آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آٹا چینی بحران رپورٹ کے بعد وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں

آٹا چینی بحران رپورٹ کے بعد وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں


آٹا چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد وزیراعظم نے وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں کردیں۔ جہانگیرترین زرعی ٹاسک فورس کی چیئرمین شپ سے فارغ کردیئے گئے، عبدالرزاق داؤد مشیرصنعت وپیدوار اور شوگر ایڈوئزری بورڈ کی چیئرمین شپ سےہٹادیےگئے، وزیرخوراک خسرو بختیار نے استعفیٰ دےدیا، جبکہ سیکریٹری فوڈ کو بھی تبدیل کردیا گیا۔

حماد اظہر کو وفاقی وزارت صنعت و پیدوار کاقلم دان دے دیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی کا وزارت سے استعفیٰ منظور کر لیا گیا، اُن کی جگہ ایم کیو ایم کے امین الحق کو ٹیلی کام کا وزیر بنادیا گیا ہے۔

اعظم سواتی کو وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول کا قلم دان دیا گیا ہے۔

بابر اعوان پارلیمانی امور کے مشیر ہوں گے جبکہ محمد شہزاد ارباب کو مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

وفاقی سیکریٹری فوڈ ہاشم پوپلزئی کو بھی عہدے سے ہٹاکر اُن کی جگہ سینئر بیوروکریٹ حمید عمر کو اضافی چارج دے دیا گیا۔

دوسری جانب خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے فوڈ سکیورٹی کی وزارت سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا استفعیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا۔

خسرو بختیار کے استعفے کے متن میں کہا گیا ہے کہ شوگر بحران میں مجھے بلاجواز بدنام کیا جا رہا ہے، مجھے چار ماہ پہلے فوڈ اینڈ سیکیورٹی کا چارج دیا گیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ میں اپنی وزارت سے متعلق ملک میں گنے کی پیداوار کے بارے میں معلومات رکھتا تھا، کسی بھی ذاتی مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے بطور وزیر فوڈ سیکیورٹی کا عہدہ چھوڑتا ہوں۔

قومی خبریں سے مزید