آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کے معتبر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے جج وڈیو اسکینڈل کے دو کرداروں ناصر محمود بٹ اور میاں سلیم رضا کے نام انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لئے ہیں۔ ان دونوں افراد کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ ان کا نام جس فہرست میں شامل کیا گیا اس میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل اور حکومت پاکستان کی طرف سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث دہشت گردوں کے نام شامل ہیں۔

اس فہرست میں بانی ایم کیو ایم کا نام سیریل نمبر 23، ناصر محمود بٹ کا نام سیریل نمبر 26اور میاں سلیم رضا کا نام سیریل نمبر 27میں رکھا گیا ہے۔ پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی کل تعداد 1210ہے جس میں سے ایف آئی اے کو 28، اسلام آباد کو 32، پنجاب کو 122، سندھ کو 100، کے پی کو 737، بلوچستان کو 161اور گلگت بلتستان کو مطلوب 30افراد شامل ہیں۔

ایف آئی اے کی طرف سے تمام دہشت گردوں کی پروفائلز بنائی گئی ہیں جن میں ان کی ذاتی تفصیلات، تصاویر، ان پر لگے الزامات کے تحت ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز کے نمبر اور اس میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور ریاست مخالف سرگرمیوں سمیت دیگر سنگین جرائم کی پاکستان پینل کوڈ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء (TATA) کی دفعات درج ہیں۔

جج وڈیو اسکینڈل میں ملوث ناصر محمود بٹ اور میاں سلیم رضا کی پروفائلز میں صرف ان کے خلاف سائبر کرائم ونگ میں درج مقدمہ نمبر 24/2019کا ذکر ہے جس کو بعد ازاں ایف آئی اے کے کائونٹر ٹیرر ازم ونگ (سی ٹی ڈبلیو) کے سپرد کر دیا گیا۔

ان دونوں کی پروفائلز میں تحریر کیا گیا ہے کہ یہ جج ارشد ملک وڈیو اسکینڈل میں ملوث ہیں اور ان پر بلیک میلنگ اور مجرمانہ دھمکیوں کا الزام ہے۔ اب چند سوالات ابھرتے ہیں کہ کیا یہ دونوں الزام دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں؟ ناصر محمود بٹ اس وقت برطانوی ہے تو کیا برطانوی حکومت کو یہ کہہ کر کہ ناصر بٹ بلیک میلر اور مجرمانہ دھمکیوں میں ملوث ہے، اس کی حوالگی پر قائل کیا جا سکتا ہے؟

کیا برطانوی حکومت کو کریمنل میٹرز میں MUTUAL LEGAL ASSISTANCEکا حوالہ دے کر ناصر محمود بٹ کا مطالبہ کیا جا سکے گا؟ کیا پاکستان نے دہشت گردوں کی حوالگی کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کر رکھا ہے؟ کیا پاکستان برطانیہ کو کوئی ایسی یقین دہانی کرا سکے گا کہ حوالگی کے بعد برطانوی شہری ناصر بٹ پر کوئی جسمانی یا ذہنی ٹاچر نہیں کیا جائے گا؟ کیا برطانوی حکومت اور عدالتوں کے سامنے یہ ثابت کیا جا سکے گا کہ ناصر بٹ دہشت گردی میں ملوث ہے؟ اس معاملے پر تو بیسیوں اور سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ ایف آئی اے کے بعض افسران بھی انگشت بدنداں ہیں کہ بلیک میلنگ اور مجرمانہ دھمکیوں کو دہشت گردی کے زمرے میں کیسے لایا گیا؟

برطانیہ میں پریکٹس کرنے والے بیرسٹر امجد ملک جو مانچسٹر کے مشہور اور سب سے بڑے شاپنگ مال ٹریفورڈ سنٹر پر مبینہ دہشت گرد حملوں کی پلاننگ کے الزام میں برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد دہشت گرد قرار دیے جانے والے 10پاکستانی طلبہ کا لندن ہائیکورٹ میں کیس لڑ چکے ہیں، بھی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ایف آئی اے کے ان الزامات پر برطانوی حکومت وہاں کی آزاد عدلیہ کے ہوتے ہوئے ناصر بٹ کو پاکستان کے حوالے کرے۔ مانچسٹر کے شاپنگ مال پر مبینہ دہشت گرد حملوں کی پلاننگ میں گرفتار 10پاکستانی طالبعلموں کو برطانیہ سے ڈیپورٹ کر دیا گیا لیکن ایک لڑکا جس پر شک تھا، کو اس لئے پاکستان ڈیپورٹ نہ کیا گیا کہ کہیں اسے واپسی پر ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

برطانوی حکومت اپنے کسی شہری کی حوالگی کے وقت یہ باتیں ضرور مدنظر رکھتی ہے کہ کیا اس کے خلاف کیس کے کوئی سیاسی مضمرات تو نہیں؟

کیا اس شخص پر کوئی ذہنی یا جسمانی تشدد تو نہیں کیا جائے گا؟ کیا بالجبر اس سے اعترافی بیان تو نہیں لیا جائے گا؟ کسی بھی استغاثہ کے نتیجے میں کیا اس کو فیئر ٹرائل مہیا کیا جائے گا اور کیا جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس برطانوی شہری کو سزائے موت تو نہیں دی جائے گی؟ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی حکومت برطانوی حکومت اور عدلیہ کو ان تمام سوالوں کے جواب اور گارنٹی دے کر مطمئن کر پائے گی۔

ناصر بٹ کے خلاف راولپنڈی میں قتل کے مقدمات درج ہوئے۔ وہ ان کیسوں میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے اشتہاری اور مفرور بھی قرار دیا گیا۔ اس نے کئی سال قبل پاکستان سے جا کر برطانیہ میں پناہ حاصل کی جہاں وہ پہلے ہی برطانوی ہوم آفس (وزارتِ داخلہ) کو اپنے کیس میں قائل کر چکا ہے کہ اسے پاکستانی اداروں اور عدالتوں میں فیئر ٹرائل کی توقع نہیں اور اسے پاکستان بھجوایا گیا تو اس پر نہ صرف ذہنی و جسمانی تشدد کیا جائے گا بلکہ اسے موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں پاکستان حکومت کو یہ سوچنا ہوگا کہ ملک کی جگ ہنسائی نہ ہو اور برطانوی عدالتوں میں ہمارے سسٹم کا مذاق نہ اڑایا جا سکے۔