آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
رابطہ…مریم فیصل
جب تک کورونا رہے گا افواہوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ ہر روز اس وائرس کے لئے نئی بات سامنے لائی جاتی ہے۔ کبھی کوئی کہتا ہے یہ قدرت کی طرف سے عذاب ہے۔ کبھی کوئی یہ فرماتا دیتا ہے کہ یہ انسانوں کا بنایا ہوا ہے۔ کبھی اسے امریکہ کا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے کبھی گرمی اس کا علاج بن جاتی ہے تو کبھی یہ قیامت آنے کی علامت بن جاتا ہے۔ ان سب افواہوں میں یہ ہم مانتے ہیں کہ اس وبا سے دنیا کی بڑھتی آبادی میں کچھ کمی ضرور ہو رہی ہے اور لوگوں کے باہر نہ نکلنے سے اووزون لیئر کو بھی ہیل ہونے کا موقع مل رہا ہے، یہ ہیں وہ مثبت باتیں جن پر ہمارا دھیان کم ہے لیکن ان کا اندازہ ہوگا تب جب خیر سے اس وبا کی رخصتی ہوگی اور وہ کب ہوگی اس پر کوئی بات نہ کریں تو بہتر ہے کیونکہ علم نجوم ہمارے پاس بالکل بھی نہیں ہے۔ بس اچھے وقت کا انتظار ہے تاکہ دنیا کی اس باگ ڈور کو ہم پھر سے شروع کر سکیں جس کی شکایت ہر کوئی اس وبا کی آمد سے پہلے کرتا رہتا تھا کہ ہائے زندگی کتنی بزی ہے، کام ہی نہیں ختم ہوتے، فیملی کے لئے تو بالکل بھی ٹائم نہیں نکلتا، ہائے ہائے۔ اب وقت ہی وقت ہے لیکن اب بھی چین کہاں۔ اب بھی آہ و بکا جاری ہے کہ چلتی بھاگتی زندگی رک گئی۔ پتا نہیں کیا کیا پلان بنائے ہوئے تھے سب ادھورے رہ گئے، بچے گھر ہیں کوئی کام
کیسے کریں۔ چین تو کسی حال میں نہیں نہ ویسے نہ ایسے ہر حال میں پریشانی ہے اور مزید یہ کہ وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بڑھنے کی خبریں سنیں اور پریشانی کو مزید بڑھائیں جو بچا کھچا چین و سکون ہے اس کو بھی رخصت پر بھیج دیجیے۔ یہ ہے زندگی۔۔ خیر آگے برھتے ہیں اس وائرس سے صرف عام لوگ ہی نہیں بڑے لوگ بھی بری طرح متاثر ہو ئے ہیں۔ امریکہ جسے اس وائرس کا موجد قرار دیا جا رہا ہے وہاں روزانہ ہزاروں کیسز سامنے آ رہے ہیں اور اب حال یہ ہے کہ وہاں کے ڈاکٹرز بھی رو رہے ہیں کہ اس وبا سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس سہولیات کم پڑ رہی ہیں اور تو اور صدر ٹرمپ نے تو حریف ملک چائنا کے صدر سے مدد تک مانگ لی ہے، جس ملک کی بڑھتی معیشت سے سپر پاور پریشان تھا آج اسی سے مدد کا طالب ہے۔ یہ بھی زمانے کا عجب دستور ہے پتا ہی نہیں چلتا کہ کب دشمن سے بھی ہاتھ ملوا دیتا ہے۔ چائنا میں سخت لاک ڈاون کے بعد کچھ سکون ہوگیا ہے اس لئے وہ اب سب کو تسلی دے رہا ہے۔ اس صورتحال میں گماں کچھ یہ ہو رہا ہے کہ جلد ہی چائنا اپنی پرانی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے سستے اور ٹکاو وینٹی لیٹرز بنانا شروع کر دے گا اور وہ وقت بھی آئے گا جب ہر گھر میں چائنا کے بنے وینٹی لیٹرز موجود ہوں گے اور جس تیزی سے چائنا ماسک بنا بنا کر دنیا بھر کو بانٹ رہا ہے گھروں میں گروسری کے ساتھ ماسک بھی خریدے جائیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ وبا دنیا میں کسی بڑی تبدیلی کا سبب بنے گی اب اس سے بڑی کیا تبدیلی ہوگی کہ وقت تو اب بھی تیزی سے گزر رہا ہے لیکن دنیا رک گئی ہے۔
یورپ سے سے مزید