آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میں نے خودکشی کرنے کا سوچ لیا تھا، منوج باجپائی

معروف بھارتی اداکار منوج باجپائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے خودکشی کرنے کا سوچ لیا تھا لیکن اُن کے دوستوں نے انہیں خودکشی کرنے سے روک دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد سے انڈسٹری میں اقربا پروری اور ڈپریشن کے باعث خودکشی پر بحث چل رہی ہے۔ بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے اداکار منوج باجپائی نے بھی اپنی خودکشی کے حوالے سے اہم انکشاف کیا ہے۔

تصویر اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک ’official humans of bombay ‘ نامی اکاؤنٹ کی جانب سے منوج باجپائی کی ایک تصویر شیئر کی گئی ہے اور اُن ہی کی طرف سے کیپشن لکھا گیا ہے کہ میں ایک کسان کا بیٹا ہوں، میری پرورش بہار کے ایک گاؤں میں ہوئی ہے، ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ ہم نے نہایت سادہ زندگی گزاری ہے لیکن اس کے باوجود ہم جب بھی شہر جاتے تو تھیٹر لازمی جایا کرتے تھے۔

منوج باجپائی نے بتایا کہ میں بچپن سے امیتابھ بچن کا بہت بڑا مداح تھا اور اُن ہی کی طرح بننا چاہتا تھا۔ 9 سال کی عمر میں مجھے اندازہ ہوا کہ اداکاری میری منزل تھی لیکن میں اداکار بننے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ پڑھائی کے لیے میرے پاس پیسے نہیں تھے۔

View this post on Instagram

“I’m a farmer’s son; I grew up in a village in Bihar with 5 siblings–we went to a hut school. We led a simple life, but whenever we went to the city, we’d go to the theatre. I was a Bachchan fan & wanted to be like him. At 9, I knew acting was my destiny. But I couldn’t afford to dream & continued my studies. Still, my mind refused to focus on anything else, so at 17, I left for DU. There, I did theatre but my family had no idea. Finally, I wrote a letter to dad–he wasn’t angry & even sent me Rs.200 to cover my fees! People back home called me ‘good for nothing’ but I turned a blind eye. I was an outsider, trying to fit in. So, I taught myself English & Hindi–Bhojpuri was a big part of how I spoke. I then applied to NSD, but was rejected thrice. I was close to committing suicide, so my friends would sleep next to me & not leave me alone. They kept me going until I was accepted. That year, I was at a chai shop when Tigmanshu came looking for me on his khatara scooter–Shekhar Kapur wanted to cast me in Bandit Queen! So I felt I was ready & moved to Mumbai. Initially, it was tough–I rented a chawl with 5 friends & looked for work, but got no roles. Once, an AD tore my photo & I’ve lost 3 projects in a day. I was even told to ‘get out’ after my 1st shot. I didn’t fit the ideal ‘hero’ face–so they thought I’d never make it to the big screen. All the while, I struggled to make rent & at times even a vada pav was costly. But the hunger in my stomach couldn’t dissuade my hunger to succeed. After 4 years of struggle, I got a role in Mahesh Bhatt’s TV series. I got Rs.1500 per episode–my first steady income. My work was noticed & I was offered my first Bollywood film & soon, I got my big break with ‘Satya’. That’s when the awards rolled in. I bought my first house & knew…I was here to stay. 67 films later, here I am. That’s the thing about dreams–when it comes to turning them into reality, the hardships don’t matter. What matters is the belief of that 9-year-old Bihari boy & nothing else.” -- HOB with @sonylivindia brings to you the story of Manoj Bajpayee, whose life has come full circle. To watch his award winning performance in Bhonsle, click on the link in bio!

A post shared by Humans of Bombay (@officialhumansofbombay) on


انہوں نے کہا کہ 17 سال کی عمر میں میں نے تھیٹر میں کام کیا لیکن میرے گھر والوں کو اس کے بارےمیں علم نہیں تھا، آخر کار میں نے اپنے والد کو خط لکھا اور اُن سے 200 روپے مانگے اپنی فیس کے لیے جو انہوں نے مجھے دے دیے اور غصہ بھی نہیں کیا۔ جس کے بعد انہوں نے انگریزی اور ہندی سیکھی تاکہ وہ فلموں میں کام کرسکیں۔

منوج باجپائی نے مزید بتایا کہ میں انڈسٹری میں باہر سے آیا تھا اور یہاں فِٹ ہونے کی کوشش کررہا تھا، اس دوران میں نے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلے کی کوشش کی تو 3 بار مجھے ریجیکٹ کردیا گیا جس کے بعد میں نے خود کشی کرنے کا سوچ لیا تھا، ایسے وقت میں میرے دوستوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے دوست میرے ساتھ سوتے تھے ، مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑتے تھےکہ میں کچھ کر نہ بیٹھوں، وہ اُس وقت تک میرے ساتھ رہے جب تک مجھے انڈسٹری میں قبول نہیں کیا گیا۔

اداکار نے بتایا کہ 4 سال کی سخت محنت کے بعد مجھے مہیش بٹ کے ایک ٹی وی سیریل میں کام مل گیا، جس کی ایک قسط کے مجھے 1599روپے ملتے تھے۔ جس کے بعد انہیں بالی ووڈ کی پہلی فلم ’ستیا‘ ملی جس کے بعد میں نے مزید 67 فلمیں کیں اور آج میں یہاں ہوں۔

اقربا پروری پر منوج باجپائی کا کہنا تھا کہ اقربا پروری ہمیشہ ہی رہے گی اور بالی ووڈ میں میرا وجود ہی اقربا پروری کو چیلنج ہے۔

خیال رہے کہ اداکار منوج باجپائی کا شمار بالی ووڈ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی اداکاری کی بدولت انڈسٹری میں مقام بنایا ہے۔

منوج باجپائی کے کیریئر میں ’ستیا‘، ’گینگ آف واسے پور‘ اور ’علی گڑھ‘ جیسی کامیاب فلمیں موجود ہیں اور اب تک یہ 2 بار نیشنل فلم ایوارڈ سمیت دیگر فلمی ایوارڈز بھی جیت چکے ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید