آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بلڈ شوگر میں کمی یا اضافہ، دونوں ہی خطرناک

بلڈ شوگر یعنی خون میں شوگر کی سطح کم ہو یا زیادہ (Low or High)، دونوں صورتوں میں یہ انتہائی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ گلوکوزجسے عرف عام میں بلڈ شوگر کہا جاتا ہے، انسانی صحت کیلئے اہم ہوتی ہے۔ اگر بلڈ شوگر کی سطح بلند ہو تو سستی محسوس ہونے لگتی ہے جبکہ اچانک کمی کمزوری اور دوسری تکالیف کا باعث بنتی ہے۔

ذیابطیس یعنی شوگر کے مرض نے اس وقت دنیا بھر میں وباء کی صورت اختیار کرلی ہے، جو دیگر جان لیوا امراض کا بھی سبب بن جاتی ہے۔ اس مرض کے شکار افراد میں بلڈ شوگر بڑھنے یا کم ہونے کی شکایت بہت عام ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں متاثرہ شخص کو کیا کرنا چاہیے؟ اور کیسے اندازہ لگانا چاہیے کہ بلڈ شوگر میں اچانک اضافہ ہوا ہے یا اس میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے؟

درحقیقت برسوں سے ذیابطیس کے شکار اکثر افراد کے لیے بھی یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ کسی مخصوص وقت پر ان کے خون میں شوگر کی سطح بڑھی ہوئی ہے یا کم ہے، تاہم کچھ ایسی علامات ہیں جن سے کسی حد تک اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلڈ شوگر کم ہے یا زیادہ۔

لو بلڈ شوگر کی علامات

٭ کمزوری اور کپکپاہٹ محسوس ہونا۔

٭ جِلد زرد پڑ جانا اور ٹھنڈ سمیت چپچپا محسوس ہونا۔

٭ چڑچڑاہٹ، الجھن اور خراب رویے کا مظاہرہ کرنا۔

٭ دل کی دھڑکن کی رفتار اچانک بڑھ جانا۔

٭ مریض کا ہوش و حواس کھو دینا یا بے ہوش ہوجانا۔

اگر ذیابطیس کا کوئی مریض کم بلڈ شوگر کا شکار ہو اور چینی دینے پر بھی اس کی حالت بگڑنے لگے تو اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا جائے۔ کوئی ایسا شخص، جس میں حال ہی میں ذیابطیس کی تشخیص ہوئی ہو اس میں بلڈ شوگر کی سطح اچانک گر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

لو بلڈ شوگر میں فوری امداد

چینی : اگر مریض مکمل طور پر ہوش و حواس میں اور الرٹ ہو تو اسے کوئی میٹھا مشروب جیسے تازہ پھلوں کا رس یا کوئی گلوکوز ٹیبلٹ دیں۔ ذیابطیس کے شکار افراد اکثر اپنے ساتھ گلوکوز کی ڈوز یا کوئی میٹھی چیز رکھتے ہیں، جس کا ڈاکٹر بھی مشورہ دیتے ہیں۔

مریض کو بٹھا دیں: اگر مریض اپنی حالت غیر محسوس کررہا ہو یا چکر آرہے ہوں تو کرسی یا فرش پر بیٹھنے میں اس کی مدد کریں۔

ردعمل چیک کریں : اگر مریض کچھ کھانے یا پینے کے بعد فوری طور پر حالت میں بہتری محسوس کرنے لگے تو اسے ایسی غذا دیں جو آہستگی سے کاربوہائیڈریٹ ریلیز کرتی ہو جیسے سینڈوچ، پھل کا ایک ٹکڑا، بسکٹ اور دودھ وغیرہ۔

ادویات تلاش کریں : مریض کی ادویات ڈھونڈنے میں مدد دیں، گھر میں شوگر ٹیسٹنگ مشین ہو تو اس کا گلوکوز لیول چیک کریں اور ضرورت پڑنے پر انسولین دیں۔ مریض کے ساتھ اس وقت تک رہیں جب تک اس کی حالت بہتر نہ ہوجائے۔ یاد رکھیں کہ اگر حالت زیادہ خراب ہونے لگے تو سب کچھ چھوڑ کر مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

ہائی بلڈ شوگر کی علامات

جب آپ ہائی بلڈ شوگر کے بارے میں سنتے ہیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ ذہن میں ایسے افراد کا خیال آئے جن میں ذیابطیس کی تشخیص ہوچکی ہو اور انہیں انسولین یا علاج کی ضرورت ہو تاکہ مزید پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔ تاہم، بلڈ شوگر لیول ایسے افراد کا بھی بڑھ سکتا ہے جو ذیابطیس کا شکار نہ ہوں لیکن اگر وہ علاج نہ کرائیں تو ان کے اعصاب، گردوں اور آنکھوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ امراض قلب کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔

خون میں شکر کی مقدار اس وقت بڑھنے لگتی ہے جب جسم انسولین کو استعمال کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے، جو کہ غذا کو جسمانی توانائی میں بدلنے کا کام کرنے والا ہارمون ہے۔ تاہم ہائی بلڈ شوگر کی چند علامات یا نشانیاں سامنے آتی ہیں جنھیں دیکھ کر کسی ڈاکٹر سے رجوع کرکے اس کی روک تھام کے لیے مدد طلب کی جاسکتی ہے۔ اگر آپ کو درج ذیل علامات نظر آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرکے بلڈ شوگر کا ٹیسٹ کروالیں۔

٭ نظر دھندلانا

٭ بہت زیادہ پیاس

٭ خراشیں یا زخم ٹھیک نہ ہونا

٭ شدید تھکاوٹ

٭ اچانک اور بلاوجہ وزن میں کمی یا اضافہ

٭ جِلد کے حصوں کی رنگت گہری ہوجانا

فوری طور پر کیا کیا جائے؟

مریض کی مانیٹرنگ : اگر مریض صحیح سانس لے رہا ہو تو اسے پہلو کے بل لٹا دیں، اس پوزیشن میں اس کی سانس کی نالی کھل جائے گی جبکہ قے باہر نکل جائے گی۔ اگر وہ پہلو کے بل لیٹ نہیں پا رہا تو اس کے حواس، سانس اور دھڑکن کو چیک کریں۔

مریض کو بار بار چیک کریں :طبی امداد کے آنے تک بار بار مریض کو چیک کرتے رہیں۔

ایمرجنسی طبی امداد کے لیے کال : اگر مریض گر جائے اور آپ کو بلڈ شوگر میں اضافے کا شبہ ہو تو اس کا سانس چیک کریں اور ایمرجنسی طبی امداد کے لیے کال کریں یا اسے فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