آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ذیقعد 1441ھ2؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وائرس خطرات اور حفاظتی اقدامات!

دنیا بھر میں صرف اشیائے ضروریہ ایک ملک سے دوسرے ملک نہیں جاتیں بلکہ بعض اوقات وبائی امراض بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین جو دنیا میں مصنوعات کی درآمدات و برآمدات کے حوالے سے ایک بڑی منڈی ہے، اس وقت دنیا کو کورونا وائرس کے خطرےمیں مبتلا کرچکا ہے۔ اس سے قبل 2003ء میں سارس(Severe acute respiratory syndrome) نامی وائرس سے چین میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں لقمہ اجل بن گئیں تھیں۔ 

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، تیزی سے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر جب چینی حکام نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ کورونا وائرس بھی سارس (SARS) کے خاندان سے تعلق رکھتاہے۔ کورونا وائرس کو ’’ناول کورونا وائرس (nCov-2019)‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ناول کا مطلب ’نیا‘ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے لگنے والی بیماری کو باقاعدہ نام دے دیاہے ، جسے ’’ کووِڈ 19‘‘ کہا جائے گا۔ سارس سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کورونا وائرس کو SARS-Cov 2بھی کہا جاسکتاہے۔

کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا آغاز دسمبر 2019ء کے آخر میں ووہان شہر سے ہوا جب اسپتال میں بظاہر معمولی نزلہ زکام اور بخار کے مریض لائے گئے۔ ان مریضوں کو معمول کے طبی علاج کے بعدگھر بھیج دیا گیا، لیکن گھر جا کر وہ صحتیاب ہونے کے بجائے مزید بیمار ہوگئے۔ ان کی سانس لینے میں دشواری بڑھتی چلی گئی اور کھانا پینامشکل ہوگیا۔ ان کا پھر ٹیسٹ ہوا لیکن کوئی غیر معمولی بیماری سامنے نہیں آئی۔ 

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 31دسمبر کو ایک مریض میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ۔ اس کے بعد چینی حکام نے ملک بھر میں انتباہ جاری کردیا کہ نمونیہ جیسی بیماری پھیلانے والا مرض پھیل رہاہے۔ سانس کی تکلیف میں مبتلا ان مریضوں سے ملنے والی معلومات کی تحقیق کی گئی توان سب کا تعلق ’’ہوانان سی فوڈ‘‘ مارکیٹ سے نکلا، جہاں سمندری اور جنگلی جانور جیسے سانپ، ریکون، چمگادڑ اور خارپشت (Hedgehog)وغیرہ فروخت ہورہے تھے۔

اب تک اس موذی وائرس سے دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ40ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں، جن میں کثیر تعداد کا تعلق چین سے ہی ہے۔ عجیب سی بات یہ ہے کہ اس وائرس سے بچے بہت کم متاثر ہوئے ہیں، یہی حال2003ء میں آنے والے سارس کا بھی تھا، جس میں تقریباً8ہزار افراد مبتلا ہوئے تھے اور ان میں سے 10فیصد اموات ہوئی تھیں، تاہم ان میں بھی بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ کورونا وائرس سے بچنے کیلئے دن میں پانچ چھ بار ناک اور منہ دھونے کا مشورہ بھی دیا جارہاہے۔ 

ویسے تو چین کا پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے ہم بھی خطرے سے محفوظ نہیں، لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی اقدار پر چلنے کے باعث امید ہے کہ ہمیں اس خطرے کا زیادہ سامنا نہیں کرنا پڑے گاکیونکہ ہم حلال گوشت کھاتے ہیں اور نماز پڑھنے کی وجہ سے دن میں پانچ بار وضو بھی کرتے ہیں۔

وجوہات و خطرات

انفیکشن ہونے کا خطرہ وائرس لگنے کی شدت پر منحصر ہوتاہے۔ چین کے لوگ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں یا ایسے لوگ بھی خطرے میں ہیں جو چین کا سفر کرچکے ہیں اور وائرس میں مبتلا لوگوں کے رابطے میں رہے ہیں۔

کورونا وائرس 1960ء میں پہلی بار منظر عام پر آیا تھا، اس کی اب تک 13اقسام دریافت ہوچکی ہیں جن میں سات وائرس ایسے ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ کورونا وائرس دودھ دینے والے جانوروں اور پرندوں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتاہے۔ یہ انفلوئنزا کی طرح ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں منتقل ہوتاہے، جس سے نمونیہ، پھیپھڑوں میں سوجن اورمتاثرہ شخص کو سانس لینے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔ ساتھ ہی 2سے14دن میں نزلہ، زکام، کھانسی، سر درد اور تیز بخار ہونے لگتاہے۔

احتیاطی اقدامات

ویسے تو ہمارے ملک کو کورونا وائرس سے خطرہ نہیں ، لیکن ہر کوئی پریشانی اور تشویش میں مبتلا ہے۔ چونکہ اس بیمار ی سے بچنے کیلئے ابھی تک کسی ویکسین یا علاج کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، اس لئے ہمیں خود سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ضروری نہیں کہ یہ احتیاطی تدابیر آپ کو صرف کورونا وائرس سے محفوظ رکھیں بلکہ دیگر بیماریوںا ور جراثیم سےبھی آپ کو تحفظ فراہم کرسکتی ہیں۔

٭ اپنی صحت کا خود خیال رکھیں ۔

٭ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

٭ اپنے ہاتھوں کو کم سے کم 20سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔

٭ اگر ہاتھ صاف نہ ہوں تو انہیں آنکھوں، ناک اور منہ پر لگانے سے گریز کریں۔

٭ کھانستے یا چھینکتے وقت منہ کو کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانپ لیںاور اس کے فوراً بعد صابن سے ہاتھ دھولیں۔

٭ کام کاج کی جگہوں اور گھر کو صاف ستھرا رکھیں اورجراثیم کش اسپرے کرواتے رہیں۔

٭ جب آپ بیمار ہوں تو گھر پر آرام کریں اور جب تک ٹھیک نہ ہو جائیںدوسروں سے دوری اختیار کریں۔

٭ چھینک، سانس یا کھانسی کی وجہ سے ہونے والے انفیکشن یا بیماریوںسے بچنے کیلئے عوامی مقامات پر سفر یا کام کرتے ہوئے ماسک کا استعمال کریں۔

٭ اگر کسی مریض میں کورونا وائرس جیسی علامات ( کھانسی، بخار یا سانس کی تنگی) پائے جانے کا شبہ ہوتو وہ فوری طور پر ماسک پہنے اور قریبی اسپتال سے رجو ع کرے۔

٭ قوتِ مدافعت بڑھانے کیلئے صحت بخش غذائوں کا استعمال اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا چاہئے۔