آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بحیثیت قوم ہم بہت مہمان نواز لوگ ہیں۔ جب بھی ہمارے گھر کوئی مہمان آتا ہے تو ہم گھر کے ساتھ دل کے دروازے بھی کھول دیتےہیں۔ آج کے دور میں بھی یہ ثقافت برقرار ہے اور ہم اپنےمہمانوں کی خاطر مدارات میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کی تعمیر کے دوران بھی ڈرائنگ روم، بیٹھک یا مہمان خانہ ہمارے فلور پلان کاحصہ ضرور ہوتا ہے۔

اگر آپ کے پاس اتنا قطعہ اراضی ہے کہ آپ گھر سے الگ تھلگ ایک کمرہ بناسکیں تو اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ ضروری نہیں کہ کمرہ بہت بڑا ہو بلکہ دو سنگل یا ایک بیڈ کے ساتھ منسلک باتھ روم بھی کافی ہوگا۔ وہاں آپ کے مہمان بھی بڑے آرام و سکون سے رہیں گے ، ساتھ ہی آپ کی یا ان کی پرائیویسی میں بھی کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ آپ اور آپ کے مہمان اپنے شب و روز اپنی مرضی سے گزارسکیں گے۔ اگر آپ کے گھر مہمانوں کی آمد کم ہوتی ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر یہ گیسٹ روم خالی رہے گاتو اسے آپ پیئنگ گیسٹ روم کا درجہ بھی دے سکتے ہیں۔

گیسٹ روم کی تیاری کی بات کریں تو اس کے کئی ڈیزائن ہیں۔ ان میں سے کچھ سادہ یعنی بنیادی ہیں، جنہیں تعمیر کرنا آسان ہوتاہے جبکہ کچھ ڈیزائن لگژری ہیں، جن میں فینسی بیڈ، ناشتے کی میز اور اس کے پیچھے ایک کیبن بھی ہوتا ہے۔

سادہ گیسٹ ہائوس اتنا سادہ ہوسکتاہے کہ اسے مالک مکان خود بھی تیار کرواسکتا ہے، اس کی تیاری میں زیادہ خرچہ بھی نہیں آتا جبکہ لگژری گیسٹ ہائوس کیلئے آپ کو ماہر تعمیرات یا انٹیریئر ڈیزائنر کی خدمات حاصل کرنی پڑسکتی ہیں، اسی وجہ سے اس کی تعمیر میں زیادہ اخراجات آتے ہیں۔

گیسٹ روم کی تعمیر میں اس کے محل وقوع کا لحاظ رکھنا پڑتاہے، عموماً یہ مرکزی گھر سے ذرا ہٹ کر دائیں یا بائیں جانب بنا ہوتاہے۔ اگر آپ کے پاس زیاد ہ جگہ ہے تو اپنےگھر کے عقبی حصے یا گیرا ج کے ساتھ اسے تعمیر کرواسکتے ہیں۔ اس کی تعمیر کے دوران ہوا اور روشنی کا خاص خیال رکھا جاتاہے۔

آپ نے گیسٹ ہائوس کیلئے اگر کچھ خاص آئیڈیا ذہن میں رکھا ہوا ہےتو پھر آپ کو اس پر عملدرآمد کے لیے ٹھیکید ار یا آرکیٹیکٹ کی خدمات حاصل کرنی پڑ سکتی ہیں، جو آپ کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے تعمیر کروائے گا اور کمرے کے محل وقوع کے مطابق اس میں باتھ روم اور ایک چھوٹے سے کچن کا بھی انتظام کرے گا۔ 

نکاسی و آب کی فراہمی اور بجلی کی وائرنگ کے لیے بھی آپ کو ماہرین کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔ اس ضمن میں پانی، بجلی اور نکاسی آب کے سسٹم کو نقشہ سازی کے وقت ہی ذہن میں رکھنا ہوگا۔ 

گیسٹ روم اور انیکسی میں فرق

گیسٹ روم کی ایک شکل انیکسی بھی ہے، جو کسی بھی مکان کا ذیلی حصہ ہوتاہے۔ ہمارے ہاں عموماًگیسٹ روم کو ہی انیکسی کہا جاتاہے، جہاں وہ سب سہولتیں موجود ہوتی ہیں جو کسی بھی مرکزی مکان میں ہوسکتی ہیں۔ البتہ انیکسی گیسٹ روم کے مقابلےمیں وسیع اور زیادہ سہولتوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ 

تخلیقی گیسٹ روم

اگر آپ کچھ تخلیقی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا گیسٹ روم بہت دلچسپ بھی ہوسکتا ہے اور بعض اوقات یہ ایسی شکل میں ڈھل جاتا ہے کہ آپ کے بچے بھی اس میں ٹھہرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ گیسٹ روم کنٹینر، ٹرین کے ڈبے یا ہوائی جہاز کی شکل کا بھی ہوسکتاہے۔ کنٹینر کو چھوٹے سے گیسٹ روم میںڈھالنے کیلئے تھوڑا بہت دماغ لڑانا پڑتا ہے، اس کو بالکل ایک ہَٹ کی طرح ڈیزائن کیا جاسکتاہے بلکہ یہ ایک چھوٹا، جزوی طور پر ڈھکا ہوا برآمدہ بھی ہوسکتا ہے جو آپ کنٹینر کے آگے بنا سکتےہیں، جہاں آپ کے مہمان بیٹھ کر تازہ ہوا کھا سکیں اور آرام کر سکیں۔ آجکل چین میںکنٹینر ہائوس بہت عام ہیں، اگرآپ کی جیب اجازت دے تو آپ بنا بنایا کنٹینر ہائو س خرید کر اسے اپنے گھر میں گیسٹ روم کے طورپر رکھ سکتے ہیں۔

اسی طرح اگر آپ کو ریل کا ڈبہ یعنی بوگی مل جائے تو آپ اسے گیسٹ روم میں ڈھال سکتے ہیں یا پھر گیسٹ روم کو ریل کے ڈبے کی طرح ڈیزائن کرسکتے ہیں۔ اسی طرح کسی بھی جہاز یا ہیلی کاپٹر کی شکل کا ڈیزائن بھی دیکھنے والوں، خاص طور پر آپ کے مہمانوں کو دنگ کردے گا اور وہ وہاں رہائش پذیر ہوکر خوش ہوںگے۔

سیلیبرٹی گیسٹ روم

ہالی ووڈ کی سیلیبرٹیز کو ویسے بھی بہت زیادہ پرائیویسی درکار ہوتی ہے، اسی لیے زیادہ تر سیلیبرٹیز نے اپنےمہمانوں کیلئے پرتعیش گیسٹ رومز تیار کروا رکھے ہیں تاکہ ان کے رشتہ دار اور دوست احباب وہاں قیام پزیر رہیں اور ان کی نجی زندگی میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہو۔ 

انہی شخصیات میں مشہور ٹی وی پروگرام ’’ونس اپون اے ٹائم‘‘ کی اسٹار جینیفر موریسن، مشہور اداکارہ ڈینز رچرڈز، ’’سو یو تھنک یو کین ڈانس ‘‘ کی ہوسٹ کیٹ ڈیلی ، مشہور اداکارہ جینیفر لارنس اور مینڈی مور کے گیسٹ روم دیکھ کر آپ اش اش کراٹھیں گے۔ یہاں ٹھہرنے والے مہمان نہ صرف لگژری لائف اسٹائل کا لطف اٹھاتے ہیں بلکہ ہوٹلوں میں رہائش پزیر ہونے کا خرچہ یعنی ہزاروں ڈالرز بھی بچاتے ہیں۔

تعمیرات سے مزید