• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آرمی چیف توسیع، کیا مسلم لیگ (ن) گول دائرے میں گھوم رہی ہے؟

دیکھئے جیو کے پروگرام ’ نیا پاکستان ‘ میں خواجہ آصف کی  گفتگو 


اسلام آباد (طارق بٹ) پاکستان مسلم لیگ نون کی اہم شخصیت پارٹی کے سپریم لیڈر نواز شریف کی جانب سے دی گئی ٹائم لائن تک اس قانون سازی کی پارلیمانی منظوری کے شیڈول کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہے جس کا مقصد بطور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سالہ توسیع دینا ہے۔ 

انہیں یقین ہے کہ کوئی درمیانی راستہ (سابق وزیر اعظم کی جانب سے مقرر کی گئی 15 جنوری کی ڈیڈ لائن کے قریب مجوزہ قانون کی منظوری کا وقت) مل جائے گا تاکہ پارلیمان ایسے اہم بل کو بغیر سوچے سمجھے منظور کرتی نظر نہ آئے۔ 

اہم شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ بل اگلے ہفتے کے اختتام سے کچھ پہلے پارلیمان میں سے گزر جائے گا جو کہ نواز شریف کی دی گئی تاریخ سے دور نہیں۔ 

اس مخصوص وجہ سے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس جو ہفتے کو ہونا تھے انہیں ملتوی کردیا گیا جیسا کہ ہم نے واضح کیا تھا کہ اس عمل کو وقت دیا جانا چاہئے اور ہمیں مجلس قانون ساز کے ذریعے جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔ اسے معزز طریقے سے کیا جانا چاہئے۔ 

دریں اثناء دی نیوز کی نون لیگی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے دوران مختلف آراء سامنے آئیں۔ تکلیف دہ شورش جس نے پارٹی کے آغاز کے بعد پہلی بار اسے گھیر لیا ہے اس کے کئی سوالات اور جوابات ہیں۔ 

مریم نے اپنے پارٹی کے دفتر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا اور انہوں نے اپنا استعفیٰ کیوں روک لیا؟ لندن میں نواز شریف اور نون لیگ کے پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کے درمیان بات چیت میں کیا ہوا؟ کیا خواجہ آصف پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ موجودہ رسوائی کو ختم کیا جائے؟ ن لیگ کا بیانیہ اب کہاں کھڑا ہے؟

وغیرہ۔ جہاں تک نون لیگ کے بیانیے کے نقصان کا تعلق ہے تو سخت گیر اور اعتدال پسند دونوں کے سرگرم ارکان متفق ہیں کہ اسے نمایاں انداز میں نقصان پہنچا ہے۔ ایک سخت گیر کے الفاظ میں جو کچھ ہوا وہ پارٹی پر ایک خودکش حملہ ہے۔ ان کے خیال میں مسلم لیگ نون اب ایک روایتی جماعت ہے اور ایک اور ’ق‘ لیگ جیسی ہے۔ 

ایک ہی جھٹکے میں اس نے اپنی شناخت کھودی ہے اور اب دوسروں کے رحم و کرم پر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا دفاع کسی اذیت سے کم نہیں ہے۔ لیکن دوسرا نظریہ ان لوگوں کا ہے جو دل سے اس اہم ’تبدیلی‘ کی حمایت کرتے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کا نقصان عارضی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ ان میں سے ایک نے دلیل دی کہ نقصان ایک بلبلے جیسا ہے جو جلد ہی پھٹ جائے گا۔ ایک اور لیگی شخصیت کا کہنا تھا کہ حکمت عملی کی موافقت فوری نہیں ہے۔

یہ کئی ماہ پہلے شروع ہوچکی تھی۔ سخت گیر نون لیگی رکن پارلیمان کا اس فیصلے کے حوالے سے کہنا تھا کہ کسی کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب وہ قید اور دیگر عوامل کی سختیوں کے دباؤ سے نہیں ٹوٹتا بلکہ مخصوص سیاسی ٹولے کے مستقل اثر سے ٹوٹ جاتا ہے۔

تازہ ترین