آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کوویڈ 19 ۔ بحران نے سپلائی چین کی کمزوریوں کو اجاگر کردیا

جوڈتھ ایوانز

جیسے ہی مارچ میں کووڈ19وبائی مرض پھیلنے کی رفتار میں اضافہ ہوا،نیسلے کے چیف ایگزیکٹو نے اپنے تقریباََ 300,000 ملازمین کو متنبہ کیا کہ طوفان کے ٹکرانے کے لئے تیار رہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے فوڈ میکر کے سربراہ پہلے ہی ایک سے بحران کے عالم میں تھے۔ فروری میں ، مارک شنائیڈر نے دونوں خام مال اور تیار شدہ کھانے کی اشیاء کی انوینٹری کی سطح میں اضافہ کیا۔ آپریشنل پریشانیوں کے بارے میں فوری فیصلے کیلئے بحران کمیٹی نے ہفتے میں دو بار اجلاس کیا۔

جیسے نیسلے نے گذشتہ ماہ آمدنی جاری کی تھی،انہوں نے کہا کہ جہاں آپ نے لاک ڈاؤن دیکھا وہاں آپ کو قلت سے نمٹنا پڑا اور اسے ذرائع نقل وحمل کی گنجائش میںکمی نے بڑھا دیا۔اس بحران میں ہر کوئی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے لہذا یہاںکافی حد تک مسابقت ہو رہی ہے۔

کوئی جادوئی گولی نہیں، کچھ بہت محدود معاملات میں ہم ترکیبوں کو ایڈجسٹ کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں اگر کوئی اہم جزو موجود نہ ہو۔

چیریوس سیرلیز سے کٹ کیٹ چاکلیٹ اور میگی نوڈلز تک کھانے پینے کا سامان بنانے والوں نے طوفان کی سمت شناسی کی۔اپریل میں انہوں نے تقریباََ پانچ سال میں اپنی سہہ ماہی فروخت کی سب سے بہترین نمو کی اطلاع دی ہے۔

نیسلے جیسے نیٹ ورک کی تیزی نے اس کے لئے بہت اہم کردار ادا کیا،جس کے بارے میں متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وبائی مرض میں عالمی سطح پر فوڈ سپلائی چینز کی یہ اب تک کی مضبوط کارکردگی ہے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی میں عالمی سطح پر کھانے کی حفاظت کے لیکچرر پیٹر الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر خوراک کا نظام بہت اچھی طرح سے قائم ہے - یہ کافی لچکدار ہے۔ایک پیچیدہ نظام جھٹکے برداشت کرنے کیلئےآزادی کی مزید ڈگری پیدا کرتا ہے۔

اس کے باوجود جیسے جیسے یہ وائرس پھیل رہا ہے،فوڈ چین کے کچھ حصے زیادہ اچھی طرح کام نہیں کررہے ہیں۔کورونا وائرس امریکی گوشت پیک کرنے والے پلانٹس میں پھیل چکا ہے اور ان میں سے کافی بند ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔امریکی گوشت کی کمپنی ٹائسن فوڈز کے چیئرمین نے اپریل میں قلت کے حوالے سے انتباہ کیا تھا کہ سپلائی چین ٹوٹ رہی ہیں۔

گوشت کے پروسیسنگ پلانٹس میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے،جہاں ذبیح اور پروڈکشن لائنز کے ملازمین کو ایک دوسرے سے قریب ہوکر کام کرنا ہوتا ہے، آسٹریلیا اور آئرلینڈ میں بندش کا باعث بنیں۔امریکا میں کسانوں نے مارکیٹ تک پہنچنے کے راستے بند ہونے کے بعد لاکھوں جانوروں کو ضائع کردیا یا ہلاک کردیا۔اس نے ہزاروں لوگوں کو خط غربت سے نیچے پھینک دیا اور وہ فوڈ بینکس کے باہر کھانے کیلئے قطاروں میں لگنے پر مجبور ہیں۔

دیگر کسانوں کے پاس بھی اضافی مصنوعات بچ گئی ہیں۔ ریسٹورنٹس،کیفے اور باہر کھانا کھانے کے مقامات کی بندش کے باعث ڈیری فارمرز بھی عالمی سطح پر طلب میں کمی کا تجربہ کررہے ہیں،جس سے خطرہ پیدا ہورہا ہے کہ کچھ فارم کا کاروبار تباہ ہوسکتا ہے۔

فضائی ٹریفک میں کمی نےبھی فوڈ چینز میں خلل ڈالا،برازیل کے پپیتوں سے کینیا کے ایواکاڈوز تک کی مصنوعات عموماََ مسافربردار طیاروں پر سفر کرتی تھیں۔پروازوں کی منسوخی سے فارمرز شیلف کی محدود زندگی کیلئے پیداوار کیلئے مجبور ہوگئے ہیں۔بھارت میں ملک بھر میںذرائع نقل و حمل اور لیبر کے خلل سے آموں کی مارکیٹ متاثر ہوئی ،جس نے آم کی قیمت کو گرادیا۔

