آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’رمضان المبارک‘‘ اُمّتِ مسلمہ کے نزدیک دینی اور روحانی حیثیت سے سال کے دیگر تمام مہینوں میں مبارک و محترم اور مقدّس و بابرکت مہینہ ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ جب امام الانبیاء، سیّد المرسلین ﷺ اس کی عظمت و اہمیت کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمائیں کہ تم پر بہت عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، جس کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنّم سے نجات اور آزادی کا ہے۔ یہ پورا ماہِ مبارک نفسانی خواہشات کی قربانی، عظیم مجاہدے، بے انتہا صبر و ضبط، عبادت و ریاضت، احتساب و تزکیۂ نفس اور تطہیرِ قلب کا موسمِ بہار ہے، چناں چہ ’’رمضان المبارک‘‘ کی اسی دینی و روحانی عظمت و اہمیت کے پیشِ نظر یہ ضروری تھا کہ اس مقدّس و بابرکت ماہِ مبارک کے اختتام پر جو دن آئے، ایمانی و روحانی قدر و منزلت کے اعتبار سے وہی دن سب سے زیادہ اس کا متقاضی ہے کہ اسے امّتِ مسلمہ کے جشن و مسّرت کا دن اور دینی و ملّی تہوار بنایا جائے۔ اسی دینی عظمت و اہمیت کے پیشِ نظر اس دن کو مسلم اُمّہ کے لیے ’’عیدالفطر‘‘ قرار دیا گیا۔

’’عید‘‘ کا لفظ تین حروف پر مشتمل ہے۔ اس کے لفظی و اصطلاحی معنیٰ بھی تین ہیں۔(1) ’’عید‘‘ کا لفظ ’’عود‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی واپس اور لوٹ کر آنے کے ہیں۔ چوں کہ عید ہر سال واپس لوٹ کر آتی ہے، اس لیے اسے عید کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔(2) ’’عید‘‘ کے دوسرے معنیٰ توجّہ کرنے کے ہیں، چوں کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عاجز و بے بس بندوں پر رمضان المبارک میں کی گئی ان کی عبادات اور نیک اعمال پر رحم و کرم فرماتا ہے، انہیں اعزاز و اکرام سے نوازتا ہے، اس لیے اللہ عزّوجل کی خاص عنایات، فضل و کرم اور خصوصی توجّہ کی وجہ سے اسے عید کہا جاتا ہے۔(3) ’’عید‘‘ کے لفظی معنیٰ مسرّت و انبساط کے بھی ہیں،چوں کہ اس روزِ سعید اہلِ ایمان جشنِ مسرّت مناتے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، لہٰذا محاورۃً اسے عید کہا جاتا ہے۔تاریخی روایات کے مطابق کرّۂ ارض پرجشنِ مسرّت یا خوشی اور شادمانی سے بھرپور تہوار منانے کا آغاز اُس روز سے ہوا، جس دن حضرت آدمؑ کی توبہ بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی۔ گویا یہ دنیا کی پہلی عید تھی، جو اس خوشی میں منائی گئی۔ دوسری عید یا یومِ مسرّت اُس وقت منایا گیا، جب حضرت نوحؑ اور ان کی امّت کو طوفانِ نوح سے نجات ملی۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ پر جب آتشِ نمرود گل زار بنی، اُس روز کی مناسبت سے ان کی امّت عید منایا کرتی تھی۔ حضرت یونسؑ کی امّت اُس روز عید مناتی تھی، جب حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ اور امتحان سے رہائی ملی۔ بنی اسرائیل اُس روز عید منایا کرتے تھے، جس روز انہیں فرعون اور اس کے مظالم سے نجات ملی۔جب کہ عیسائی اُس روزعید مناتے ہیں، جس روز حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔اس کے بر خلاف اہلِ ایمان کا فلسفۂ عید اور اس کا تصوّر بالکل منفرد اور نرالی شان کا حامل ہے۔

