آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ذیقعد 1441ھ2؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’اب میں خود اپنی بائیک چلاؤں گی‘

دیگر خواتین کے ہمراہ سائیکل اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے خود کو بہت محفوظ محسوس کر رہی ہوں اور بہت خوشی کا احساس ہورہا ہے۔

یہ الفاظ اس لڑکی کے تھے جو پاکستان کی آئرن لیڈی عاصمہ جہانگیر کے اعزاز میں منعقدہ عورت مارچ سے قبل اس سے متعلق ایک بائیک ریلی میں شریک تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال عورت مارچ کا انعقاد 8 مارچ کو کیا جارہا ہے، جو خواتین کو بھی معاشرے میں یکساں حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے، تاہم 16 فروری کو ہونے والی اس ریلی میں عاصمہ جہانگیر کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔

عاصمہ جہانگیر ملک کی معروف وکیل اور سرگرم سماجی کارکن تھیں جو ہمیشہ مظلوموں بالخصوص خواتین کو حقوق دلوانے کے لیے ان کی آواز بنیں۔

معروف سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی شہرت یافتہ 2 سال قبل حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں، مختلف فوٹوز میں انہیں بائیک پر ہی مارچ میں شرکت کرتے دیکھا گیا ہے۔

کراچی میں مزارقائد سے لے کر شاہراہ فیصل تک ہر عمر کی خواتین اپنی بائیکس، کار اور حتیٰ کہ سائیکل پر بھی جوش و خروش کے ساتھ اس مارچ میں شریک ہوئیں۔

خداداد کالونی سے تعلق رکھنے والی عریشا کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی شاندار تجربہ ہے، ہم آج دیگر خواتین کے ساتھ بائیکس چلا کر بہت خوش ہیں اور اپنے آپ کو محفوظ تصور کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے کراچی کی مرکزی سڑک شارع فیصل پر بائیک چلا کر بہت اچھا محسوس ہورہا ہے، میں ایسے علاقے سے ہوں جہاں خواتین بائیکرز کو خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔

مزار قائد سے شروع ہونے والی یہ ریلی شارع قائدین سے ہوتی ہوئی طارق روڈ، سندھی مسلم سوسائٹی کے انٹرسیکشنز سے ہوتی ہوئی شارع فیصل پہنچی۔

اس دوران سڑک پر موجود راہگیر اور وہاں سے اپنی گاڑیاں گزارنے والے لوگ اس ریلی کو بہت حیرت سے دیکھتے رہے۔

نرسری کے اسٹاپ پہنچنے سے قبل ٹریفک سگنلز پر پولیس اہلکاروں نے اپنے موبائل فونز نکال کر ریلی کے مناظر کو ریکارڈ کرنے لگے۔

راستے میں دیگر موٹر سائیکلسٹس بھی ریلی کا حصہ بنتے رہے اور اسے اپنے حجم سے دگنی بڑی ریلی بنادی۔

ورثا نامی خاتون کا کہنا تھا کہ کراچی اور اسلام آباد میں خواتین رائڈرز کی تعداد میں بہت فرق ہے، ہمیں جامعات کی طالبات سے یہ کہنا ہے کہ وہ بسوں میں سفر کرنے کے بجائے موٹر سائیکل پر سفر کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بسوں میں سفر بہت پریشان کن اور تھکا دینے والا ہے، بالخصوص اس وقت جب خواتین اپنے امتحانی پرچے سے فارغ ہوکر جب گھر جاتی ہیں تو واپس پہنچنا بھی ان کے لیے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کی بائیک ریلی کا مطلب ہے کہ اب لڑکیاں موٹر سائیکل چلانے سے مزید خوفزدہ نہیں ہوں گی، جن خواتین نے آج ہمیں بائیکس پر دیکھا ہوگا ان میں بھی اب بائیک چلانے کا حوصلہ پیدا ہوگا جبکہ ہم میں بھی بائیک کے استعمال سے متعلق مزید اعتماد پیدا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریننگ کے باوجود آج تک اکیلے اپنی بائیک نہیں چلائی تھی، تاہم اب میں اپنی بائیک خود چلاؤں گی۔

خواتین بائیکرز نے مطالبہ کیا کہ عوامی مقامات کو خواتین، خواجہ سرا اور غیر ثنائی اصناف کے لیے قابل رسائی اور محفوظ بنایا جائے، ہمیں اپنی ہی سڑکوں پر چلنے، گاڑی چلانے، احتجاج کرنے اور موجود ہونے کی آزادی حاصل نہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید