آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پیرزادہ شریف الحسن عثمانی، سکھر

یوں تو ہر سکّے کے دو رُخ ہوتے ہیں، مگر ایک وقت میں صرف ایک ہی رُخ دکھائی دیتا ہے ،کیوںکہ دونوں رُخ کبھی ایک ساتھ سامنے نہیں آسکتے۔بالکل ایسے ہی وقت بھی سکّے کی مانند ہے،جس کا ایک رُخ ’’آج‘‘ تو دوسرا ’’بیتاکل‘‘ہے ۔وقت کے سکّے کا بھی ایک وقت میں ایک ہی رُخ دکھائی دیتا ہے۔اور وہ ہے،آج کا۔ دوسرے رُخ پر ہمیشہ ہمارے بیتے ہوئے کل کا منظر نقش ہوتا ہے، جسے ماضی کی دھول ہماری آنکھوں سے اوجھل رکھتی ہے، مگر یہ رُخ ہمارے حافظے میں محفوظ رہتا ہے۔ آج آپ کے سامنے کچھ مناظر پیش کیے جارہے ہیں،جو آج اور بیتے کل پر مشتمل ہیں۔

’’آج‘‘کا پہلا منظر:’’ابّاجی! ہم آپ کا سامان اوپر والے کمرے میں منتقل کر رہے ہیں۔اب آپ وہیں رہیں گے۔‘‘بیٹے نے بوڑھے باپ سے کہا۔ ’’مگر کیوں بیٹا؟مَیں ہمیشہ سے یہیں رہ رہا ہوں، مجھے اس کی عادت ہوگئی ہے اور اوپر والا کمرا تو ویسے بھی سب سے الگ تھلگ ہے۔ وہاں میرا دِل نہیں لگے گا۔مَیں سب سے کٹ کر رہ جاؤں گا۔ مَیں یہیں ٹھیک ہوں، یہاں مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘ بوڑھے باپ نے جَرح پوری کی، تو بیٹے کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ترش لہجے میں بولا،’’مسئلہ تو یہ ہے ابّاجی کہ آپ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں، آپ کو صرف اپنے آرام سے غرض ہے۔ برابر کےکمرے میں آپ رات بَھر کھانستے رہتے ہیں اور ہم ٹھیک سے سو نہیں پاتے۔ 

ہمیں صُبح جلدی اُٹھنا ہوتا ہے اورآپ تو جانتے ہیں کہ ہم دونوںمیاں بیوی نوکری کرتےہیں۔ دونوں کماتے ہیں، تو ہمارا، گھر کا اور آپ کا خرچا پورا ہوتا ہے۔ جب ہم ساری رات سُکون سے سو ہی نہیں پائیں گے، تو کیا خاک کام کر سکیں گے۔ چلیں ہماری تو پھر بھی خیر ہے، مگر بچّے؟ بچّوں کا کمرا بھی تو برابر میں ہے، اُن کا کیا قصور ہے۔ کل بھی چھوٹی کہہ رہی تھی،’’دادا ابّو کھوں کھوں کرتے ہیں، تو مَیں ڈر کر جاگ جاتی ہوں۔ پلیز ابّاجی! بچّوں کی طرح ضد نہ کریں۔‘‘ اگلی رات بوڑھا باپ اوپر والے کمرے میں اکیلا کھانس رہا تھا اور اس کے ذہن کے پردے پر ایک اور منظر چل رہا تھا، جو وقت کے سکّے کے دوسرے رُخ پر تھا۔یعنی بیتے کل کا منظر۔ 

اس منظر میں وہ بَھرپور جوان تھا اور اپنے ننّھے سے بچّے کو (جو بُری طرح رو رہا تھا)سینے سے لگائے ٹہل رہا تھا۔’’اے جی!آپ دوسرے کمرے میں جاکر سو جائیں۔ مَیں مُنّے کو سنبھال لوں گی۔ کتنی ہی راتوں سے آپ سوئے نہیں، اس طرح تو بیمار پڑجائیں گے۔ روز آپ دیر سے کام پر جا رہے ہیں،کہیںنوکری ہی نہ چلی جائے۔‘‘ اُس کے کانوں میں بیوی کی آواز گونجی۔ ’’بھاڑ میں گئی نوکری۔ یہاں اتنے دِنوں سے میرے بچّے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور تمہیں میرے آرام و سُکون کی پڑی ہے۔ اس کو اس حالت میں چھوڑ کرمجھے ایک پل چین نہیں آسکتا اور تم چاہتی ہو کہ مَیں دوسرے کمرے میں جاکرسو جاؤں۔‘‘ بوڑھے کو خود اپنے الفاظ یاد آئے اور کھانستے کھانستے اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں ۔ وقت کے سکّے پر پھر آج کا منظر تھا۔

