آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

منصوبہ بندی کمیشن نے خودمختار اداروں کو پراجیکٹس شروع کرنیکا گرین سگنل دیدیا

اسلام آباد (حنیف خالد) منصوبہ بندی کمیشن نے خودمختار اداروں کو پراجیکٹس شروع کرنے کا گرین سگنل دیدیا جس کے نتیجے میں کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ سرحد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ فیصل آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ ملتان ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ کوئٹہ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت تمام خودمختار ادارے اپنے پراجیکٹ اپنے خرچے پر بنانے کے مجاز ہونگے‘ البتہ انہیں کوئی بھی پراجیکٹ شروع کرنے سے پہلے اپنی اپنی بورڈ میٹنگ میں اسکی منظوری لینا ہوگی اور اس مجوزہ پراجیکٹ پر ساری لاگت بھی خود برداشت کرنا ہوگی۔ اس حوالے سے پلاننگ ڈویژن آف پاکستان کے ایک سینئر عہدیدار نے جنگ کو بتایا کہ سی ڈی اے کو ایکسپریس وے چوڑی کرنے اور اس پر نئے پل بنانے اور اس کو اینکریج یا پی ڈبلیو ڈی میڈیا ٹائون انٹرچینج تعمیر کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ شرط صرف وہی ہے کہ منصوبہ سی ڈی اے کے بورڈ نے منظور کیا ہو اور اس کا سارا خرچ سی ڈی اے اپنے وسائل سے اُٹھائے۔ اس پر پلاننگ کمیشن آف پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا اور نہ ہی سی ڈی اے کو اسکی پیشگی منظوری لینا ہو گی۔ سی ڈی اے کو اتھارٹی حاصل ہے کہ جس طرح ایکسپریس وے پر اینکریج انٹرچینج انہوں نے اپنے خرچے سے اپنے بورڈ کی منظوری سے

بنایا ہے سی ڈی اے بیشک کل سے ہی اسلام آباد ایکسپریس وے پر گلبرگ گرین سے لیکر پی ڈبلیو ڈی‘ میڈیا ٹائون انٹرچینج کو بنائے‘ چوڑا کرے یا پل تعمیر کرے‘ اس پر ازسرنو جدید لائٹس لگائے‘ سی ڈی اے کے پاس اگر مزید وسائل ہیں تو وہ اسے اینکریج تک بھی چوڑا اور طویل کر سکے گا‘ پلاننگ ڈویژن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ یہ رفاع عامہ کا منصوبہ ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 31مئی 2018ء کو (ن) لیگی حکومت کے پانچ سال پورے ہونے سے پہلے اُس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد ایکسپریس وے کو روات تک توسیع دینے‘ چوڑا کرنے اور اس پر نئے خوبصورت پل بنانے کیلئے 7ارب کی خطیر رقم کی منظوری دیدی تھی۔ کورال چوک سے گلبرگ گارڈنز کے راستے پی ڈبلیو ڈی میڈیا ٹائون انٹرچینج کے بنانے کیلئے درکار رقم بھی جاری کر دی تھی مگر پی ٹی آئی حکومت کے آتے ہی انکے یہ پراجیکٹ معرض التواء میں ڈال دیئے گئے۔ اسکے نتیجے میں میڈیا ٹائون‘ کورنگ ٹائون‘ پولیس فائونڈیشن سوسائٹی‘ پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی‘ پاکستان ٹائون سمیت لاکھوں کی آبادی اسلام آباد ایکسپریس وے پر گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹے ٹریفک جام میں پھنسی رہتی ہے۔ اسی سے ایک لاکھ سے زائد طلباء و طالبات‘ اتنے ہی ملازمت پیشہ لوگوں کے کم و بیش صبح شام دو سے چار لاکھ گھنٹے ٹریفک کے اژدھام کی وجہ سے ضائع ہو رہے ہیں حتیٰ کہ میڈیا ٹائون‘ پی ڈبلیو ڈی انٹرچینج نہ بننے اور وہاں تک اسلام آباد ایکسپریس وے 6رویہ نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں مہلک حادثات ہوئے ہیں جس میں درجنوں خاندانوں کے پیارے اُن کا ساتھ چھوڑ گئے۔

اہم خبریں سے مزید