آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان‘ تھر کے علاقے میں شرح سب سے زیادہ ہے

ذہنی تناؤ، ڈیپریشن ، مالی پریشانیوں کی وجہ سے ساری دنیا میں خودکشیوں کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ایک غیر ملکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ہر 11ویں منٹ میں ایک موت خودکشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ گزشتہ چند سال سے پاکستان میںاپنے ہاتھوں سے موت کو گلے لگانے کے رجحان میں اضافہ ہواہے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ میں خودکشیو ں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ سن 2000ء یعنی نئے ہزاریئےکے آغاز کےساتھ سندھ دھرتی میں اپنی زندگیاں خود ختم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا گیا۔ 

مگر ان سے بھی زیادہ 24 ہزار میلوں کے ہم چورس علاقے تھر میں اس رجحان میں جو اضافہ ہوا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ سندھ کے صوبے میںگزشتہ سال کے دوران 1300 سے زائد افراد نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جس کا سبب غربت ، بے روزگاری، گھریلو پریشانیاں و ناچاقیاں ہیں۔ ۔ خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات میرپورخاص ڈویژن میں وقوع پذیر ہوئے جہاں 646 افراد نے معاشی، مالی اور گھریلو پریشانیوں سے تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔مرنے والوں میں 356 خواتین اور 290مرد شامل تھے۔

صوبائی دارالحکومت کراچی شہر جسے پاکستان کا معاشی حب کہا جاتا ہے، اس میں بھی خودکشیوں کے واقعات اکثرو بیشتر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں یہاں گھریلو پریشانیوں، غربت ، افلاس، بیروز گاری سے تنگ آکر اپنے ہی ہاتھوں سے زندگی جیسی قیمتی شے کا خاتمہ کرنے کے ایسے المناک واقعات رونما ہوئے جن کے اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے توسط سے منظر عام پر آنے کے بعد ہر آنکھ اشک بار ہوگئی۔ ایک ہفتے خودکشی کا روحا فرسا واقعہ ابراہیم حیدری کے علاقے میں پیش آیا۔غربت کے مارے شخص نے صرف اس وجہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا کہ سردی سے ستائے ہوئے اس کے بچوں نے اس سےگرم کپڑوں اور لحاف بستر کی فرمائش کی تھی۔ 

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کارہائشی میرحسن طویل عرصے سے بےروزگارتھاجس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہتا تھا۔وقوعہ والے روز اس کے بچوں نے اس سے فرمائش کی کہ شدید سردی ہے، ہمیں گرم کپڑے لادیں۔ اپنے بچوں کی جائز ضرورت پوری کرنا اس کے لیے ناممکن تھا۔اس لیے میرحسن نے قبرستان کے قریب جاکر خودپرپٹرول چھڑک کرآگ لگاکر خودکشی کرلی ۔ 

علاقے کے لوگوں نے موقع پر پہنچ کر فوری طورپر میرحسن پر گرم کپڑے ڈال کر آگ بجھانے کی کوشش کی مگر اس کا جسم بری طرح جھلس چکاتھا۔لوگوں نے اسے فوری طور پر ڈاکٹر رُتھ فاؤ سول ہسپتال کے برنس سینٹر منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔خود سوزی کے باعث متوفی کے جسم کا 65 فیصد حصہ جل گیا تھا۔واضح رہے کہ میرحسن نے خودکشی سے قبل وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط تحریرکیا ہے جس میں ان سےمالی مدد کی اپیل کی تھی۔

کراچی میں شادمان ٹاؤن کے علاقے میںذہنی پریشانیوںکے شکار شخص نےاپنے اہل خانہ کو قتل کرکے خود بھی خودکشی کرلی۔ اس سلسلے میںبتایاجاتا ہےکہ 40 سالہ شخص کاشف نےاپنی بیوی بیٹے اور بیٹی پر ہتھوڑی سے وار حملہ کیا جس سے اس کی دس سالہ بیٹی موقع پر ہی ہلاک ہوگئی جب کہ اس کی بیوی اور بیٹا شدد زخمی ہوئے۔ اس کے بعد اس نے چھت سے چھلانگ لگا دی جس سے اس کے بدن اور سر کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا۔گزشتہ سال دسمبر کے اوائل میں لاڑکانہ کے چار بچوں کے معذور باپ اللہ بخش سومرو نے بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔متوفی کے ورثا نے پولیس کو بتایا کہ اللہ بخش نے خودکشی سے قبل اہل خانہ اور بچوں کو اپنے عزیزوں کے گھر بھیجا اور پھرگردن میں پھندا ڈال کر گھر میں لگے درخت سے لٹک کر خودکشی کرلی۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران صحرائے تھر میں خودکشیوںکے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہواہے اور گزشتہ سال نومبرمیں صرف ایک ماہ کے دوران 12 افراد نے اپنے ہاتھوں سے زندگی کا خاتمہ کیا جب کہ تین دن کے دوران 9 افراد نے خودکشی کی۔ اپنے ہاتھوں سے اپنی ندگی کا خاتمہ کرنے والوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ تحصیل اسلام کوٹ کے گاؤں تہڑی کی دو شادی شدہ خواتین نے قریبی جنگل میں جاکر گلے میں پھنداڈ ال کر درخت سے لٹک کر خودکشی کرلی ۔دونوں خواتین آپس میں دیورانی جٹھانیاں تھیں۔ انہوں نے گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکرخودکشی کرلی ۔

اس روز مٹھی میں ایک اور خاتون نے خودکشی کی جب کہ اس سے اگلے روزجب مذکورہ دوشیزہ کو اپنی منگیتر کی خودکشی کا پتہ چلا تو اس نے بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔اس سے اگلے روز ہی مٹھی تحصیل کے گاؤں سوری وانڈ میں 20 سالہ خاتون نے کنویں میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی۔گزشتہ برس چار خواتین نے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کنویں میں چھلانگ لگا کراجتماعی خودکشی کی تھی۔ جنوری 2017 میں ایک حاملہ خاتون نے اپنے دو بچوں کے ہمراہ اسلام کوٹ کے قریبی گاؤں میں اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔

صحرائے تھر میں خودکشی کےزیادہ تر واقعات کاسبب گھریلوں ناچاقیاں، رشتوں کا تنازعہ اور بیروزگاری و مالی بدحالی بتائے جاتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران اس خطے میں خودکشی کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ خواتین کی جانب سے کنویں میں چھلانگ لا کر اپنی جان دینے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ ۔ صحرائے تھر کا ایسا کوئی گاؤں ہوگا جہاں کسی عورت نے کنویں میں چھلانگ لگاکر خودکشی نہیں کی ہو ۔بعض اوقات وہ اپنے گلے میں پھنڈا ڈال کر مکان کے اندر خودکشی کرلیتی ہیں۔

اس سلسلے میں تھر کی سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ خودکشی کےرجحان کا خاتمہ کرنے کے لیےان کے اسباب ک خاتمہ کرنا ہوگا۔ ہوش ربا مہنگائی، بیروزگاری نے لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اشیائے خورونوش اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرے۔ گھریلو ناچاقی کا سبب بنے میں واقعات کا سدباب کرنے کے لیے ہر علاقے میں آگہی پروگرام کا انعقاد کیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خودکشی کے اکثر واقعات مشتبہ ہوتے ہیں۔ کسی خاتون یا مرد کو قتل کرکے اسے خودکشی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید