آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پچھلے ہفتے، عید سے ایک روز پہلے پی آئی اے کا ایک مسافر بردار جہاز لینڈنگ کرتے ہوئے ملیر میں مکانوں پر گر پڑا تھا۔ اس غیر معمولی حادثہ میں جہازمیں سوار تقریباً ایک سو لوگ جاں بحق ہوگئے۔ آٹھ دس مکان اور گاڑیاں تباہ ہوگئی تھیں۔ مکانوں کے ملبے میں دب کر بھی کئی لوگ اجل کا شکار ہوگئے تھے۔ ان کی تعداد کتنی تھی، کوئی کچھ بتانے کو تیار نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ، ان کے وزرا اور اعلیٰ افسران معجزانہ طور پر بچ جانے والے زخمی مسافروں کی عیادت کے لئے اسپتالوں اور ان کے گھروں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ بیانات جاری کر رہے ہیں۔

سول اسپتال کراچی کے برنس وارڈ میں تین بری طرح جھلسی ہوئی لڑکیاں زیر علاج ہیں۔ مائدہ کی عمر بارہ برس ہے، ماہرہ کی عمر پندرہ برس ہے اور عزیزہ بیس برس کی ہے۔ تینوں بچیاں لاہور سے کراچی آنے کے لئے پی آئی اے کے بدقسمت جہاز میں سوار نہیں تھیں۔ وہ تینوں بچیاں ہوائی جہاز کے گرنے سے تباہ ہونے والے مکانوں میں کام کرتی تھیں۔ جھاڑو پوچا کرتی تھیں، کپڑے دھوتی تھیں اور برتن مانجتی تھیں۔ چونکہ وہ تینوں بچیاں جہاز میں سوار نہیں تھیں لہٰذا کسی نے ان کی عیاد ت نہیں کی۔ کسی نے بچیوں کے لئے معاوضہ کا اعلان نہیں کیا۔ اس قصہ کے شائع ہونے تک ہو سکتا ہے بڑے لوگوں نے بچیوں کی عیادت کی ہو۔ ملک اور معاشرہ میں بدترین تضاد تب کھل کر سامنے آتا ہے جب ہم کسی المناک حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔ پی آئی اے کے جہاز کا غیر معمولی حادثہ المناک تھا۔ المناک ہے۔ حالیہ حادثے کا شمار اُن ملکی حوادث میں شمار کیا جائے گا جن کو طویل مدت گزر جانے کے باوجود بھلا دینا ممکن نہیں لگتا۔ مثلاً اسلام آباد سے گلگت جاتے ہوئے پی آئی اے کا ایک ہوائی جہاز غائب ہو گیا تھا۔ پچاس برس گزر جانے کے باوجود اربابِ اقتدار یکے بعد دیگرے آج تک نہیں بتاتے کہ ہوائی جہاز کہاں غائب ہو گیا۔ جہاز کو زمین نگل گئی یا آسمانی بلیک ہولز نے جھپٹ کر غائب کر دیا؟ حادثوں میں اپنے پیاروں کے جاں بحق ہونے کا دکھ ہم رفتہ رقتہ سہہ لیتے ہیں۔

لیکن اپنے پیاروں کے گم ہو جانے کا دکھ ہم مرتے دم تک بھلا نہیں سکتے۔ مسافروں میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔ وہ بچے آج پاکستان کے سینئر سٹیزن ہوتے۔ نجانے کہاں غائب ہو گئے۔ آپ ان کو مرحوم نہیں کہہ سکتے۔ آپ ان کی برسی نہیں منا سکتے۔ آپ ان کے لئے دعائے مغفرت نہیں کر سکتے۔ وہ آپ کے دل و دماغ میں زندہ ہوتے ہیں۔ ابھی ابھی، تیس چالیس منٹ پہلے آپ نے ان کو گلگت روانہ ہوتے ہوئے اللہ حافظ کہا تھا۔ گلگت پہنچنے سے پہلے جہاز کہاں غائب ہوگیا؟ ہم ان کے عزیزو اقارب کے کبھی ختم نہ ہونے والے کرب کا احساس نہیں کر سکتے۔ اس المناک واقعہ پر پچاس برس سے ہیبت ناک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