عالمی ادارہ صحت کے خصوصی سفیر برائے کووڈ19 ڈیوڈ نبارو نے کہا کہ کسان ،خاص طور پر چھوٹی سطح کے کسان جنہیں بڑے زرعی کاروبار کا تحفظ حاصل نہیں، انہیں مدد کی زیادہ ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پیداوار خاص طور پر تازہ مصنوعات کیلئے مارکیٹس تباہ ہوچکی ہیں اور اس میں سے کچھ کیلئے بیج،کھاد اور مزدوروں کا حصول جس کی انہیں ضرورت ہے،حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔یہ غریب ممالک میں ایک مرکب بن چکا ہے جہاں کسان محدود منافع کیلئے کام کرتے ہیں اور اکثر قرض تلے دبے ہوتے ہیں۔یہ حقیقی طور پر بدتر مقام پر موجود زیادہ تر کسانوں کو مزید پستی کی جانب لے جارہا ہے۔

فارم کی فروخت میں خلل سپلائی چینز کیلئے کمی کا سبب بنا۔ڈیوڈ نبارو نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے ایسی ایپلیکشنز کو فروغ دے رہے ہیں جو صارفین کے ساتھ براہ راست سمیت کسانوں کاخریداروں کے ساتھ رابطہ قائم کریں،جہاں مارکیٹ بند ہیں یا سفری پابندیاں کسانوں کو پیداوار منتقل کرنے سے روکیں۔ پالیسی،قانون اور فوڈ اینڈ ایگریکلچرریگیولیشن پر تحقیق کرنے والےکارڈف یونیورسٹی میں سینئر لیکچرارلیوڈوین پیٹین کا کہنا ہے کہ مقامی فوڈ چینز فوڈ سیکیورٹی فراہم کرنے میں اہم کام کررہی ہیں،اور لوگ اس کا ادراک کررہے ہیں کہ مقامی سپلائی چین کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔

نیور ہیمپٹن یونیورسٹی میں آپریشنز اور سپلائی چین منیجمنٹ کے لیکچرر لیام فاسم کا کہنا ہے کہ طویل فوڈ سپلائی چینز ،جن میں ہزاروں کلومیٹر پر 25 سے زیادہ مختلف کمپنیاں شامل ہوسکتی ہیں،اس کا مطلب ہے کہ پوری چین میںزیادہ تر کاروباری ادارے دکھائی نہیں دیتے۔یہ حکومتی کارروائیوں میں بھی رکاوٹ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مقام کا معلوم نہ ہونےکی وجہ سے پالیسی سازوں کے لئے اکٹھا ہونا اور کہنا مشکل ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ پولینڈ میں دس لاکھ ٹن گندم ہے جس کی پروسیسنگ کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ رکاوٹیں فوڈز کے حوالے سے دھوکے اور حفاظت کی خلاف ورزیوں کے امکانات کھول رہی ہیں۔دنیا بھر میں لاکھوں جانور ہلاک ہو رہے ہیں اور اس پر کارروائی نہیں ہوسکتی ہے - لوگ ان جانوروں کو دیگر سپلائی چینوں میں دھکیلتے نظر آئیں گے۔وہ کہتے ہیں کہ مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر وہ آپ کے شیفرڈز پائی میں پائے جا سکتے ہیں۔

لیام فاسم نے کہا کہ اس طرح کے مسائل نے ڈیٹا کو حکومتوں کے ایجنڈے میں آگے بڑھایا ہے ،جو معلومات کے تبادلے کے نظام کی ترقی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو تجارتی رازداری کی خلاف ورزیوں کے بغیر نظر آنےکے قابل بناتا ہے۔

مسٹر نابارو کا خیال ہے کہ سپلائی چین کی لمبائی کم ہوسکتی ہے۔ چھوٹی سپلائی چین میں زیادہ لچک ہوتی ہے۔مجھے اس پر زیادہ حیرت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ قبول کرتے ہوئے کہ آپ سارا سال اپنی خواہش کے مطابق سب کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے ، آپ کو پیداوار کی موسمی صورتحال کا احترام کرنا ہوگا۔

لیام فاسم نے کہا کہ ایک فوری پریشانی یہ ہے کہ غذائی پیداوارکس طرح دنیا کے دوبارہ کھلنے کے مطابق خود کو ڈھالےگی ،خاص طور پر جہاں شٹ ڈاؤن کے اثرات نے کاروبار کو خطرے سے دوچار کیا۔یہاںڈیری فارمرز اپنے ریوڑ کو ذبح کرکے اپنے کاروبار کو ختم کردیا ہے۔ایک تشویش یہ ہے کہ جب آپ فوڈ سروس کو جاری کرتے ہیں تو اس خلا کو پورا کرنے کے لئے کوئی کاروباری ادارہ نہیں ہوگا۔

وائرس کے وسیع تر معاشی اثرات لاکھوں افراد کوغذائی غربت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے شدید غذائی تحفظ میں مبتلا افراد کی تعداد سال کے آخر تک دوگنا ہو کر 265 ملین ہوسکتی ہے۔

مسٹر نابارو کا کہنا ہے کہ غذائی کاروبار میں کام کرنے کا طریقہ کافی منتشر ہے،اور اس سے پتا چلتا ہے کہ مختلف اشیاء اور مصنوعات کیلئے مختلف سپلائی چینز کام کررہی ہیں۔ہمیں ایک مربوط نظریہ کی ضرورت ہے کہ ہر فرد کو کس طرح سے غذائیت مل سکتی ہے،جس کی ہمیں ضرورت ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید