وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے استفسار کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرتے تو متبادل راستہ کیا ہے؟
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران علی پرویز ملک نے کہا کہ جب ہم نے قیمتوں میں اضافہ کیا تب ڈیزل کی قیمت عالمی سطح پر 150 ڈالر تھی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، جو حالات ہیں پیٹرول کی قیمتوں میں شاید زیادہ رد و بدل نہ آئے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مجبوراً پیٹرول کی قیمتوں میں بڑا بوجھ عوام پر ڈالا گیا، بتایا جائے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہ کرتے تو متبادل راستہ کیا ہے؟
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان توانائی کی 90 فیصد ضرورت امپورٹ سے پورا کرتا ہے، وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ آیا تو کفایت شعاری کے ذریعے کنٹرول کریں گے۔
علی پرویز ملک نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت کو فیصلہ کرنے سے پہلے صوبائی حکومت کو مشاورت کرنا ہوتی ہے، ہم نے تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کرکے فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2022ء میں عدم اعتماد کے وقت پیٹرول کی قیمتوں پر سیاست کی، پیٹرول کی قیمت پر سیاست کا پھر ملک کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں 80 روپے اضافہ تھا لیوی کم کر کے قیمت کم بڑھائی، ملک میں خلیجی ممالک سے آنے والے تیل کی ریفائنری ہوتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کمرشل طور پر روس کا تیل ہمارے لے زیادہ فائدہ مند نہیں، یہ تیل شاید کمپنی کے لیے مفید ہو عوام کےلیے نہیں ہوگا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرول کی ترسیل میں سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں مدد مل رہی ہے، گیس کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر گیس نہیں لے رہا تھا، معاہدے تھے تو قطر کی گیس روک نہیں سکتے تھے، ہم نے اپنے پلانٹ بند کرکے قطر کی گیس استعمال کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قطر کے ساتھ 2026 تک گیس کے معاہدے ہمارے ہیں، ملک میں کھاد کا وافر ذخیرہ موجود ہے، کھاد سیکٹر کی گیس بند کرکے رمضان میں لوگوں کو گیس فراہم کی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ شراکت داری اور ذمے داری کے ساتھ استحکام حاصل کیا، اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی کرے گی۔