سات آٹھ برس پہلے، ایک مسافر بردار جہاز کراچی سے روانہ ہوا اور اسلام آباد کے ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے سے پہلے مارگلہ کی پہاڑیوں پر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس جہاز کے حادثہ کو میڈیا نے اس طرح نہیں اٹھایا تھا جس طرح ملیر میں مکانوں پر گر کر تباہ ہونے والے جہاز کے حادثہ کو میڈیا نے اٹھایا ہے۔ آخری لمحات کی دردناک کہانیاں بیان نہیں ہوئی تھیں۔ حادثے کی تصاویر شائع نہیں ہوئی تھیں، روتے بلکتے لواحقین کے وڈیو انٹرویوز نہیں دکھائے گئے تھے۔ میڈیا نے ہمیں نہیں بتایا تھا کہ اس جہاز میں کسی بینک کے پریذیڈنٹ یا سینئر وائس پریذیڈنٹ بھی سوار تھے۔ اکیس اور بائیس گریڈ کے کتنے دبنگ بیورو کریٹ جہاز میں سفر کر رہے تھے؟ اس حادثے کی تحقیقات کرنے کے لئے فرانس، جرمنی، اور ڈنمارک سے ماہرین کی ٹیم پاکستان نہیں آئی تھی۔ اگر آئی تھی، تو اُن کی آمد مخفی رکھی گئی تھی۔ اس قدر سیکرسی (Secrecy) افواہوں کو جنم دیتی ہے۔ تب ایک افواہ اُڑی تھی کہ مسافر بردار جہاز کو کسی نے راکٹ یا میزائل مارکر گرایا تھا۔

کورونا وائرس کے حوالے سے ملک میں دو ماہ سے لاک ڈائون، بلکہ کریک ڈائون ہے۔ روڈ راستوں پر حادثے نہیں ہوتے۔ چلتی ہوئی بسوں میں اچانک آگ بھڑک نہیں اٹھتی۔ چالیس پچاس مسافر جل کر خاک نہیں ہوتے۔ تیز رفتار ویگن اور ٹرک آپس میں نہیں ٹکراتے۔ مسافروں کے اعضا کٹ کر باہر جاکر نہیں گرتے۔ چکنا چور گاڑیوں سے زخمیوں کو اور لاش نکالنے کے لئے کرین اور دیگر مشینری جائے حادثہ پر نہیں لائی جاتی۔ پچھلے دو مہینوں سے کسی بڑے روڈ حادثے کی خبر سننے میں نہیں آئی ہے۔ ورنہ دو ماہ پہلے، یعنی لاک ڈائون اور کریک ڈائون سے پہلے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب ریل گاڑیاں پٹری سے نہیں اترتی تھیں۔ آمنے سامنے سے آتی ہوئی ریل گاڑیاں آپس میں ٹکراتی تھیں۔ بوگیوں میں آگ لگ جاتی تھی۔ چیختے چلاتے زخمی امداد آنے سے پہلے مر جاتے تھے۔ اس طرح کے حادثوں کی ایک دو روز خبر پڑھنے کو، خبر سننے کو اور خبر دیکھنے کو ملتی تھی۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ حادثوں کے بارے میں خبروں کی سنسنی خیز بھرمار اس طرح نہیں ہوتی تھی جس طرح ملیر میں مکانوں پر گرنے والے ہوائی جہاز کے بارے میں کوریج ہمیں دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہے۔ کوریج کا تمام تر زور ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں پر ہے۔ زمین پر مسمار ہونے والے مکانوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ خدانخواستہ جہاز اگر کسی بڑی سوسائٹی کی کوٹھیوں پر گرتا تو ہماری کوریج اور خبروں کا مزاج کچھ اور ہوتا۔ ہم تضاد کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