’’آج‘‘کا دوسرا منظر:’’بیٹا! میری عینک منّے نے کھینچ کر توڑ دی تھی۔ کئی دِن سے اخبار پڑھنے میں بڑی دشواری ہورہی ہے۔ مَیں نے پہلے اس لیے نہیں بتایاکہ مہینے کی آخری تاریخیںتھیں۔ ہوسکے، تو آج میری دوسری عینک بنواتے لانا، اب تو تن خواہ بھی مل گئی ہوگی تمہیں۔‘‘ بوڑھے باپ نے آواز دے کر کام پر جاتے بیٹے کو روک کر کہا، تو وہ جیسےپھٹ ہی پڑا، ’’ابّاجی! ہزار بار کہا ہے کہ مجھےگھر سے نکلتے ہوئے مت ٹوکا کریں ، مگر آپ کو تو ہمیشہ بس یہی وقت ملتا ہے، سارے کام بتانے کے لیے۔اور عینک تو مَیں نے ابھی کچھ مہینے پہلے ہی بنواکر دی تھی،مگر آپ کو کیا فرق پڑتا ہے،کون سا آپ کی جیب سے پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ 

پورے آٹھ سو روپے کی بنی تھی پچھلی بار۔ ابھی تو میرے پاس بالکل گنجایش نہیں ہے۔ اگلے ماہ بنوادوں گا، اگر گنجایش نکلی تو۔ ویسے بھی اگرآپ نے دو تین ماہ اخبار نہیں پڑھا تو دُنیا تباہ نہیں ہوجائے گی۔‘‘ بیٹا تقریر کرکے بھنّاتا ہوا گھر سے نکل گیا۔ اور باپ کی آنکھیں آنسوؤں سے مزید دھندلی ہوگئیں۔ یہ تھا آج کا منظر، لیکن بوڑھی آنکھیں تو خلاؤں میں کہیں کوئی اور ہی منظر ٹٹول رہی تھیں، جو بِناعینک بھی بالکل صاف نظر آ رہا تھا۔ وقت کے سکّے کے دوسرے رُخ پر الگ ہی منظر تھا۔ اس منظر میں وہ بوڑھا نہیں، جوان تھا ۔ اس کی بیوی اس کے چھوٹے سے بچّے کے پیچھے اُسے پیٹنے کے لیے دوڑ رہی تھی۔ 

بچّہ بھاگ کر اس کے پاس آگیا اور اس نے بچّے کو اپنی بانہوں میں چُھپالیا ،پھرگرج کر بولا،’’کیا بات ہے، کیوں اس معصوم کے پیچھے پڑی ہو؟‘‘ بیوی نے بے بسی سے جھنجھلاتے ہوئے جواب دیا،’’کل جو آپ اس کے لیے نئی چپّل لائے تھے، اس نے آج توڑ بھی ڈالی ہے۔ مَیں اسے نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ وہ ہنس پڑا اور بولا،’’ بس اتنی سی بات۔یہ تو میرے دِل کا ٹکڑا ہے، اس پر تو میری جان قربان ہے۔ اس چپّل کی حیثیت ہی کیا تھی۔ مَیں آج ہی دوسری دلادوں گا اپنے بیٹے کو۔‘‘ آنسو بہاتی بوڑھی آنکھیں جانے کب تک یہ منظر دیکھتی رہیں۔

پُرانی نسل کے ہم لوگوں میں سے ہر ایک کے پاس جانے کتنے ایسے مناظر ہیں۔ یہ صرف ’’آج‘‘ کو دیکھنے والی نئی نسل نہیں جانتی۔ یہ منظر اور ان جیسے جانے کتنے مناظر، کسی ایک گھر کے نہیں، کیوں کہ وقت کا سکّہ تو ہر گھر میں چلتا ہے، تویہ منظر بھی ہر گھر کے ہیں۔ جہاں کہیں بھی ایک بوڑھا باپ اپنے بچّوں کو پروان چڑھانے کی خاطر اپنی جوانی کی ساری توانائیاں لٹا کر، زندگی بَھر اپنی ساری خواہشات کا گلا گھونٹ کر، دِن رات محنت مشقّت کی بھٹّی میں اپنا آرام و سُکون جھونک کر اپنی اولاد کی توجّہ اور محبّت کے لیے ترس رہا ہے۔ 

افسوس اس اولاد پر، جس کے پاس موبائل فون پر گھنٹوں دوسروں سے باتیں کرنے کے لیے تو وقت ہے، لیکن اپنے بوڑھے والدین سے دو گھڑی میٹھے بول بولنے کی فرصت نہیں۔ اور صد افسوس، اس اولاد پر، جو اپنے والدین کے لیے کچھ کرے، تو اُن کے زندگی بَھر کے احسانات فراموش کرکے اُس کا احسان جتائے۔