آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بحری جہاز میں میّت کا جنازہ اور تکفین وتدفین

تفہیم المسائل

سوال: ہمارے فقہاء نے لکھا ہے: بحری جہاز پرفوت ہونے والوں کو غسل ،کفن اور نمازِ جنازہ کے بعد وزنی چیز باندھ کر پانی میں اتاردیں، تاکہ میت پانی کی تہہ میں پہنچ جائے ،یہ تب ہے کہ خشکی دور ہو اور میت کے پھولنے پھٹنے کا اندیشہ ہو ۔اگر بحری جہاز میں میت فریز کرکے یا کسی اور طریقے سے محفوظ رکھنے کا انتظام ہو تاکہ افضل طریقے کے مطابق میت کودفن کیاجاسکے ،میت کو زیادہ سے زیادہ کتنی دن دفنائے بغیر رکھاجاسکتا ہے؟

جواب:سمندری سفر میں اگر کسی کی موت واقع ہوجائے، تو اس کی تین صورتیں ہیں :

پہلی صورت: اگر ساحل قریب ہو اور میت میں تغیریا تَعَفُّن پیدا ہونے کاخدشہ نہ ہو تو ساحل سمندر پر پہنچ کر غسل دے کر کفن پہنایا جائے اور نماز جنازہ پڑھ کر زمین میں دفن کیا جائے ۔

دوسری صورت :اگر ساحل دور ہو اور وہاں تک پہنچنے میں سات آٹھ دن لگ جائیں اور میت کے جسم میں ناخوشگوار تغیرات پیدا ہونے کا اندیشہ ہو،کیونکہ سمندر کی ہوا نمکین ہوتی ہے اورجسم پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے ۔ برف وغیرہ کا بھی انتظام نہیں کہ لاش کی حفاظت کی جاسکے توپھر قریب ترین کوئی جزیرہ تلاش کرکے وہاں دفن کیاجائے۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو طلحہ ؓ نے جب یہ آیت:(اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًاترجمہ: ہلکے یا بھاری جہاد کے لیے نکلو (سورۂ توبہ:42 )پڑھی، تو فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہاد کا حکم دیا ہے اور ہم بوڑھے ہوں یا جوان ہمیں نکلنے کا حکم دیا ہے، سو میرے لیے کفن کی تیاری کرو ،ان کے بیٹے کہنے لگے : آپ نے حضور اکرم ﷺاور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جہاد فرمایا ہے ،اب ہم آپ کی طرف سے جہاد کریں گے، لیکن اُنہوں نے کہا: تم لوگ میرے لیے کفن تیار کرو ، سو انہوں نے تیار کرلیا ،پھر انہوں نے سمندری لڑائی میں حصہ لیا اور جہاد کے دوران جہاز پر انتقال فرمایا، ان کے رفقاء نے کوئی جزیرہ ڈھونڈنا شروع کیا تاکہ انہیں دفن کر سکیں مگر انہیں سات دن بعد اس میں کامیابی ملی، (ان سات دنوں میں )حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک میں کوئی تغیر نہ آیا،(صحیح ابن حبان:7184)‘‘۔حضرت انس بن مالک ؓ نے حضرت ابو طلحہؓ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: پھر وہ بحری جہاز میں سوار ہوئے اور جنگ کے دوران شہید ہوگئے ، تو لوگوں نے کوئی جزیرہ ڈھونڈنا شروع کیا، تاکہ انہیں دفن کرسکیں، مگر انہیں سات دن کے بعد ایسا جزیرہ ملا، تو انہوں نے انہیں وہاں دفن کردیا ، اس دوران اُن کے جسم میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا،(سُنن الکبریٰ للبیہقی : 6774)‘‘۔٭ اسے امام نووی، علامہ ذہبی ،علامہ شوکانی اور علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔

تیسری صورت :اگرتلاش بسیار کے بعد جزیرہ بھی نہ مل سکے تو پھر غسل دے کر اور کفن پہنا کر نمازِ جنازہ پڑھیں اورپھر سمندر بُرد کردیں ،تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے : ترجمہ:’’ جہاز پر کسی شخص کا انتقا ل ہوا، اُسے غسل وکفن دیا جائے گا اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی ، اگر کنارہ قریب نہ ہو توپھر اسے سمندر میں ڈال دیاجائے گا ‘‘، اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ’’فتح القدیر ‘‘ میں ہے : امام احمد سے مروی ہے : اُس کے ساتھ کوئی وزنی پتھر باندھا جائے تاکہ وہ پانی میں ڈوب جائے ،شوافع سے بھی اسی طرح منقول ہے ،اگر وہ دارالحرب کے قریب ہو ،ورنہ اسے لکڑی کے دو تختوں(تابوت) کے درمیان باندھاجائے تاکہ سمندر اسے باہر پھینک دے کہ (مسلمان پائیں تو) اُسے دفن کردیں ۔ ظاہر یہ ہے کہ اس پر یہ اندازہ لگایاجائے گا کہ ان کے لیے خشکی تک پہنچنے میں اتنا فاصلہ ہے کہ اس دوران میت کے بدن میں تغیر آسکتا ہے ۔پھر میں نے ’’نورالایضاح ‘‘ میں دیکھا کہ اسے ’’خَوْفُ الضَّرَرِ بِہٖ ‘‘ کے ساتھ تعبیر کیا گیا ،(حاشیہ ابن عابدین شامی، جلد5، ص:340، دمشق)‘‘۔ (…جاری ہے…)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk