آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حساس کیس لینے والے وکلاء کو درپیش خطرات، مستقل ادارہ بنانے کی تجویز

لاہور (پ ر،نامہ نگار) انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP)نے ’’ خطرے سے دوچار وکلا ‘‘ کے دسویں سالانہ عالمی دن کے موقع پر اپنے سیکرٹریٹ میں ایک گول میز مشاورتی اجلاس کا اہتمام کیا۔ اس سال یہ دن پاکستان کے حوالے سے ہے۔ اجلاس میں بار ایسوسی ایشنوں، بار کونسلوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔اجلاس میں حساس کیس لینے والے وکلاء کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے مستقل ادارہ بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ ماڈریٹر قانون دان اسد جمال نے بتایا کہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے وکلا کو درپیش خطرات پر بحث کرنا کیوں ضروری ہے۔ کمیشن کے اعزازی ترجمان آئی اے رحمٰن نے وکلا کو خطرات اور دھمکیوں کے ایسے واقعات کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکا نے وکلا کے مختلف تجربات بتائے جن میں انہیں خود اپنی وکیل برادری کے ارکان کی طرف سے کھلے عام دھمکیاں دی گئیں مثلاً قادیانی کمیونٹی کے افراد یا زیر حراست تشدد یا موت کے کیسوں میں سرکاری ایجنسیوں کی دھمکیوں کا سامنا کرنے والوں کی پیروی کرنے کو۔ سیاسی حساسیت والے کیس مثلاً جبری گمشدگی کے معاملے بھی وکلا کیلئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔قانون دان اور ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ نگہت داد نے کہا وکلا کی سیکورٹی ڈیجیٹل سیکورٹی تک محیط ہونی چاہیے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ

فوری طور پر موکلان کیلئے خطرہ پیدا کردیگا۔ شرکا میں ایک اہم اتفاق رائے یہ پایا گیا کہ خاتون وکلا اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹس کو نہ صرف مرد وکیلوں بلکہ ججوں کی طرف سے بھی ہراسانی کا زیادہ سامنا ہوتا ہے۔ ایڈووکیٹس جلیلہ حیدر اور عالیہ ملک نے مختلف واقعات بیان کیے جب انہیں عدالتوں میں ہراساں کیا گیا یا جسمانی تشدد کی دھمکی دی گئی۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین عابد ساقی نے آئین و قانون میں موجود ساختیاتی امتیازات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے تجویز کہ ایک ایسا مستقل ادارہ بنایا جائے جو توہین مذہب اور جبری تبدیلیٔ مذہب جیسے حساس کیس لینے والے وکلا کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے حکمت عملیاں بنائے۔ انہوں نے قانون کےپیشے میں موجود خواتین کو ہراساں کرنے کی شکایات سے نمٹنے کیلئے کمیٹیاں کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا ۔ انسانی حقوق کمیشن کی کونسل ممبر اور سینئر وکیل حنا جیلانی نے کہا وکلا کو ریاست اور عدلیہ کو ان خطرات سے آگاہ کرکے اس سلسلے مین اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آج کی مشاورت میں جو معاملات اٹھائے گئے ان پر تفصیل سے غور کیلئے ایک کانفرنس بلائی جائے تاکہ وکالت کا پیشہ زیادہ محفوظ ہوسکے۔

اہم خبریں سے مزید