ سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جس سے برینٹ کروڈ آئل کے نرخ تین ڈالر اضافے کے ساتھ 69.16ڈالر فی بیرل ہو گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ کروڈ آئل کی قیمت ایک اعشاریہ 6ڈالر اضافے کے ساتھ 62.94ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جو ستمبر 2019کے بعد تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اگر ایران امریکی ڈرون حملے کا جواب دیتا ہے یا علاقے میں موجود امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بناتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث آئل کی قیمتیں کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ قبل ازیں اضافے کا یہ رجحان ستمبر 2019میں دیکھنے میں آیا تھا جب سعودی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے ہوئے تھے جس کے بعد دنیا کو خام تیل کی پیداوار کا 5فیصد رک گیا تھا۔ خلیج کی موجودہ صورتحال اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُرخطر ہے۔ لہٰذا حالات کے مزید ابتر ہونے سے پہلے ہی عالمی برادری خصوصاً مشترکہ دوست ممالک کو اس کا ادراک کرنا چاہیے۔ اگر معاملات مزید خراب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے کے ممالک متاثر ہوں گے بلکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر نہایت منفی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے عوام پہلے ہی مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا شکار ہیں اور عالمی مارکیٹ کے مزید اوپر جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے حکومت پاکستان کو ممکنہ حالات سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات پر فوری توجہ دینی چاہئے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین