پشاور( گوہر علی خان، گلزار محمد خان ) خیبرپختونخوا حکومت نے طویل انتظار کے بعد بالآخر صوبائی کابینہ میں توسیع اور ردبدل کردیا ہے، خیبر پختونخوا کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے بعد کابینہ ارکان کی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں وزیر اعلیٰ 14صوبائی وزرا، 10معاونین خصوصی اور 4 مشیر شامل ہیں۔
صوبائی حکومت نے کابینہ میں توسیع ردوبدل اور اضافہ کے باوجود کسی وزیر یا مشیر کو فارغ نہیں کیا البتہ وفاق اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی’’ باپ‘‘ کو ایک مرتبہ پھر نظر انداز کرکے حکومت میں شامل نہ کرنیکا فیصلہ کیا ہے، 18ویں ترمیم کی رو سے کابینہ ارکان کی تعداد صوبائی اسمبلی کے کل حجم کا11فیصد مقرر ہے۔
اس تناسب سے وزیر اعلیٰ سمیت صوبائی وزرا کی مجموعی تعداد 16سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے،صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے’’ جنگ‘‘ کو بتایا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کیساتھ اتحاد کا کوئی فیصلہ ہوا ہے نہ اسے کوئی وزرات دی جارہی ہے۔
اس سلسلے میں محکمہ انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر صحت ،وزیر بلدیات اور وزیر مواصلات کے قلم دان تبدیل کردئیے گئے۔ مشیر تعلیم اور اور معاونین خصوصی برائے آئی ٹی کے قلم دان بھی تبدیل کردئیے گئے ۔ اعلامیہ کے مطابق صوبائی اسمبلی کے اراکین اقبال وزیر اور شاہ محمد صوبائی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا گیا۔
اقبال وزیر کا تعلق قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے ہے اقبال وزیر کوریلیف جبکہ شاہ محمد کو ٹرانسپورٹ کا محکمہ تفویض کیا گیا ہے ۔ شاہ محمد اس سے قبل بھی تحریک انصاف کی حکومت میں ہی ٹرانسپورٹ کے وزیر رہ چکے ہیں اس سے قبل انہیں مشیر بنانے کی پیشکش کی گئی تھی جسے انہوں نے ٹھکرادیا تھا اور بالاآخر وزیر بننے اور اپنا محکمہ واپس لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اسی طرح خلیق الرحمان کو وزیراعلی کا مشیر برائے ہائیر ایجوکیشن بنادیا گیا عارف احمد زئی، شفیع اللہ، ریاض خان، ظہور شاکر، وزیر زادہ، احمد خان سواتی، غزن جمال اورتاج محمد معاونین خصوصی ہونگے، وزیر زادہ چترال سے پی ٹی آئی کے اقلیتی رکن ہیں عارف احمد زئی کو معدنیات اور غزن جمال کو ایکسائز کا محکمہ حوالے کیا گیا۔
وزیر بلدیات شہرام ترکئی کا قلمدان تبدیل کرکے، وزیر صحت بنادیئے گئے، وزیر صحت ہشام انعام اللہ کی وزار ت بھی تبدیل کرکے انہیں، سماجی بہبود کا محکمہ دیا گیا۔
مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش کا قلمدان بھی تبدیل کرکے آئی ٹی کا محکمہ دیا گیا،معاون خصوصی آئی ٹی کامران بنگش کو محکمہ بلدیات کا قلمدان حوالے کیا گیا۔
واضح رہے کہ کافی عرصے سے صوبائی کابینہ میں توسیع اور بعض وزرائ کے محکموں میں ردبدل کی خبریں زیر گردش تھیں تاہم گزشتہ روز وزیر اعظم عمران کے دورہ پشاور کے دوران کابینہ میں توسیع اور وزرا ئ کے محکموں میں ردبدل کی باضابطہ منطوری دی گئی جس کے بعد ہفتے کے روز ا سلسلے میں اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے’’ جنگ‘‘ کو بتایا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کیساتھ اتحاد کا کوئی فیصلہ ہوا ہے نہ اسے کوئی وزرات دی جارہی ہے۔