• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کشیدگی عروج پر، جنگ کی تیاریاں، فوجی کارروائی کا جواب کارروائی،حق محفوظ رکھتے ہیں، ایران، یورپی اتحادی امید پر پورے نہیں اترے، امریکا

کشیدگی عروج پر، جنگ کی تیاریاں


بغداد، تہران، واشنگٹن(اے ایف پی، خبرایجنسیاں، نیٹ نیوز) کشیدگی عروج پر، جنگ کی تیاریاں،ایران کاکہنا ہےکہ فوجی کارروائی کا جواب کارروائی ، حق محفوظ رکھتے ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ سلیمانی کی ہلاکت کے حوالے سے یورپی اتحادی امید پر پورے نہیں اترے، وائٹ ہائوس کے سامنے بڑی تعداد میں لوگوں کی جانب سے مظاہرہ کیاگیا۔

ادھرجنرل سلیمانی اور ساتھیوں کی نماز جنازہ میں عراقی وزیر اعظم سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے، چین کاکہناہےکہ امریکا طاقت کاغلط استعمال نہ کرے، امریکا نے ایران کو سفارتی پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ تہران اتنا انتقام لے جتنی کارروائی ہم نے کی اور ہم نے آپ کے جنرل کو ہلاک کرڈالا، امریکی ڈیموکریٹک پارٹی ٹرمپ پربرہم ہوگئی۔

فرانس نے ایران سے اصرار کیاہےکہ وہ ایٹمی معاہدے سے نہ نکلے، ادھر بغداد اور موصل میں امریکی فوجیوں کے زیر استعمال عراقی فوجی اڈوں پر حملے ہوئے جس میں 5 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، دوسری جانب ایرانی بیس امام علی پر حملے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ 

ادھر امریکا کے 70 شہروں سمیت وائٹ ہائوس کے سامنے لوگوں کی بڑی تعداد نے مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ سے گشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ تفصیلات کےمطابق ایران کے سپریم کمانڈرو صدر کے بعد اب پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے بھی امریکا کو بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔

ایرانی فوج کے کمانڈر جنرل غلام علی ابو حمزہ نے کہا ہے کہ جہاں بھی موقع ملا امریکیوں کو جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی سزا دیں گے۔ 

ایران کے غیر سرکاری خبر رساں ادرے کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل غلام علی ابوحمزہ نے کہا ہے کہ القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ امریکا سے لیں گے، امریکی جہاں بھی ایران کی پہنچ میں ہوں گے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

جنرل سلیمانی کی موت پر ایران امریکا سے بدلہ لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، آبنائے ہرمز ایک اہم مقام ہے جہاں سے بڑی تعداد میں مغربی اور امریکی بحری جنگی جہاز گزرتے ہیں، اس علاقے میں ایران اہم امریکی اہداف کافی پہلے ہی طے کرچکا ہے۔

جنرل غلام علی ابو حمزہ نے کہا کہ خطے میں 35 کے قریب امریکی اہداف کے ساتھ ساتھ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب بھی ایران کے نشانے پر ہے۔ 

ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی اپنے بیان میں کہاکہ جنرل سلیمانی کے قتل نے امریکا کے خلاف کھڑا ہونے کے عظیم ایرانی قوم کے پختہ عزم کو دگنا کردیا ہے، امریکا کے اس وحشیانہ جرم کا انتقام لیا جائے گا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف نے بھی اپنے بیان میں امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہےکہ امریکی حملے کے بعد طاقت کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگا، ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کی اس وقتی خوشی کو بہت جلد سوگ میں بدل دیں گے۔ 

دوسری جانب عراقی ٹیلی وژن نے قاسم سلیمانی کی گاڑی پر ڈرون حملے کی مبینہ سی سی ٹی وی ویڈیو بھی جاری کردی ہے تاہم برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ فی الحال تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ یہ جنرل سلیمانی پر حملے کی ہی ویڈیو ہے۔ 

ادھر بغداد میں جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی نماز جنازہ میں عراقی وزیر اعظم سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے بعد ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر رفقاء کی میتیں کربلا پہنچادی گئیں، میتوں کو امام حسینؓ کے روضے سے نجف اشرف لے جایا جائے گا۔

جنرل سلیمانی کی میت کو مشہد الرضا کی زیارت کے بعد تہران منتقل کیا جائےگا اور امکان ہے کہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ تہران میں پیر کوادا کی جائے جس کے بعد انہیں آبائی صوبہ کرمان میں سپرد خاک کیا جائےگا۔ ادھرعراق میں ایران کے حامی جنگجوؤں پر ہفتے کو ایک اور حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ امریکی اتحادی افواج اور عراقی فوج نے حملے کی تردید کی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس سے ایک روز قبل 3 جنوری کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی پیرا ملٹری کی اہم شخصیت ابو مہدی المہندس ہلاک ہوئے تھے،قتل کی یہ کارروائی امریکا اور ایران کے مابین پہلے سے جاری کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ کرنے کا سبب بنی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود کہ وہ جنگ نہیں چاہتے امریکا نے مزید فوجی اہلکار عراق بھیجنے کا اعلان کردیا جبکہ عراقی شہریوں کو ڈر ہے کہ یہ لڑائی ان کی سرزمین پر لڑی جاسکتی ہے۔ 

