آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ذیقعد 1441ھ9؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈینیئل پرل قتل، سندھ حکومت فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریگی


سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے ڈینیل پرل قتل کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں جانے پر غور شروع کر دیا۔

ذرائع کے مطابق کل تک عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کر دی جائے گی۔

محکمۂ پراسیکیوشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈینیئل پرل قتل کیس کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

پراسیکیوشن ذرائع نے مزید بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا جا رہا ہے، قانونی ٹیم کی رائے کی روشنی میں اپیل دائر ہو گی۔

محکمۂ پراسیکیوشن کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپیلوں کے فیصلے میں سقم کا جائزہ لے کر اپیل دائر کی جائے گی۔

اس سے قبل محکمۂ داخلہ سندھ کی جانب سے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کیس کے چاروں ملزمان کو 3 ماہ حراست میں رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ملزمان میں احمد عمر شیخ، فہد نسیم احمد، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل شامل ہیں۔

محکمۂ داخلہ سندھ کی جانب سے ملزمان کو نقصِ امن کے آرڈیننس کے تحت حراست میں رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

سندھ کے محکمۂ داخلہ نے ایم پی او 1960 سیکشن 3 (1) کے تحت ملزمان کی 3 ماہ کی حراست کے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔

محکمۂ داخلہ سندھ کا اپنے حکم میں یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمان کی رہائی سے امن و امان کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کے کیس میں 3 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے مقدمے میں 18 سال بعد اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اغوا کے جرم میں دی گئی 7 برس قید کی سزا برقرار رکھی جبکہ دیگر 3 ملزمان کو بری کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم بھی جاری کیا۔

امریکی صحافی ڈینیل پرل کو 2002ء میں کراچی سے اغواء کے بعد قتل کیا گیا تھا جس پر انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے احمد عمر شیخ کو سزائے موت اور 3 ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، ملزمان کے وکلاء کے نہ ہونے کے باعث کیس کی سماعت 10 سال تک ملتوی رہی، پولیس ملزمان کے خلاف ٹرائل میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکی۔

یہ بھی پڑھیئے: ڈینیئل پرل کیس، فیصلے کی ٹائمنگ پر تعجب ہے، شاہ محمود

دوسری جانب امریکا نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے ظالمانہ قتل کے الزام میں ملزمان کی سزائیں کم کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے، امریکا نے فیصلے کو توہین آمیز قرار دیا ہے۔

جنوبی ایشیاء کے لیے اعلیٰ امریکی سفارت کار ایلس ویلز نے کہا ہے کہ ڈینیئل پرل قتل میں سزا کی کمی کا فیصلہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی توہین ہے۔

انہوں نے پاکستانی استغاثہ کی جانب سے برطانوی نژاد احمد عمر سعید شیخ کی سزا میں کمی کے فیصلے کے خلاف اپیل کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں ایلس ویلز نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈینیئل پرل کے ظالمانہ قتل اور اغوا میں ملوث ذمے داران کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق سزا دی جائے۔

قومی خبریں سے مزید