آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وقت بڑا ہی ظالم ہے، وہ کسی کےروکےرکتا نہیں ہے، اپنے پیچھے یادیں چھوڑ جاتاہے۔ ابھی بہت سے افراد موجود ہیں جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے وہ بتا سکتے ہیں کہ پاکستان کا پہلا بجٹ اس وقت کی بہت بڑی رقم ڈیڑھ کروڑ پر مشتمل تھا۔ اس وقت پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا۔ دونوں حصوں کی آبادی لگ بھگ اتنی ہوگی جتنی آج موجودہ پاکستان کی ہے۔ ہمارے اقتدار کی ہوس میں مبتلا ٹولے نے نادیدہ دشمن کی سازش کا شکار ہو کر اپنے اقتدار کے لئے پاکستان کو دو لخت کرنا بہتر جانا اور یوں مغربی پاکستان صرف پاکستان بن گیا۔ پاکستان بےشک قائداعظم کی ان تھک محنت و کوشش کا نتیجہ ہے لیکن پاکستان کو قائم رکھنے اسے چلانے میں نواب آف بہاولپور کا بڑا اہم کردار ہے۔ کراچی جو نئے ملک کا دارالحکومت قرار دیا گیا وہاں آپ نے اپنا محل گورنر ہائوس اور وزیراعظم ہائوس کے لئے دے دیا اور خطیر رقم بھی دی۔ نواب آف بہاولپور کا یہ قدم کوئی معمولی احسان نہیں تھا ایسے وقت جب کانگریس ہمارے ڈوبنے کی منتظر تھی۔ اگر نواب صاحب یہ ایثار نہ کرتے تو بقول موتی لال نہرو اور پٹیل کے پاکستان الگ رہ کر زیادہ دن قائم نہیں رہ سکے گا، اسے واپس آنا ہی پڑے گا لیکن ایسا اس لئے نہیں ہوسکا کہ برے وقت میں نواب آف بہاولپور نے اپنے خزانے کے منہ کھول کر جس طرح مدد کی، گورنر جنرل

پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو حلف برداری کی تقریب میں جانے کے لئے اپنی چھ گھوڑوں کی بگھی دی اور سواری کے لئے اپنی کار بھی تاکہ گورنر جنرل پاکستان اپنی شان و شوکت کے ساتھ نظر آئے۔ پاکستان اور اہلِ پاکستان پر نواب آف بہاولپور کے بڑے احسانات ہیں لیکن افسوس کہ اہلِ پاکستان اور حکمرانوں نے نواب صاحب کے عظیم احسانات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ بات ہو رہی تھی پاکستان کے ابتدائی بجٹ کی جو جون 1948ءمیں پیش ہوا۔ آج آٹا 80روپے کلو ہے، اُس وقت آٹا ایک روپے کا چار سیر ہوا کرتا تھا، وہ بھی ٹھیلے پر آواز لگا کر فروخت ہوتا تھا۔ ہر کوئی اپنی ضرورت کے مطابق ہی خریدتا تھا جبکہ آج 80روپے سیر کا آٹا خریدنے کے لئے لائن میں لگ کر خریدا جا رہا ہے اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ چار آنے سیر کا آٹا مہنگا تھا یا اسی روپے سیر کا آٹا مہنگا ہے۔ اُس وقت بکرے کا گوشت ایک روپے دو آنے سیر تھا جو ہڈی چھیچڑے صاف کرنے کے بعد تولا کرتے تھے اور ایک بکرا رات گئے تک نہیں نکلتا تھا۔ آج بکرے کا گوشت ہزار گیارہ سو روپے بک رہا ہے اور دن کے دس بجے کے بعد قصائی دس بکرے بیچ کر دکان بند کر جاتا ہے۔ گوشت تب مہنگا تھا یا آج مہنگا ہے؟۔ تب لوگوں میں قوتِ خرید نہیں تھی، تب سونا صرف 60روپے تولہ تھا، پورے شہر کراچی میں صرف صرافہ بازار میں تین چار دکانیں تھیں، آج ہر شہر میں درجنوں کیا سینکڑوں دکانیں ہیں، سب چل رہی ہیں، سونے کی قیمت فی تولہ پچاسی ہزار سے بھی زائد ہو چکی ہے سونا تب مہنگا تھا آج سستا ہے کیونکہ آج قوت خرید میں ہے۔ہر دور کے اپنے وسائل و مسائل اور تقاضے ہوتے ہیں جن کا تقابل ممکن نہیں، آج کی مہنگائی کے ساتھ آسائشیں کتنی ہیں، کتنی راحتوں کے سامان مہیا ہیں۔ جس زمانے سے لوگ تقابل کرتے ہیں اس زمانے میں اگر کسی کی آمدن سو یا دو سو ہوا کرتی تھی تو وہ رئیس کہلاتا تھا۔ آج اگر کروڑوں میں بھی آمدن ہو تو کوئی پوچھتا نہیں کیونکہ اب یہ عام بات ہے۔ اگر سمجھا جائے تو مہنگائی اب نہیں تب تھی کیونکہ آج جو قوتِ خرید ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی آج ہماری انگلیوں کے پوروں پر دنیا سمٹ آئی ہے۔ پہلے ایک ہی شہر کے کسی علاقے میں کوئی حادثہ ہو جاتا تو ہفتوں پتا نہیں چلتا تھا۔ آج اگر سات سمندر پار بھی کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو فوراً تمام دنیا باخبر ہو جاتی ہے۔ پچیس سال پہلے تک ہم جن سہولتوں سے نابلد تھے آج وہ ہمارے لئے اپنی اہمیت کم کر چکی ہیں۔ کس کس چیز کا حساب کریں مہنگائی جو نظر آرہی ہے وہ ہے نہیں جب تک کوئی بھی چیز ہماری قوتِ خرید میں رہتی ہے وہ مہنگی نہیں ہوتی ہاں جب ہم کوئی چیز خریدنا چاہیں اور خرید نہ سکیں تو پھر وہ واقعی مہنگی ہو جاتی ہے۔ ہمیں آج کی مشکلات کا موازنہ اپنے ماضی سے نہیں آنے والے مستقبل سے کرنا ہوگا۔ اس کی بہتری کے لئے سوچنا اور فکر کرنا ہوگی۔ دشمن کی چالاکی اور سازشوں کو سمجھنا ہوگا۔ اللہ ہماری ہمارے وطن کی حفاظت فرمائے۔

تازہ ترین