’’بُلوغ الارب فی احوال العرب‘‘ کے مولّف محمود شُکری آلوسی کے مطابق ’’عہدِ جاہلیت میں مشرکینِ عرب میں متعدد عیدوں کا تصوّر موجود تھا۔ بعض ان کی مکانی عیدیں تھیں اور بعض زمانی، یہ موسمی تہوار کے طور پر منائی جاتی تھیں، چناں چہ وہ اپنے تین مشہور بُتوں ’’لات‘‘، ’’منات‘‘ اور ’’عُزّیٰ‘‘ کے ناموں پر عید مناتے، دُور دراز کا سفر کرکے ان کے سامنے نذرانے پیش کرتے اور اس طرح عید مناتے تھے۔ ان تینوں بُتوں میں سے ہر بُت کسی نہ کسی شہر کے لیے مخصوص تھا۔ وہ شہر، جو حرم اور میقاتِ حج کی جہت میں تھے۔ مکّہ، مدینہ اور طائف، چناں چہ لات اہلِ طائف کا بُت تھا۔ عُزّیٰ اہلِ مکّہ کا اور منات اہلِ مدینہ کا بُت تھا۔ ان تینوں بُتوں کے پاس جمع ہونے اور تہوار منانے کے لیے عربوں نے سال میں مخصوص ایّام اور موسم مقرر کر رکھے تھے، جب کہ عربوں کی زمانی عیدیں کسی خاص تاریخی واقعے، جنگ میں فتح یابی، دشمن پر غلبہ پانے کے حوالے سے خوشی، تفریح اور میلوں وغیرہ کے لیے مخصوص ہوتی تھیں۔ یہ عید ایک خاص قوم کی ہوتی تھی۔ دوسری کسی قوم کو اس میں شرکت کی اجازت نہ تھی۔ چناں چہ ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی دن ایک قوم کے لیے خوشی اور اظہارِ مسرّت کا ہوتا اور دوسری کے لیے غم اور بدبختی کا۔اس حوالے سے عید کے دو دن ’’یوم السّبع اور یوم السّبا‘‘ خاص دن شمار ہوتے تھے۔ 

اہلِ مدینہ کے ’’عید‘‘ کے حوالے سے دو دن مخصوص تھے، جن میں وہ اظہارِ مسرّت کے طور پر جشن مناتے، کھیلا کودا کرتے تھے، جب نبی اکرم ﷺ مدینۂ طیّبہ تشریف لائے، تو آپؐ نے فرمایا’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کا نعم البدل عطا فرما دیا ہے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی۔‘‘محمود شُکری آلوسی لکھتے ہیں’’ کہا گیا ہے کہ مدینے والوں کے کھیل کود اور پُرمسرّت تہوار کے یہ دو دن نو روز اور مہرجان تھے۔‘‘ (بلوغ الارب فی احوال العرب 187/2)وہ مزید لکھتے ہیں ’’ان دونوں دنوں کو اس لیے بدل دیا گیا کہ اسلام میں عید منانے کا سبب دینی شعار کو بلند کرنا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے محسوس کیا کہ آپؐ نے اگر انہیں ان کی عادات اور سابقہ رسم و رواج پر چھوڑ دیا، تو ایسا نہ ہو کہ جاہلیت کے شعائر کی تشہیر ہوتی رہے، یا وہ اپنے اسلاف کی رسوم کو رواج دیتے رہیں، لہٰذا آپؐ نے بدل کر انہیں ایسے دن عطا فرمائے، جن میں ملّتِ حنیفیہ کے شعائر کو بلند کیا جائے۔ آپؐ نے عیدین کے تہوار کے موقعے پر زینت و آرایش کے ساتھ ساتھ ایک اور بات کا اضافہ بھی کردیا، یعنی اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت۔ آپؐ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی اجتماع اور مذہبی تہوار اعلائے کلمۃ اللہ سے خالی نہ ہو۔‘‘(ایضاً، ص 188)

علامہ سیّد سلیمان ندوی کے بقول ’’اسلام دنیا میں توحید کی آواز بلند کرنے کے لیے آیا ہے، یہ خدائے واحد کا پرستار ہے۔ اسلام میں کسی تاریخی فتح یا قومی نجات کے دن کو بطور مذہبی تہوار منتخب نہیں کیا گیا۔ روزِ ہجرت بھی اس کی عید نہیں، بدر کا یوم الفرقان بھی اس کی عید نہیں۔ بلکہ فتحِ مکّہ کا دن بھی اس کے لیے تہوار نہیں۔ اس نے اپنی ملّت کی عمومی خوشی اور اظہارِ مسرّت کے لیے وہ دن منتخب کیا، جو نزولِ وحی کے مہینے رمضان المبارک کے اختتام پر آتا ہے۔‘‘دوسری جانب یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ اسلام نے ’’عیدین‘‘ کے پُرمسرّت دینی و ملّی تہواروں کے موقعے پر اظہارِ مسرّت اور ان تہواروں کو منانے کی اجازت تو دی، تاہم ایک مخصوص ضابطے کے ساتھ اور وہ یہ ہے کہ جشنِ مسرّت میں مسلمان اپنے خالقِ حقیقی کو یاد رکھیں اور اپنے فرائضِ بندگی کی تکمیل سے غافل نہ ہوں۔

