آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چارلس ڈکنز ایک برطانوی ناول نگار، صحافی، ایڈیٹر اور مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ سماج پر گہری نظر رکھنے والی ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ انہوں نے اولیور ٹوئسٹ(Oliver Twist)، اے کرسمس کیرول(A Christmas Carol)، نکولس نکلیبی(Nicholas Nickleby)، ڈیوڈ کاپر فیلڈ(David Copperfield)، اے ٹیل آف ٹو سٹیز (A Tale of Two Cities) اور گریٹ ایکس پیکٹیشنز(Great Expectations)جیسے معروف کلاسک ناول لکھے، جو آج بھی ہمارے کیمبرج نظام تعلیم کے نصاب کا حصہ ہیں۔ چارلس ڈکنز کو انیسویں صدی کے ایک اہم اور با اثر ادیب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی نگارشات کا ایک زمانہ اس لیے بھی معترف ہے کہ انہوں نے اپنے وکٹورین دور کی ایک مکمل تصویر پیش کی جو معاشرتی تبدیلی لانے میں کافی مددگار ثابت ہوئی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

چارلس ڈکنزنے 7فروری 1812 ءکو انگلینڈ کے جنوبی ساحل پر واقع پورٹس ماؤتھ میں آنکھ کھولی۔ وہ اپنے آٹھ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبرپر تھے۔ ان کے والد جان ڈکنز بحریہ میں ایک کلرک تھےاور دولت مند ہونے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ چارلس کی والدہ الزبیتھ بیرو، تدریس کے شعبے سے منسلک تھیں اور اسکول ڈائریکٹر بننے کی خواہش مند تھیں۔ والدین کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ خاندان کسمپرسی کے حالات سے باہر نہ آسکا، تاہم اس کے باوجود وہ ہر حال میں خوش رہنے کی کوشش کرتے تھے۔1816 ءمیںیہ خاندان کینٹ منتقل ہو گیا، جہاں نوجوان ڈکنز اور اس کے بہن بھائی ، دیہی علاقوں میں گھومنے اور روچیسٹر کے پرانے محل کوکھوجنے کیلئے چلے جاتے تھے۔

1822 ءمیں ڈکنز خاندان لندن کے ایک غریب محلے کیمڈن ٹاؤن چلا گیا۔ تب تک اس خاندان کی مالی حالت سنگین ہوگئی تھی کیونکہ جان ڈکنز کو قرض کی مد میں حاصل کردہ رقم فضول کاموں میں اڑانے کی عادت تھی۔ آخر کار جان کو 1824 ءمیں قرض واپس نہ کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا ، اس وقت چارلس ڈکنز کی عمر12 سال تھی۔

اپنے والد کے جیل جانے کے بعد چارلس کو دریائے ٹیمز کے ساتھ قائم جوتوں کو سیا ہ کرنے والی فیکٹری میں ملازمت کرنے کی خاطر اسکول چھوڑنا پڑا۔ سیاہ دھوئیں سے بھری اس فیکٹری میں چارلس ڈکنز کا کام آتش دان کو صاف کرنے والے برتن پر ’’ بلیکنگ‘‘ کا لیبل لگانا تھااور انہیں اس کا 6 شلنگ معاوضہ ملتاتھا، اس عمر میں وہ اس سے بڑھ کر اپنے خاندان کی مدد نہیں کرسکتے تھے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے چارلس ڈکنز نے اپنے بچپن کو الوداع کہا اور کم عمری میں ہی زندگی کو کھوجنا شروع کردیا۔ چارلس کو جلد احساس ہوگیا تھاکہ ان کے بڑوں نے ان کا خیال رکھنے کے بجائے انہیں بیچ منجدھار میں چھوڑ دیا ہے اور یہ احساس ساری زندگی ان کو کچوکے لگاتا رہا جو کہ ان کی تحریروں میں بھی جھلکتا ہے۔ فیکٹر ی میں کام کرتے ہوئے چارلس ڈکنز جس جبر اور استحصال کا شکار ہوئے وہ آپ کو ان کی کتاب ’’ اولیور ٹوئسٹ ‘‘ میں نظر آئے گا، اسی طرح مزدور بچوں کے احساسات کی جھلک ہمیں ’’ ڈیوڈ کاپر فیلڈ ‘‘ میں نظرآتی ہے جبکہ ’’ اے کرسمن کیرول‘‘ میں آپ امیر و غریب کے فرق کومحسوس کرسکتے ہیں۔

تقدیر نے چارلس کے ساتھ عجیب کھیل کھیلا۔چارلس کے والد نے خاندانی جائیداد بیچ کر اپنے سارے قرض ادا کردیے اور چارلس کو اسکول واپس جانے کی اجازت دے دی۔ چارلس کی زندگی میں سکون آگیا اور وہ ذوق و شوق سے پڑھنے لگے لیکن جب چارلس ڈکنز 15 سال کے ہوئے توانہیں حالات کی ستم ظریفی کی وجہ سے ایک بار پھر اسکول چھوڑنا پڑا اور اپنے خاندان کی آمدنی میں حصہ ڈالنے کے لئے ایک دفتر میں آفس بوائے کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنا پڑی۔ لیکن یہی ملازمت ا ن کے کیریئر کا اہم موڑ بن گئی، چارلس نے لکھنا شروع کیا اور اسے ہی اپنا کیریئر بنا لیا۔

چارلس ڈکنز کی شخصیت

دور حاضر کے مؤرخین و مصنفین ادب کے حوالے سے چارلس ڈکنز کو پہلی عالمی شخصیت گردانتے ہیں ۔ ان کی تخلیق کردہ نگارشات کا ترجمہ تقریباً ہر زبان میں ہو چکاہے ۔ ان کی کتابوں میں تخلیق کردہ کردار آج بھی دنیا بھر میں نظر آتے ہیں، جن کا تعارف چارلس ڈکنز نے 170سال پہلے دنیا سے کروایا تھا۔ چارلس ڈکنز کی سوانح حیات لکھنے والے کلیئر ٹامالین کہتےہیں کہ چارلس ڈکنز کی معاشرتی تصویر کشی آج بھی ان کی سوچ کے عین مطابق ہے، وہی امیرو غریب میں پایا جانے والا فرق، سرکاری معاملات میں بدعنوان افراد کی موجودگی ، اراکین پارلیمنٹ کی ریشہ دوانیاں ، اور اس قسم کی دیگر سماجی برائیاں آج کے دور میں بھی انسانوں کےساتھ سائے کی طرح متحرک ہیں۔ ان تمام کی نشان دہی اور احاطہ چارلس ڈکنز نے انتہائی مہارت سے بہت عرصہ قبل اپنی تحریروں میں کردیا تھا۔

9 جون 1870ء کو یہ عظیم شخصیت ہمیں داغ مفارقت دے گئی۔ 2012ء میں چارلس ڈکنز کی 200ویں سالگرہ پر برطانیہ میںشاندار تقاریب منعقد کی گئیں۔ برطانوی محکمہ ڈاک نے ان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیے اور اس سا ل ان کے ناول پر مبنی فلم Great Expectations بھی ریلیز کی گئی۔