آپ آف لائن ہیں
بدھ14؍شعبان المعظم 1441ھ 8؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کم کاربن خارج کرنے والی عمارتوں کی تعمیر

ایسے ملکوں، ریاستوں، شہروں اور اداروں کی تعداد میںبتدریج اضافہ ہورہا ہے، جو رواں صدی کے وسط تک کاربن کے اخراج کو عملی طور پر صفر پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے میں دنیا بھر کی تعمیراتی صنعت اس بات پر کام کررہی ہے کہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے تعمیراتی صنعت اور عمارتوں کو کس طرح ’کاربن نیوٹرل‘ (کاربن کا صفر اخراج کرنے والی) بنایا جائے۔ دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 40فیصد حصہ عمارتوں کا ہے۔ خوش قسمتی سے، جس طرح دنیابھر میں ماحولیاتی مسئلہ تیزی سے اُجاگر ہورہا ہے، کاربن کا صفر اخراج کرنے والی عمارتوں میں دلچسپی اور سرمایہ کاری دونوں ہی بڑھ رہی ہیں۔

2018ء میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، آئندہ 10برسوں میں 20ممالک کے1,900بین الاقوامی اداروں میں سے تقریباً 50فیصد ادارے اپنی کم از کم ایک عمارت کو زیرو کاربن یا توانائی میں خود کفیل بنانا چاہتے ہیں۔ مزیدبرآں، 59فی صد ادارے اگلے چند برسوں کے دوران توانائی کے استعمال کو مؤثر بنانے کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی اور اسمارٹ بلڈنگ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کی سرمایہ کاری موجودہ اور نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں میں کاربن اخراج کے خاتمے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

نئے رجحانات

زیرو کاربن عمارتوں کی تعمیر کے فروغ میں چار عوامل کار فرما ہیں:بجلی گرڈ سے کاربن اخراج روکنا، عمارت کو بجلی کی فراہمی اور پانی کو حرارت دینا، توانائی کی کھپت گھٹانے کے لیے سسٹم کی کارکردگی میں اضافہ کرنا اور عمارت کے رہائشیوں اور بجلی گرڈ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کرنا تاکہ ضروری لچک پیدا کی جاسکے۔ 

انتہائی اوقات میں بجلی کی کھپت میں کمی اور اس کی قیمت کو لوگوں کی برداشت کے قابل بنانے کے لیے سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن ضروری ہے۔ کسی بھی عمارت میں توانائی کے سسٹم کی کارکردگی کو بہتربنانے پر کی جانے والی ایک ڈالر کی سرمایہ کاری تین ڈالر کا منافع دیتی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں توانائی کی فراہمی کے نظام پر سرمایہ کاری میں دو ڈالر کی بچت ہوتی ہے۔

ہرچندکہ اس وقت زیرو کاربن عمارتیں پیچیدہ اور نایاب معلوم ہوتی ہیں لیکن آرکیٹیکچرز، گلوبل الائنس فار بلڈنگز اینڈ کنسٹرکشن اور ورلڈ گرین بلڈنگ کونسل جیسے کئی بین الاقوامی ادارے 2030ءتک اسے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے کام کررہے ہیں۔ حالانکہ اس وقت ایک فیصد سے بھی کم عمارتیں ایسی ہیں، جو زیرو کاربن ہونے کا دعویٰ کرسکتی ہیں، تاہم 2030ء تک دنیا بھر کی متعدد عمارتیں زیرو کاربن ہوں گی۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا نے اپنے لیےماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے انتہائی چیلنجنگ اہداف مقرر کیے ہیں اور اسی بات کے پیشِ نظر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا نے 2025ء تک اپنی توانائی کی 100فیصد ضروریات قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے بھی اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اپنے کیمپس کی عمارتوں کے توانائی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 50فیصد اور اوسطاً24فیصد توانائی کی بچت ہوگی۔ قابلِ تجدید توانائی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی نے 5میگاواٹ روف ٹاپ سولر اور 68میگاواٹ آف سائٹ سولر پلانٹ کا اضافہ کیا ہے۔ یہ اور اس جیسے دیگر اقدامات کے نتیجے میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 68فیصد اور پانی کی کھپت میں 15فیصد کمی لائے گی جبکہ 35سال کے عرصے میں 420ملین ڈالر کی بچت بھی ہوگی۔

امریکا جیسے ٹھنڈی آب و ہوا والے ملک سے اب رُخ کرتے ہیں انتہائی گرم ملک متحدہ عرب امارات کی طرف، جس کی ریاست شارجہ میں زیرِ تعمیر ایک عمارت سے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پورے خطے کی سب سے اسمارٹ اور پائیدار عمارت ہے۔ 7,450مربع میٹر رقبہ پر محیط اس عمارت کو عالمی شہرت یافتہ آرکیٹیکٹ زاہا حدید نے ڈیزائن کیا ہے اور اس کی توانائی کی 100فیصد ضروریات 3.23گیگاواٹ آورز کے آن سائٹ شمسی توانائی کے ذریعے پوری کی جائیں گی۔ اس عمارت کو LEEDکے پلاٹینم معیارات کے مطابق تیار کیا جارہا ہے، جس کی کم توانائی خرچ خصوصیات میں ڈائنامک ونڈو کنٹرول، ڈے لائٹ کنٹرول، اعلیٰ ترین کارکردگی کا حامل انسولیٹڈ ایچ وی اے سی سسٹم شامل ہیں۔

موجودہ زیرو کاربن عمارتوں میں سب سے متاثرکن ناروے کے شہر ٹرانڈھم میں واقع پاور ہاؤس براٹورکائیا (Brattørkaia) کی عمارت ہے، جسے پاور ہاؤس الائنس نے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ عمارت اپنی پوری لائف سائیکل میں کھپت سے زیادہ توانائی پیدا کرے گی۔ اس آٹھ منزلہ عمارت کا شمسی توانائی کا سسٹم 3ہزار مربع میٹر پر محیط ہے جو سالانہ 85ہزارکلو واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس طرح اس عمارت کی اضافی بجلی سے بجلی پر چلنے والی200گاڑیاں چارج کی جاسکتی ہیں۔ مزید برآں، عمارت کو ٹھنڈا اور گرم رکھنے والے ریفریجرنٹ ہیٹ پمپ کو پانی کی فراہمی براہِ راست سمندر سے کی جاتی ہے، جو نہ صرف ا س عمارت بلکہ ڈسٹرکٹ انرجی سسٹم کے ذریعے قریبی عمارتوں کی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔

بتدریج بڑھتے عالمی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کے لیے دنیا بھر میں جس پیمانے اور جس تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، غالباً وہ تو ابھی نظر نہیں آرہا ، تاہم تعمیراتی صنعت نے اس سلسلے میں اچھی پیشرفت کا مظاہرہ کیا ہےاور آنے والے 10سے15برسوں میں ہمیں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔

تعمیرات سے مزید