کراچی(جنگ نیوز)جیو نیوز کے پروگرام”نیا پاکستان“کے آغاز میں پروگرام کے میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ نواز شریف کی نا اہلی اور شہباز شریف کی پارٹی صدارت سنبھالنے کے بعد ن لیگ میں فیصلہ سازی کا فقدان ہے۔
ن لیگ کئی معاملات پر الجھن کا شکار نظر آرہی ہے جس مسئلے اور چیلنج کا بنیادی طور پر سامنا حکومت کو ہونا چاہئے وہ مسئلہ بالاخر حکومت کے بجائے ن لیگ کے گلے پڑ جاتا ہے مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا ہویا سپریم کورٹ کے احکامات پر آرمی ایکٹ میں ترمیم ان دونوں چیلنجز کا سامنابظاہر تو حکومت کو تھا مگر یہ دونوں چیلنجزحکومت سے زیادہ ن لیگ کے لئے درد سر بنے رہے۔
ن لیگ کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا کہ دھرنے کے وقت ن لیگی ذمہ داران واضح موقف نہ اپنا سکے،اس کنفیوژن کا ہمیں نقصان ہوا۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر بین الاقوامی امور عادل نجم نے کہا کہ ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان پر دباؤ یہ ہوگا کہ کچھ کرے مگر ہم کیسے اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھ پاتے ہیں یہ معاملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔وزیراطلاعات کے پی کے شوکت یوسف زئی بھی پروگرام میں شریک تھے۔
جاوید لطیف نے مزید کہا کہ لوگ ہم سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں دھرنے کے وقت مسلم لیگ ن کے ذمہ داران واضح موقف نہ اپنا سکے یہ کنفیوژن تھا جس کا نقصان ہمیں ہوا آرمی ایکٹ میں ترمیم آئینی سقم ہے قانون سازی کرنا ہماری مجبوری اس وجہ سے بھی ہے کہ یہ صوابدیدی اختیار قانون سازی کے بعد بھی وزیراعظم کے پاس ہی رہے گا ہم اداروں کی درستگی اوراپنی حدود میں رہنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
جماعت میں اختلاف رائے کا حق سب کو حاصل ہوتا ہے جو یہ تاثر دیا جاتا تھا کے ایک آدمی فیصلہ کرتا ہے اعلان کرتا ہے باقی اس کو ہاتھ باندھ کر قبول کرتے ہیں ہر مسئلے پرجماعت کا ہر رکن اس پر اپنی رائے دیتا ہے اور پھر اکثریتی رائے سے فیصلہ ہوتا ہے اور فیصلے بدلتے بھی ہیں نواز شریف کا یہ کہنا ہے کہ قانونی طریقہ کار کو فالو کریں۔
عادل نجم نے کہا کہ ایران سوچ رہا ہے کہ کیسے جواب دے مگر یہ طے ہے کہ ایران کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گاایران کسی طرح سے سرپرائز بھی کرے گا مگر ایسا نہیں ہے کہ معاملات ختم ہوگئے ہیں ابھی بہت کچھ ہونا ہے امریکا میں ایک بحث ضرور ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ وہاں ایران کی حامی لابی بیٹھی ہوئی ہے۔
ایران اور چین دو ایسے مسائل ہیں جس پر امریکا کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں پاکستان پر دباؤ یہ ہوگا کہ کچھ کرے مگر ہم کیسے اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھ پاتے ہیں یہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
وزیراطلاعات کے پی کے شوکت یوسف زئی نے کہا کہ ہمارے صوبائی وزیر تعلیم بارہویں کے امتحانات سے قبل امریکا منتقل ہوگئے 2013ء میں منتخب ہوکر صوبائی وزیر بنے پی ایم ڈبلیو کا بڑا اہم محکمہ انہوں نے بڑے احسن انداز میں چلایا تقریر انگریزی میں کرلیتے ہیں ان کی انگریزی کی قابلیت ایم اے ڈبل ایم اے والوں سے کم نہیں۔