’’عیدین‘‘ کے دینی و ملّی تہوار، مسلم امّہ کی قومی و ثقافتی زندگی کے دو اہم اور سرُور آفریں مواقع ہیں۔ اس حوالے سے مسرّت و شادمانی کا اظہار فطری بھی ہے اور بَرمحل بھی۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ اسلام جیسے مثالی اور انقلابی ضابطۂ حیات نے خوشی اور غم کے موقعے پر کچھ حدود قائم کردی ہیں، عیش میں یادِ خدا اور طیش میں خوفِ خدا ایک مومنِ صادق کا طرزِ عمل اور شعار ہوتا ہے۔ اسلام اور مُسلم اُمّہ کی دینی، مِلّی اور اجتماعی زندگی کا آغاز سرورِکائنات حضرت محمد صلّی اللہُ علیہِ وآلہٖ وسلّم کی ہجرتِ مدینہ سے ہُوا۔ ’’ہجرتِ مدینہ‘‘ ہی اسلامی تاریخ کا وہ تاریخ ساز اور انقلاب انگیز موڑ ہے، جس سے اسلامی تاریخ اور سنِ ہجری کا باقاعدہ آغاز ہُوا۔ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ’’عیدالفطر‘‘ کا پُر مسرّت دینی و مِلّی تہوار صحابۂ کرامؓ کے ساتھ مدینۂ منوّرہ سے باہر، عیدگاہ میں نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد مدینے میں منایا۔ابنِ حبّان کی روایت کے مطابق 2ھ میں کفر و اسلام کے مابین تاریخ ساز معرکے ’’غزوۂ بدر‘‘ کی انقلاب انگیز اور تاریخ ساز فتح کے بعد جب سرکارِ دو جہاںؐ مدینۂ منوّرہ تشریف لائے، تو اس واقعے کے آٹھ دن بعد ’’عیدالفطر‘‘ منائی گئی۔ اسلام کی یہ پہلی عیدِ سعید جنگِ بدر کی فتحِ مبین کے بعد منائی گئی۔چشمِ تصوّر سے دیکھیے، کتنی پُرمسرّت اور خُوش گوار تھی یہ عیدِ سعید، جس کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سر پر فتح و افتخار کا تاج رکھنے کے بعد عطا فرمائی اورکتنا ایمان افروز ہوگا، اُس پہلی نمازِ عید کا دل کش منظر، جسے صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ؐکے ساتھ تکبیر و تحمید اور تسبیح و تقدیس کی ایمان افروز صدائیں بلند کرتے ہوئے مدینۂ منوّرہ سے باہر عیدگاہ میں جاکر ادا کیا تھا۔ روایت کے مطابق رسول اکرمﷺ عید کے دن یہ دعا مانگا کرتے تھے:’’اے پروردگار، ہم تجھ سے پاک و صاف زندگی اور ایسی ہی عمدہ موت طلب کرتے ہیں۔ ہمارا لوٹنا ذلّت و رسوائی کا نہ ہو۔ پروردگار، ہمیں اچانک ہلاک نہ کرنا، نہ اچانک پکڑنا، اور نہ ایسا کرنا کہ ہم حق ادا کرنے اور وصیت کرنے سے بھی رہ جائیں۔ پروردگار! ہم حرام سے اور دوسروں کے سامنے سوال بننے کی فضیحت سے بچنے کی تجھ سے دعا کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے پاکیزہ زندگی، نفس کا غنیٰ، بقا، ہدایت و کام یابی اور دنیا و آخرت کے انجام کی بہتری طلب کرتے ہیں۔ 

اے ہمارے پروردگار! ہم شکوک و شبہات اور آپس میں نفاق، ریا، بناوٹ اور دین کے کاموں میں دکھاوے کے عمل سے پناہ چاہتے ہیں۔ اے دِلوں کے پھیرنے والے رَبّ! ہمارے دل ہدایت کی طرف پھیرنے کے بعد ٹیڑھے نہ کرنا، اور ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرما۔ بے شک تُو سب کچھ عطا فرمانے والا ہے۔‘‘یہ درحقیقت اس کا اظہار ہے کہ اللہ کی عظمت و کبریائی کا اعتراف کیا جائے۔ اُس کی نعمتوں پر شُکر ادا کیا جائے۔ عیدین کے پُرمسرّت مذہبی اور مِلّی تہوار اُمّتِ مُسلمہ کی دینی و مِلّی اقدارکے پوری طرح آئینہ دار ہیں۔ ’’عیدالفطر‘‘ دردِ دل، ایثار و ہم دردی، تقویٰ و پرہیزگاری، خدمتِ خلق اور احترامِ انسانیت کا پیغام اپنے اندر سموئے ہُوئے ہے، جب کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام احترامِ انسانیت، خدمتِ خلق اور معاشرتی و سماجی فلاح کا سب سے بڑا داعی ہے۔ 

اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک جسم کے اعضاء کی مانند قرار دیتا ہے، جس میں ہر ایک، دوسرے کے دُکھ درد کو اپنا دُکھ درد تصوّر کرتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اہلِ ایمان کی مثال ایک دوسرے سے محبت کرنے، ایک دوسرے کا غم کھانے اور ایک دوسرے پر مہربانی کرنے میں جسم کی مانند ہے کہ اگر اس کا ایک حصّہ تکلیف سے دوچار ہوتا ہے، تو سارا جسم اُسی کیفیت کا شکار ہوجاتا اور بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘ (صحیح مُسلم)

رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے، ’’تمام مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں کہ اگر اُس کی ایک آنکھ کو تکلیف پہنچتی ہے، تو تمام جسم اس تکلیف کو محسوس کرنے لگتا ہے اور اگر اُس کے سر کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے، تو پورا بدن اُسی تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘ (صحیح مُسلم) آپﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’مسلمان، مسلمان کے لیے آئینہ ہے، مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اُسے زیاں سے بچاتا ہے، اور ہر وقت اُس کی مدد کے لیے کھڑا رہتا ہے۔‘‘ (سُنن ابو دائود)۔عیدالفطر کے اس موقعے پر ہمیں ملک میں حالیہ عالمی وبائی آفت کورونا وائرس سے متاثرہ اپنے غم زدہ بھائیوں اور غربت و افلاس کے مارے خاندانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے، جو ہمارے جذبہ ایثار وانفاق ، بھرپور ہم دردی اور امداد کے منتظر ہیں۔ ایسے میں انفاق و ایثار سے سرشاراہلِ ایمان رضاکارانہ طور پر اُن کی جس طرح مدد کررہے ہیں، وہ حد درجہ لائقِ ستائش ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان دُکھی افراد کو بھی اپنی خُوشیوں میں بھرپور شریک کیا جائے، اُن کی ہر ممکن اور مؤثر مدد کی جائے۔

ایثار و ہم دردی کے اُس جذبے کو عام کیا جائے اور اُس پر عمل کیا جائے، جو اسلامی تعلیمات کی روح اور مُسلم اُمّہ کا امتیازہے۔ اس امر کی بھی اشد ضرورت ہے کہ اعزاز و اکرام اور بارگاہِ خدا وندی سے انعام کے اس عظیم دن تمام امتیازات کے بندھن توڑ دِیے جائیں، ہر قسم کے تعصّبات کا خاتمہ کردیا جائے، گِلے شِکووں کو فراموش کردیا جائے، اُس اخوّت و اجتماعیت اور اتّحاد و یگانگت کا مظاہرہ کیا جائے، جس کا اسلام داعی ہے۔ امیر و غریب، شاہ و گدا، حاکم و محکوم ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر دینی و مِلّی جذبے سے سرشار ہوکر اتّحاد و یگانگت اور اخوّت و اجتماعیت کا وہ مظاہرہ کریں، جس کا اسلام درس دیتا ہے ؎ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز.....نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز۔ اور؎بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے.....تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔

آج سب سے پہلا فریضہ یہ ہے کہ ضرورت مندوں، بے کسوں، ناداروں، مفلوک الحال، تنگ دست اور فاقہ مست لوگوں کی داد رسی کی جائے، اُن کی مدد کی جائے، اس میں درحقیقت یہ پیغام مضمر ہے کہ اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں، حقیقی جینا وہ ہے جو دوسروں کے لیے ہو۔ اسلام صاحبِ ثروت مسلمانوں کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ معاشرے کے بے آسرا اور مفلوک الحال طبقے اور معاشی طور پر بدحال مسلمانوںکی بھرپور مدد کریں اور اُن کا سہارا بنیں، یہی اسلامی طرزِ معاشرت کی بنیاد اور اسلامی فلسفۂ عبادت و نظامِ حیات کی حقیقی رُوح ہےاور عیدالفطر کے اِس دینی و مِلّی تہوار میں بھی درحقیقت یہی پیغام پوشیدہ ہے۔