نیٹو ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی حملے میں جنرل سلیمانی کے مارے جانے کے بعد نیٹو نے عراق میں اپنا تربیتی مشن معطل کر دیا ہے۔ترجمان ڈائیلان وائیٹ کا کہنا ہے کہ ’نیٹو مشن جاری ہے لیکن اس کے تحت تربیتی سرگرمیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں،انہوں نے یہ تصدیق بھی کی ہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینزسٹولن برگ نے تازہ صورت حال کے بعد امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہاہےکہ ایرانی جنرل کی ہلاکت کے حوالے سے یورپی اتحادیوں نے ویسے مددنہیں کی جیسے انہیں امید تھی ، برطانیہ ،فرانس اور جرمنی کو سمجھنا ہوگا کہ امریکا نے سلیمانی کو ہلاک کر کے امریکیوں سمیت یورپی شہریوں کو بھی محفوظ کردیا ہے۔

چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نے بغداد میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایرانی ہم منصب کو فون کیا اور صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

وانگ یی نے امریکا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا بے جا استعمال نہ کریں اور معاملات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں۔ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے بات چیت کے دوران جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکا کا خطرناک ملٹری آپریشن بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اقدار کی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی اور انتشار میں اضافہ ہوگا۔ادھر ایران سے کشیدگی روکنے کیلئے امریکا میں وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے پلے کارڈ ز اور بینرز اٹھارکھے تھے۔

لندن نے بھی اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے،اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر ماجد روانچی نے کہاہےکہ امریکا نے کل حملہ کرکے جنگ کا آغاز کردیا ہے، اب ایران کی جانب سے بھی ردعمل آئے گا جو خطرناک ہوگا، ہم اب چپ نہیں بیٹھ سکتے۔ 

علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر ریئرایڈمرل علی فداوی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے اپنے سفارتی پیغام میں ایران پر واضح کیا ہے کہ امریکی حملے میں قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا متناسب جواب دیا جائے۔

ریئرایڈمرل علی فداوی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری شدہ ایک بیان میں کہا ہے کہ بغداد کے ہوائی اڈے پر امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد امریکی حکومت نے ایران سے سفارت کاری کا آغاز کر دیا ہے، علی فداوی کا کہنا تھا کہ امریکا نے یہاں تک کہا کہ اگر آپ انتقام لینا چاہتے ہیں تو اتنا ہی لیں جتنی ہم نے کارروائی کی۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جمعے کی رات کو ایرانی ٹیلی ویژن پر دئیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ آج صبح (جمعےکو) سوئٹزرلینڈ کے سفارت کار نے امریکیوں کی جانب سے انہیں ایک خط پہنچایا۔

جواد ظریف کا کہنا تھا کہ سوئس سفارت کار کو شام کے وقت طلب کیا گیا اور اس گستاخانہ خط کے جواب میں امریکیوں کے لیے تحریری شکل میں فیصلہ کن جواب ان کے حوالے کیا گیا۔

دوسری جانب آج ایران میں سوئس سفارتخانے نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے ناظم الامور کو جب جمعے کی صبح ایرانی وزارت نے طلب کیا تو انہوں نے امریکی حکومت کا ایک خط ایرانی حکام کے حوالے کیا۔

ریئرایڈمرل فداوی نے مزید کہا ہے کہ امریکہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ایران کی جوابی کارروائی کا تعین کر سکے،امریکیوں کو سخت انتقام کا انتظار کرنا ہو گا، یہ جواب ایران تک محدود نہیں ہو گا۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ایرانی اتحادیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ بڑے علاقے میں سرگرم مزاحمتی محاذ انتقام لینے کے لیے تیار ہے۔ 

ادھر فرانس نے ایران پر زور دیا ہےکہ وہ سلیمانی کی ہلاکت کے بعد جوہری ڈیل سے دستبردار نہ ہو۔ غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق بغداد سے 50 میل شمال میں واقع بلد ائیربیس پر دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں، اس ائیربیس میں امریکی فوجی بھی تعینات ہیں تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں البتہ 5 افراد زخمی بتائے جارہے ہیں، زخمی ہونے والوں میں تین عراقی فوجی شامل ہیں۔ 

موصل میں بھی فوجی اڈے پر مارٹر گولے داغنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، میڈیارپورٹس کےمطابق اس اڈے پر بھی امریکی فوجی موجود ہیں۔مزید برآں حزب اللہ کی جانب سے عراقی فوجیوں کو امریکی فوجیوںسے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہیں۔

تازہ ترین