آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سندھی زبان کے ایک معروف اخبار اور نیوز چینل سے وابستہ سینئر صحافی عزیز میمن کی گزشتہ روز ہونے والی پُراسرار ہلاکت اپنی نوعیت کا کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ ملک میں صحافیوں کے پُراسرار حالات میں قتل ہونے کے طویل سلسلے میں ایک تازہ اضافہ ہے۔ ضلع نوشہرو فیروز کے رہائشی 56سالہ عزیز میمن اتوار کی صبح اپنے کیمرا مین کے ساتھ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کیلئے گھر سے نکلے تھے لیکن سہ پہر کو ایک مقامی نہر سے ان کی لاش برآمد ہوئی جس کی گردن میں بجلی کا تار بندھا تھا۔ مرحوم کو مبینہ طور پر اُنکی کسی نیوز رپورٹ پر نامعلوم ذرائع سے دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن سمیت صحافیوں کی تمام تنظیموں نے عزیز میمن کے قتل کو بجا طور پر آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ عزیز میمن کے قتل کو ایک انفرادی واقعے کے بجائے پاکستانی صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں حائل سنگین رکاوٹوں کے مجموعی تناظر میں دیکھا جانا ضروری ہے جس کا عالم یہ ہے کہ پچھلے سوا سال میں یہ آٹھویں اور سوا سات سال میں 34ویں صحافی کا بظاہر پیشہ ورانہ فرائض کی دیانت دارانہ ادائیگی کی پاداش میں ہونے والا قتل ہے۔

بین الاقوامی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے مطابق عزیز میمن سے پہلے قتل ہونے والے 33میں سے کسی ایک صحافی کے قاتلوں کو بھی سزا نہیں ملی جبکہ چالیس فیصد واقعات میں مقدمہ تک درج نہیں ہو سکا۔ ان حالات کی بنا پر پاکستان کو آزادیٔ صحافت کے حوالے سے دنیا کے بدترین ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی برادری میں ایک مہذب ملک اور قوم کی حیثیت سے اگر ہمیں اپنا مقام منوانا ہے تو صورتحال کو مثبت طور پر بدلنے کےلئے نہ صرف سیاسی حکومتوں بلکہ تمام ریاستی اداروں کو آئین میں دیئے گئے آزادیٔ اظہار کے حق کو یقینی بنانے میں اپنا کردار مؤثر طور پرادا کرنا ہوگا۔

تازہ ترین