آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ارادہ تھا کہ 21اپریل کو مرشدی علامہ اقبالؒ کے حوالے سے کالم لکھوں گا لیکن یہ خیال کورونا کی نذر ہوگیا۔ یومِ اقبال پر اخبارات میں چھپنے والے مضامین اور کالموں کو دلچسپی سے پڑھا تو ایک ’’غلط فہمی‘‘ سے محظوظ ہوتا رہا۔ سبھی لکھاریوں نے لکھا تھا کہ علامہ اقبال نے قائداعظم کو خطوط لکھ کر انگلستان سے واپسی پر آمادہ کیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بات ہماری نصابی کتابوں میں بھی درج ہے۔ علامہ اقبال اور قائداعظم سے محبت اور عقیدت کے سبب میں اس حوالے سے تحقیق کرتا رہا ہوں لیکن سچی بات یہ ہے کہ مجھے کسی ایسے خط یا تحریر کا نام و نشان نہیں ملا جو علامہ اقبال نے قائداعظم کو انگلستان سے واپسی کی غرض سے لکھی ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ قائداعظم ہندوستان کے حالات اور مسلمانوں کی سرد مہری سے مایوس ہو کر 1930ء میں انگلستان چلے گئے تھے۔ ان کی غیر حاضری ہی میں بمبئی کے لوگوں نے انہیں امپیریل لیجسلیٹو کونسل یعنی مرکزی اسمبلی کے لیے منتخب کیا۔ وہ کبھی کبھار کونسل کی میٹنگوں میں شرکت کے لیے یا کسی سیاسی ضرورت کے تحت ہندوستان آتے رہے۔ علامہ اقبال نے مسلم لیگ کے الٰہ آباد اجلاس میں 30دسمبر کو مشہور خطبہ الٰہ آباد پیش کیا۔ قائداعظم اس اجلاس سے چند ماہ قبل انگلستان جا چکے تھے۔ اس خطبے کے آغاز ہی میں علامہ نے واضح کیا کہ وہ نہ کسی سیاسی پارٹی کے رہنما ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی لیڈر ہے۔ الفاظ ملاحظہ فرمائیے"I lead no party, I follow no leader"

قائداعظم انگلستان سے مارچ 1934ء میں واپس آگئے۔ ان کے انگلستان قیام کے دوران علامہ اقبال گول میز کانفرنسوں کے لیے لندن جاتے رہے جہاں ان کی قائداعظم سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ چودھری رحمت علی نے بھی دعوتیں کیں جن میں قائداعظم اور علامہ اقبال شرکت فرماتے رہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان ملاقاتوں میں علامہ اقبال نے قائداعظم کو ہندوستان واپسی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہو لیکن اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے ایک بار یہ بات ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم سے بھی پوچھی تھی اور انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ اس لیے جب ہمارے عالم و فاضل لکھاری تواتر سے لکھتے ہیں کہ علامہ اقبال نے قائداعظم کو ہندوستان واپسی کے لیے خطوط لکھے تو میں محظوظ ہوتا ہوں۔ مجھے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کہ میری تحقیق درست ہے کیونکہ تحقیق میں کوئی حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ اگر کوئی صاحب اس دعوے کا ثبوت دیں تو میں ممنون ہوں۔

