آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مفتی محمد نعیم۔ ملک ایک عظیم عالم دین سے محروم

معروف عالم دین اور جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتمم اعلیٰ مفتی محمد نعیم گزشتہ دنوں اِس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ اُن کی وفات کی خبر نے مجھ سمیت پورے ملک کو دکھی کردیا۔ مفتی محمد نعیم 1958ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے خاندان کا تعلق بھارتی ریاست گجرات کے علاقے سورت سے تھا اور آپ کے خاندان نے تقسیم ہند سے قبل پاکستان ہجرت کی۔ مفتی نعیم نے ابتدائی مذہبی تعلیم اپنے والد قاری عبدالحلیم اور اعلیٰ تعلیم جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹائون سے حاصل کی جہاں سے وہ 1979ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 16 سال تک انہوں نے جامعہ بنوریہ میں بطور استاد خدمات انجام دیں جس کی بنیاد اُن کے والد قاری عبدالحلیم نے رکھی تھی۔ مفتی محمد نعیم نے دینی تعلیمات کے ساتھ جامعہ کراچی سے اسلامی تعلیمات پر پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی مگر وہ خود کو ڈاکٹر کے بجائے مفتی کہلوانا پسند کرتے تھے۔ مفتی محمد نعیم 7 کتابوں کے مصنف اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ پاکستان کے دیگر مدارس کے مہتمم کی نسبت مفتی محمد نعیم اپنا سافٹ امیج رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ میڈیا میں بھی مقبول تھے اور اُنہیں مذہبی معاملات کے علاوہ سماجی مسائل پر بھی میڈیا کے ٹاک شوز میں مدعو کیا جاتا تھا۔

کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں واقع 12 ایکڑ رقبے پر محیط جامعہ بنوریہ العالمیہ کا شمار پاکستان کے بڑے مدارس میں ہوتا ہے جہاں تقریباً 8 ہزار سے زائد طلبا و طالبات زیر تعلیم اور رہائش پذیر ہیں۔ جامعہ بنوریہ میں طلباو طالبات مذہب کی ابتدائی تعلیم سے لے کر عالم یا عالمہ بننے تک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور انہیں اسلامی تعلیمات کے ساتھ کمپیوٹر سمیت دیگر جدید تعلیم بھی فراہم کی جاتی ہے جبکہ چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد مفتی محمد نعیم نے اپنے مدرسے میں چینی زبان آسان کورس کا آغاز بھی کیا۔ جامعہ بنوریہ میں ایک بڑی تعداد امریکہ، برطانیہ، چین، تھائی لینڈاور افریقی ممالک سمیت 52 ممالک کے طلبا و طالبات کی بھی ہے اور اِن ممالک کے سفیر گاہے بگاہے جامعہ بنوریہ کے دورے اور مفتی نعیم سے ملاقات کیلئے آتے رہتے تھے۔

مفتی محمد نعیم سے میرے قریبی برادرانہ تعلقات تھے اور اُن کی شخصیت میرے لئے انتہائی قابل احترام تھی۔ جامعہ بنوریہ میری فیکٹری کے مدمقابل ہونے کے باعث میں اکثر نماز جمعہ مفتی نعیم کے ساتھ ہی ادا کرتا تھا۔ مفتی نعیم پر کئی بار قاتلانہ حملے ہونے کے باعث اُن کی اور مدرسے کی سیکورٹی سخت رہتی تھی جبکہ نماز جمعہ کے وقت مدرسے کے اطراف متعدد سیکورٹی اہلکار موجود رہتے تھے۔ کئی بار لوگوں نے مجھے اور میرے بھائی اختیار بیگ کو مفتی محمد نعیم کے ہمراہ نماز جمعہ نہ پڑھنے کا مشورہ دیا مگر ہم نے کبھی اِس پر توجہ نہ دی۔ اگر ہم سفر کے باعث مفتی نعیم صاحب کے ساتھ نماز جمعہ نہ پڑھ پاتے تو وہ مجھے فون کرکے نہ آنے کی وجہ دریافت کرتے تھے۔ میں اکثر مفتی نعیم سے اپنے کالم اور دیگر مذہبی معاملات پر رہنمائی حاصل کرتا تھا۔ مراکش کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے مراکش کے بادشاہ کی تاج پوشی کی سالگرہ تقریب میں مدعو کرنے پر وہ ہر سال شرکت کرتے تھے اور اکثر مجھے کہتے تھے کہ وہ کبھی میرے ہمراہ مراکش ضرور جائیں گے۔ مفتی محمد نعیم میرے فلاحی ادارے میک اے وش پاکستان سے بھی بہت متاثر تھے۔ کچھ سال قبل جب خون کے کینسر میں مبتلا 12سالہ سیما شاہد نے میک اے وش پاکستان سے عالمہ بننے کی اپنی آخری خواہش کا اظہار کیا تو مفتی نعیم صاحب نے بچی کی خواہش کی تکمیل کیلئے جامعہ بنوریہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا اور بچی کو مدرسے میں عالمہ کی طالبہ کی حیثیت سے داخل کرکے اُس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔

مفتی محمد نعیم کا شمار ایسے عالم دین میں ہوتا تھا جن کے ہاتھوں سینکڑوں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ اُن میں سے ایک غیر مسلم کے اسلام قبول کرنے کا میں خود بھی گواہ ہوں۔ کچھ عرصہ قبل بیرون ملک مقیم میرے کزن ایک غیر مسلم لڑکی سے شادی کے سلسلے میں لڑکی کے ہمراہ پاکستان آئے تو میں نے مفتی نعیم صاحب سے درخواست کی کہ وہ لڑکی کی خواہش پر اُسے دائرہ اسلام میں لائیں اور اُس کا نکاح پڑھائیں۔ مفتی صاحب نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود اگلے روز ہی اِس نیک کام کیلئے ہمیں وقت دیا اور اِس طرح ایک غیر مسلم لڑکی کو دائرہ اسلام میں داخل کرکے اُس کا نام عائشہ تجویز کیا اور اُس کا نکاح میرے کزن کے ساتھ پڑھایا ۔ مفتی محمد نعیم کی باتوں میں اتنا اثر تھا کہ نومسلم عائشہ نے دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی نماز روزے پر سختی سے عمل شروع کردیا اور وہ باقاعدگی سے روزے رکھا کرتی ہے۔ گزشتہ روز جب میں نے عائشہ کو فون کرکے مفتی نعیم صاحب کی وفات کے بارے میں بتایا تو وہ زار و قطار رونے لگی۔

مفتی محمد نعیم کی نماز جنازہ ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے پڑھائی۔ میں جب نماز جنازہ میں شرکت کیلئے سائٹ ایریا پہنچا تو وہاں لوگوں کا جم و غفیر دیکھ کر میں نے دور گاڑی کھڑی کرکے نماز جنازہ ادا کی۔ مفتی محمد نعیم کے بڑے صاحبزادے مولانا نعمان نعیم جنہیں جامعہ بنوریہ العالمیہ کا مہتمم مقرر کیا گیا ہے، نے مجھے بتایا کہ اُن کے والد کی نماز جنازہ میں دو لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ مفتی محمد نعیم کو جامعہ بنوریہ قبرستان میں اُن کے والد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ انہوں نے سوگواروں میں بیوہ، دو بیٹے مولانا نعمان نعیم، مولانا فرحان نعیم اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ مفتی محمد نعیم کی وفات سے ملک ایک عظیم عالم دین سے محروم ہوگیا جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