کالم کا دامن تنگ ہوتا ہے اس لیے نہایت اختصار مجبوری ہے۔ خطبہ الٰہ آباد میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے ریاست کے قیام کا امکان ظاہر کیا تھا اور اس امکان کے جغرافیائی، تہذیبی اور مذہبی محرکات پر مدلل روشنی ڈالی تھی لیکن یہ ایک خود مختار اور آزاد مسلمان ریاست کے قیام کا تصور نہیں تھا۔ خطبہ الٰہ آباد کے بعد خود علامہ اقبال نے چند ایک مقامات پر واضح کیا کہ وہ ہندوستان کے اندر مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک مسلمان ریاست کے قیام کی بات کر رہے ہیں۔ گول میز کانفرنسوں میں شرکت کے دوران علامہ کو کانگریسی قیادت کی ناقابل قبول اسکیموں اور ہندو حکمرانی پر مشتمل مطالبات سننے کا موقع ملتا رہا۔ لندن میں قیام کے دوران انہیں کیمبرج کے طلبہ چودھری رحمت علی، خواجہ عبدالرحیم وغیرہ ملتے رہے اور پاکستان کا تصور پیش کرتے رہے۔ اگرچہ چودھری رحمت علی کا پمفلٹ ’’نائو آر نیور‘‘ جنوری 1933ء میں چھپا لیکن موومنٹ فار پاکستان کی بنیاد 1932ء میں ہی رکھی جا چکی تھی۔ مسلم لیگی رہنمائوں نے گول میز کانفرنس میں مطالبہ پاکستان کو طالب علموں کی اسکیم قرار دیا اور علامہ اقبال نے بھی خود کو چودھری رحمت علی کی اسکیم سے الگ رکھا لیکن اس دور میں وہ ذہنی طور پر ہندوستان کی تقسیم اور مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد مسلمان ریاست کے قیام کے قائل ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کتاب زندہ رود میں علامہ اقبال کی لندن میں ملاقاتوں کا حال لکھا ہے۔

’’تیسری گول میز کانفرنس میں شریک مسلم مندوبین کے رویے پر پنڈت جواہر لعل نہرو نے سخت تنقید کی۔ اقبال نے اپنے جوابی بیان میں مورخہ 6دسمبر 1933ء کو فرمایا کہ ہندوستان کے مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ ملک کو مذہبی، تاریخی اور تمدنی میلانات کی بنیادوں پر تقسیم کر دیا جائے‘‘۔ (زندہ رود از جاوید اقبال صفحہ 481) گویا علامہ اقبال 1930ء میں انڈین فیڈریشن کے اندر مسلمان ریاست کے قیام سے آگے بڑھ کر ہندوستان کی تقسیم اور آزاد مسلمان ریاست کے قیام کے حامی ہو چکے تھے۔ علامہ اقبال اپنے خط 20جون 1933ء بنام ایڈورڈ ٹامسن لکھتے ہیں ’’خالص سیاسیات میں مجھے دلچسپی نہیں۔ میری دلچسپی دراصل اسلام بحیثیت ایک اخلاقی نظام میں ہے۔ ہندو نیشنلزم بالآخر اتحاد کی سمت لے جائے گا۔ میرا فرض تھا کہ نئی نسل کے سامنے اسلامی تعلیمات کے حقیقی معانی رکھ دوں میں خوش ہوں کہ انہوں نے میری بات سن لی ہے۔ انگریزوں نے بھی کسی حد تک تسلیم کرلیا ہے کہ ہندوستانی مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں... یہ میرا انعام ہے... افسوس ہے کہ اسلام کے پاس کوئی لیڈر نہیں...‘‘ (زندہ رود صفحہ 482) 1934ء میں قائداعظم انگلستان سے واپس ہندوستان آتے ہیں، مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوتے ہیں اور مسلم لیگ کے تن مردہ میں نئی روح پھونکنے اور اسے مسلمان عوام میں مقبول عام بنانے کیلئے دن رات محنت کرتے ہیں۔ یہ محنت ان کی صحت، آرام اور پریکٹس کو کھا جاتی ہے اور انہیں جان لیوا مرض دے جاتی ہے۔ وہی علامہ اقبال جو 1933ء تک قیادت کے قحط پر دکھی نظر آتے ہیں 1936ء میں اطمینانِ قلب کے ساتھ کہتے ہیں ’’مسلمانوں کی قیادت کا اہل اگر کوئی شخص ہو سکتا ہے تو وہ صرف جناح ہے۔ وہ دیانتدار ہیں، مخلص ہیں، انہیں خریدا نہیں جا سکتا‘‘ (اقبال اور جناح از احمد سعید صفحہ 76) پھر علامہ اقبال 1936-37ء میں قائداعظم کے نام خطوط لکھ کر انہیں ایک آزاد مسلمان ریاست کے مطالبے پر قائل کرتے ہیں ۔ یہی وہ مطالبہ تھا جو 23-24مارچ 1940ء کو قراردادِ (لاہور) پاکستان کی صورت میں پیش کیا گیا اور قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا۔